غیر معمولی چیلنج اور ریحان اسلم حسان اسلم کی کہانی
تحریر علی امجد چوہدری
یہ دونوں نوجوان بھائی ہیں عمر باالترتیب 24 اور بائیس سال ہے احمد پور سیال میں mobi cafe کی دونوں برانچز کے owner ہیں تین سال قبل یہ موبائل مارکیٹ میں بالکل نئے تھے ان کا سفر گراس روٹ لیول سے شروع ہوا تین سال یہ ارد گرد کے حالات سے بے خبر صرف اپنی دھن میں مگن رہے انہوں نے اپنے لیئے دو بڑے ٹارگٹ سیٹ کیئے یہ دونوں نوجوان بھائی اس trend کی نفی کرنا چاہتے تھے کہ کسٹمر ہمیشہ چھوٹے قصبوں اور دیہات سے بڑے شہروں کی طرف ہی رخ کر سکتا ہے ان کی انتھک محنت نے پرانے narrative کی مکمل نفی کردی کہ کسٹمر بڑے شہر سے چھوٹے شہر کی طرف رخ نہیں کر سکتا حیران کن طور پر mobi cafe کا کسٹمر دارلحکومت اسلام آباد سے بہاولپور تک موجود ہے صرف تین سال کے مختصر عرصے میں موبی کیفے کی دوسری برانچ اس کی واضح طور پر گواہی دے رہی ہے ان کے سامنے دوسرا ٹارگٹ تھا کہ کبھی ایک بھی کسٹمر mobi cafe کی پراڈکٹس کے معیار اور مقدار کے حوالے سے شاکی نہ ہو تین سال کے دورانیئے میں ناقابل یقین کوئی ایک بھی ایسا کسٹمر نہیں ملے گا جو شاکی ہو یہ ایسی achievements ہیں جنہیں ناقابل یقین ہی کہا جا سکتا ہے مگر چوہدری محمد اسلم میئو کے ان دونوں صاحبزادوں نے impossible کو possible کر دکھایا
شہر کے ان دو سپوتوں کو خراج تحسین پیش کیا وہ اس لیئے کہ جنہوں نے بڑے شہروں کے کسٹمرز کا رخ میرے شہر کی طرف کیا وہ پورے شہر کے محسن ہیں اور خراج تحسین ان کا حق بنتا ہے
اور ہاں mobi cafe کے ان دونوں بھائیوں کا یہ چیلینج بھی یاد رہنا چاہیئے کہ ان کی طرف سے فروخت کیئے گئے آئی فون اور اینڈرائڈ پورے پاکستان میں سب سے قیمت پر تو ہوتے ہیں اور ساتھ ہی بغیر کسی فنی خرابی کے بھی
علی امجد چوہدری










