میرا والد میرا محسن

تحریر مصطفی علی قریشی

دکھ یہ ہے میرے یوسفؑ و یعقوبؑ کے مالک
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
پہلی برس والد محترم
حسن رضا قریشی مرحوم ومغفور
10نومبر 2023
آج میرے پیارے والد کو اس جہان فانی سے کوچ کئے ہوۓ 1 سال مکمل ہو گیا ہے مجھے اچھی طرح یاد ہیں 9 نومبر رات 10 بجے جب انکی طبعیت خراب ہوئی تو میں ڈیوٹی آف کر کے واپس اپنے روم ہر جا رہا تھا تو مجھے اچانک گھر سے کال موصول ہوئی کہ پاپا کی طبیعت خراب ہے ہم ملتان نشتر ہسپتال لے کر جا رہے ہیں حسب معمول میں ڈیوٹی آف کرنے کے بعد اپنے ہاسپٹل کی کینٹین سے کھانا کھا کر جاتا تھا لیکن کال موصول ہونے کے بعد میں نے کھانا نہیں کھایا اور خاموش،پریشانی کی حالت میں کمرے پر پہنچ گیا کمرے پر پہنچا تو سب لوگ چھٹیوں پر گھر گۓ ہوۓ تھے فلیٹ بلکل ویران تھا میں اکیلا تھا اور میرے ساتھ خاموش رات تھی وہ رات میرے لیے قیامت سے کم نا تھی موسم خراب تھا باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور اندر میرے آنکھوں سے آنسووں کی بارش ہو رہی تھی لمحہ با لمحہ اپڈیٹ لے رہا تھا ساری رات میں نہیں سویا صبح 8 بجے کال موصول ہوئی کہ پاپا وفات پا گۓ ہیں وہ کال نہیں بلکہ میری یتیمی کی صدا تھی اپنے گھر سے دور،اکیلا تھا بہت پریشان تنہائی میری ہمسفر بنی اور میں گھر کی جانب روانہ ہوا راستے میں ایک ایک منٹ میرے لیے ایک سال کے برابر تھا آخر کار طویل انتظار کے بعد میں گھر پہنچا تو آگے قیامت برپا تھی میرے سر سے میرے باپ کا سایہ اٹھ چکا تھا میں یتیم ہو چکا تھا جو دکھ مجھے ساری زندگی رہنا ہے وہ دکھ یہ ہے کہ میری اپنے ابو سے آخری ملاقات 2 مہینے قبل ہوئی تھی مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میری آخری ملاقات ہو گی
محسن وہ میری آنکھ سے اوجھل ہوا نا جب
سورج تھا میرے سر پر مگر رات ہو گئی
دنیا میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو آپکے ماں باپ کی کمی کو پورا کر سکے یہ انمول رشتے ہوتے ہیں ماں باپ ایسا رشتہ ہے جسکا نعم البدل نہیں اگر آپکو زندگی میں ماں باپ کی خدمت کا موقع ملے تو تمام دنیاوی کام چھوڑ کر اپنی ماں باپ کی خدمت کرنا عظیم ہیں وہ لوگ جنھیں زندگی میں ماں باپ کی خدمت کا موقع ملتا ہے لوگ کہتے ہیں کہ صبر آ جاتا ہے لیکن صبر نہیں آتا بس ہمارا بس نہیں چلتا میں نے 365 دن اذیت تکلیف میں گزارے ہیں ایک ایک لمحہ میرے لیے قیامت سے کم نہیں تھا اور یہ جدائی کا غم مجھے تا زندگی رہے گا یہ ایسا زخم ہے جو تازندگی تازہ رہے گا خدا والد محترم کے درجات بلند فرماے اور انکو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے دعا ہے مولا پنجتنؑ پاک کی شفاعت نصیب ہو آمین ثم آمین آپ تمام احباب سے اپیل ہے کہ میرےوالد محترم کے لیے مغفرت کی دعا کریں شکریہ۔
بقول قتیل شفائی۔
آج تک دل کو ہے اس کے لوٹ آنے کی امید
آج تک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ
لاکھ چاہا کہ اس کو بھول جائوں قتیلؔ
حوصلے اپنی جگہ ہیں، بے بسی اپنی جگہ
خاکسار: مصطفی علی قریشی