سلسلہ نبوت
تحریر عبد الستار سپرا
اللہ تعالی کا ہم سب پر خصوصی کرم ہے۔ہر وہ تقریب جو درود و سلام کیلئے منعقد کی جائے وہ معمولی تقریب نہیں ہوتی کیوں کہ یہ واحد عمل ہے جو خدا تعالی اور مخلوق میں مشترک ہے،ذات باری کا پسندیدہ عمل سرکار پر درود بھیجنے کا عمل ہے جس میں اللہ تعالی نے انسانوں اور اپنے فرشتوں کو بھی شامل کیا ہے۔یہ خدائی عمل ہے جس میں ہم شریک ہو رہے ہیں۔وجہ تخلیق کائنات سرکار دوعالم نبی آخر الزماں خاتم النبیین ہیں آپ(ص) کے ظہور کے بعد سلسلہ نبوت بند ہوگیا ہے ۔اور قیامت تک امت کی راہنمائی کا مشن اب امت کے حصے میں آ گیا ہے۔خدا تعالٰی کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا کام اب امت کے ذمے ہے۔اور اس عمل کی بہتر انجام دہی کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم خود اپنی زندگیاں سرکار دو عالم (ص) کے بتائے اصولوں کے مطابق گزاریں۔گنہگار سے نفرت نہیں بلکہ محبت کے ذریعے انہیں راہ راست پر لانا ہی مشن نبوی(ص) ہے۔آپ(ص) کو اپنے ساتھ ہونے والی ظلم کا غم ہونے کی بجائے ظلم کرنے والوں کے صحیح راست سے بھٹکنے کا غم ہوتا تھا۔آپ(ص)نے فرمایا جو تم میں سے بہترین اخلاق کا حامل ہوگا وہی بہترین انسان ہوگا۔آج ہم 2 ارب کے برابر مسلمان 2کروڑ آبادی کے سفاک ملک اسرائیل کو اپنے بہن بھائیوں پر بربریت سے روک نہیں پا رہے۔آج ہم اس قابل ہی نہیں ہیں کہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو روک سکیں۔سرکار دوعالم(ص)نے ایک دفعہ صحابہ اکرام سے فرمایا کہ ایک وقت آئے گا کہ کفار مسلمانوں پر ایسے کود پڑیں گے کہ جیسے بھوکے دسترخوان پر کوڈ پڑتے ہیں صحابہ اکرام نے حیرت سے پوچھا کہ حضور ہمارے ماں باپ آپ پر فدا کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہو جائے گی، آپ (ص)نے فرمایا کہ آپکی تعداد اس وقت سب سے زیادہ ہو گی مگر وہ آخرت کی بجائے دنیا کی محبت میں بھٹک جائیں گے۔آج ہم دنیا میں بہترین تقاریر بھی کرتے ہیں مگر عمل کی دنیا میں ہمارا کوئی مقام نہیں ہے۔ہمارا ایمان ہماری زبان کی حد تک محدود ہے۔ہمارےاعمال ہمارے ایمان سے مختلف ہیں۔نبی محترم(ص)راتوں کو رو رو کر ہمارے لئے دعائیں کرتے رہے مگر آج ہم سب کو اپنا محاسبہ کرنا چاھیے۔ہر نبی کو اللہ تعالٰی نے ایک مقبول دعا کی اجازت دی ہے مگر سرکار دوعالم(ص) نے اپنی اولاد کے وفات پر انکی عافیت کیلئے وہ دعا نہیں کی مگر اس دعا کو روز محشر کیلئے موخر کردیا تاکہ اللہ تعالٰی کے حضور اپنی امت کی بخشش کیلئے وہ دعا کریں گے۔آپ(ص)کا فرمان ذیشان ہے کہ تمہارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں جب تک میں اسے اسکی جان،مال ماں،باپ اور اولاد سب سے زیادہ عزیز نہ ہوجاوں،آج اگر ہم کو صحیح معنوں میں سرکار دوعالم سے محبت ہے تو آج ذرا غور تو کریں کہ ہمارے اعمال میں جھوٹ،چوری،حق تلفی سمیت کون سی ایسی کمی ہے جو ہمارے اندر موجود نہ ہو۔