گمنامی سے شہرت کی بلندیوں تک کا سفر۔۔۔

تحریر مصطفیٰ علی قریشی

میرا پہلے دن سے یہی موقف ہے کہ رانا شہباز احمد خاں ایک محنتی اور مخلص سیاستدان ہے اور اسکا عملی ثبوت آپ سب کے سامنے ہے عملی سیاست کا اغاز کیا تو مدمقابل بڑے بڑے نام تھے جو قیام پاکستان سے قبل سیاست میں تھے اور علاقے کے مظبوط سیاسی حریف تھے جنھیں شکست دینا ایک بڑا چیلنج تھا عوامی راۓ یہی تھی کہ رانا شہباز احمد انھیں شکست نہیں دے سکتا چند سو ووٹوں کا امیدوار ہے خود ہی ہار مان جاے گا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ہمیشہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا وقت بدلتے دیر نہیں لگتی اخرکار 2018 کے سونامی میں موروثی سیاست کا خاتمہ کیا اور پہلی بار ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے پھر حالیہ الیکشنز میں مسلسل دوسری تاریخی فتح بھی اپنے نام کی پارٹی پر برا وقت آیا تو بھاگے نہیں،بکے نہیں،ڈرے نہیں،بیرون ملک فرار نہیں ہوے،پریس کانفرنس نہیں کی بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ مشکلات کا سامنا کیا گرفتاریاں،چھاہے،پولیس گردی، جلاوطنی،کا سامنا کیا یہی وجہ ہے کہ اجکل انکا شمار پارٹی کی سنئیر لیڈر شپ میں ہوتا ہے اور پارٹی کے ساتھ وہ ملکی لیول پر بھی مقبول ترین سیاستدان ہیں آے روز میڈیا کی زینت بنے رہتے ہیں اپوزیشن میں رہ کر علاقائی مسائل کو اجاگر کرتے رہتے ہیں چاہیے وہ کسانوں کا معاشی استحصال ہو،اپنے علاقے کی عوام پر ظلم کی داستاں ہو،ڈگری کالج براے خواتین کا مسئلہ ہو، یا دیگر عوامی مسائل ہوں انکو اجاگر کرتے رہتے ہیں اور ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروانے کے لیے دباو بھی ڈالتے ہیں جو قابل تعریف ہے یہی وجہ ہے کہ سیاسی مخالف بھی اس فعل کی تعریف کرتے ہیں لیکن اہم بات جو یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ رانا شہباز احمد خاں جسطرح آپ اپوزیشن میں رہ کر مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اگر اقتدار حاصل ہوتا ہے تو آپ ایسے تاریخی کام ضرور کرنا تاکہ ایک بہترین مثال قائم ہو اور خاص طور پر اپنے مخلص ورکر،حلقے کی عوام سے دوری اختیار مت کرنا کیونکہ عوام نے آپ سے بہت سی امیدیں وابستہ کی ہوئی ہیں عروج اور شہرت کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے حلقے کی عوام اگر 100 سالہ سیاست کا خاتمہ کر سکتی ہے تو اس عروج و شہرت کا بھی خاتمہ کر سکتی ہے عوام سے قربت بڑھاہیں اور کوئی ایسا کام کریں کہ آپکا نام تاریخ میں ہمیشہ سنہرے الفاظ کے ساتھ لکھا جاے ۔۔۔
سدا سکھ تے خیر
خاکسار: مصطفیٰ علی قریشی
تجزیہ کار،کالم نگار،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