آج کا دن جب قیامت صغری تھی۔

تحریر عمران مہدی

بلند تر چیخوں سے دل دہل گئے۔ در ودیوار لرز اٹھے ۔ کہرام برپا ہوا۔۔ہر آنکھ اشکبار ۔۔ہر چہرہ سوگوار ہو گیا۔۔ سب پر سکتہ طاری۔۔ہر گھر صف ماتم۔۔ہائے جوانی ہائے قلب علی ہائے میرے اللہ کی دردناک دھاڑوں نے قیامت صغری برپا کر دی۔

ماں کی آنکھیں پتھرا گئیں۔بینائی ختم ہو گئی چارپائی پہ ہاتھ مار کر کہتی تھی میرا قلب کہاں ہے۔ بیوی کی تڑپ فلک تلک سب کو رلا گئی ۔بھائیوں کی کمر دوستوں کا مان ٹوٹ گیا۔جم غفیر کی آہوں سسکیوں میں دفن ہوا اور اعصاب پہ ایک گہری تاریک سیاہ شب ہمیشہ کے لیے چھا گئی۔

برادری کے بخت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہوا۔ایک انجانے شخص نے فون کر کے مجھے کہا بھائی فیسبک پہ جس حسیں جواں کی تصویر لگائی ہے اس کی ماں زندہ ہے یا مر گئی ہے۔۔اللہ اکبر

1986کی کوئی ساعت عظیم ماں کی کوکھ سے جنم لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عظیم ہوتی ہیں وہ مائیں جو بچوں کی زبردست تربیت کر کے مہذب بنا کے معاشرے کے حوالے کر دیتی ہیں۔

1991رحیم بخش کے قاعدے سے میں نے الف ب کا سبق دیا انگلی پکڑ کے چھوٹا بھائی بنایا۔ ہر کلاس میں فرسٹ پوزیشن لیتا والدین کا نام روشن کرتا 2004 میں روڈو سلطان ہائر سکینڈری سکول میں فرسٹ اور Fsd بوڑڈ میں تیسری پوزیشن لے کر گولڈ میڈل حاصل کیا۔ علاقہ و سکول کا نام روشن کر گیا۔

کرکٹ کی دنیا میں تباہ کن باولر ثابت ہوا ۔ بیٹنگ میں میرے ساتھ اوپننگ کرتا سب کے چھکے چھڑاتا فتح کا ضامن بن جاتا تھا۔

تین سال بحثیت ٹیچر کمال استادوں میں نام داخل کروا گیا۔ NCHD میں آفیسر بن کے ایک سال راہنمائی کرتا رہا ۔

پھر 2010 میں کوریا روانہ ہوا۔ غریب خاندان کا چشم وچراغ آڑان بھر گیا ۔۔ بھائیوں اور والدین کا سہارا دوستوں کی ضرورتیں پوری کرتا چلا گیا ۔

2014کے آخر میں رشتہ ازواج میں منسلک ہوا۔ چار ماہ بعد پھر کوریا لوٹ گیا۔ وہ برادری و غریبوں کا بڑا ہمدرد بن کے اٹھا ۔جذبہ کا سب سے بڑا ڈونر اور چک کے ہر غریب گھر کا آسرا بن گیا۔ حسن۔۔ رنگ۔۔ جوانی
گھر ۔۔بزنس۔۔یار۔۔۔عزت احترام ۔۔ مسکراہٹ ۔۔۔اخلاق مروت سب کچھ تھا ۔

پھر کاتب تقدیر نے اگلے صفحے پہ زوال لکھا۔ آنے سے دو ماہ قبل ایک فون نے قلب کو چونکا دیا کہ اس کے بیٹے عباس علی کو بلڈ کینسر ہے۔۔دو ماہ بعدفلائٹس کے کھلتے بدبخت گھر روانہ ہوا۔

ان دیکھی کرونا موت کھربوں کی تعداد نے ویلکم کیا ۔۔۔دس سال پردیس گزارنے کے بعد دس دن سکھ کا سانس ناں لے سکا کہ قلب علی کا عظیم بابا اچانک اللہ کو پیارا ہوا ۔ جنازہ پڑنے کے بعد بابا قبرستان اور قلب نشتر ہسپتال کی اور چلا ۔

28دن بقا کی جنگ لڑتا ۔۔سانسوں کی بحالی کی کروٹ بدلتا ۔۔۔ اعصاب پہ سہانے خوابوں کو چکنا چورہوتے دیکھتا ۔۔۔۔۔ کبھی بلڈ کینسر میں مبتلا بیٹے کو دیکھتا کبھی سالوں سے انتظار کرتی بیوی کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھتا خالق حقیقی سے جا ملا ۔۔عمران مہدی کے تیس سالا تعلق پہ قیامت گزر گئ

لیڈی ڈاکٹر نے یہ نہیں کہا کہ مریض expire ہوا بلکہ ڈاکٹر کی چیخیں مرگ قلب کا اعلان کر گئیں۔