آپ(ص) کا بیماری کی حالت میں بھی یہ حکم تھا کی اپنی نماز کا خیال رکھیں مگر کیا آج ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔اگر یہی بات ہے تو سرکار دوعالم کے ساتھ ہماری کونسی نسبت ہے۔محبت کا دعوٰی مکمل ہی تب ہوتا ہے کہ جس کے ساتھ محبت کا دعوٰی کیا جائے اسکی بات کو مانا جائے۔آج ہماری زندگیوں سے سرکار کی سنت صحیح معنوں میں رخصت ہو گئی ہے۔جس دنیا میں ہم بھٹکے ہوئے ہیں اسکے بارے میں حضور نبی کریم نے فرمایا جو رشتہ سب سے پہلے مرنے کے بعد آپ کا ساتھ چھوڑتا ہے وہ آپکا مال ہے اسکے بعد رشتہ دار انسان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور جب وہ رخصت ہوتے ہیں تو پھر اسکا ساتھ اسکے اعمال کے ساتھ ہمیشہ کیلئے ہوتا ہے اگر اعمال صالح ہیں تو بہترین زندگی کی شروعات ہوجائے گی اور اگر اعمال برے ہیں تو پھر ابدی مشکلات ساتھ ہوں گی۔حدیث پاک ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اس دنیا کی حیثیت گندگی کے ڈھیر پر پڑے بکری کے بچے کی تعین شدہ نعش سے بھی کم ہے۔یہ ہم سب کیلئے پیغام فکر ہے۔سرکار دوعالم(ص) کے دنیا سے وصال کے وقت گھر میں تیل بھی نہیں تھا کہ گھر کو چراغ جلا کر روشن کیا جاسکتا۔آئیے مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لے کے آئیں تاکہ ہر دیکھنے والا یہ کہے کہ یہ سرکار کا غلام ہے۔نفرتوں کو ختم کریں محبتیں بانٹیں۔جس نے کلمہ پڑا ہے اسکے ایمان کا فیصلہ اللہ تعالی نے کرنا ہے نہ کہ ہم نے ذاتی حیثیت پہ یہ فیصلے کرنے ہیں۔ہمیں امت کے ذہن میں پیدا کی جانے والی نفرت کا خاتمہ کرنا ہے۔آج سے 6سال پہلے ایک گروہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت پھیلائی اسکے بدلے میں اس شخص پر قاتلانہ حملہ کروایا گیا کہ جس شخص کی ماں نے ناموس رسالت کا قانون پاس کروایا۔مسلمان تو مسلمان آپ کسی کافر کی زندگی بھی نہیں لے سکتے۔ریاست میں یہ کام عدالتوں کے ہیں نہ کہ محلوں کے اندر ہم خود قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیں۔کچھ لوگ دین کے نام پر اپنی سیاست کو چمکاتے ہیں ہمیں ان لوگوں سے بچنا ہے۔جس نبی کا معجزہ قرآن مجید ہے آج اگر اس نبی کی امت جہالت کے گڑھے میں پڑی ہے تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔قرآن مجید نے ہمیں آسمان اور زمین کے درمیان تمام چیزوں کو مسخر کرنے کا حکم دیا ہے مگر آج امریکہ،چین اور روس سمیت سبھی اقوام اس فیلڈ میں ہیں مگر ہمارا بحثیت امت کہیں کوئی نشان نہیں۔ہمیں بحثیت مسلمان اپنا کام اس احسن انداز سے کرنا چاھیے کہ سرکار دوعالم کہ خوشنودی حاصل کرسکیں۔









