ایماندار انسپکٹر میاں اسلم # اشتہاری کے گھر چھاپہ #کہانی پانچ سو روپے کی اور انسانیت
تحریر علی امجد چوہدری
میاں اسلم پنجاب پولیس کے ایس ایچ او رہے ہیں میں نے زندگی میں اتنا سادہ ایس ایچ او نہیں دیکھا یہ تین سال قبل تھانہ احمد پور سیال کے ایس ایچ او بھی رہے یہ ایک ماہ سے بھی کم عرصہ احمد پور سیال بطور ایس ایچ او فرائض سر انجام دے سکے ان کے پاس اپنی گاڑی نہیں تھی یہ بطور ایس ایچ او ویگن پر آیا کرتے تھے ایک شام میں اپنے انتہائی قریبی ساتھی حجاز علی بٹ اور امجد خان ڈھول کے ہمراہ ان سے ملنے گیا یہ اپنے کمرے میں موجود نہیں تھے محرر سے استفسار پر معلوم ہوا کہ فرنٹ ڈیسک والے کمرے میں کھانا تناول کر رہے ہیں کمرے میں پہنچے تو اپنے سامنے تھانہ احمد پور سیال کے باورچی وریام کی پرانی سی چھابی اور پرانی سی پلیٹ میں دال لیئے تناول کر رہے تھے اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی حیران کن منظر تھا اور تجسس بھی عروج پر تھا پوچھا میاں صاحب یہاں روسٹ کے ڈھیر لگ جاتے مگر صرف دال پر اکتفا روٹی چباتے ہوئے ایک لمحے کے لیئے رکے میری طرف دیکھا اور زیر لب مسکراتے ہوئے بولے چوہدری صاحب حلق سے اترتے ہی روسٹ اور دال ہے ایک جیسا ہو جانا ہے مگر یہ روسٹ نجانے کتنے مجبوروں پر بھاری پڑ سکتا ہے
یہ مناظر مجھے آج رہ رہ کر یاد آیا جب ایک ویڈیو میں راوی کی ملاقات سرارہ ڈھابے پر ایک انسپکٹر سے ہوئی جو دال سے روٹی کھانے سائیکل پر آیا تھا راوی کے استفسار پر اس نے بتایا کہ دو سال پہلے وہ اتنا سادہ نہیں تھا مگر ایک واقعہ نے اسے سادہ بنا دیا اس انسپکٹر کے مطابق اس نے اپنی نفری کے ہمراہ علی الصبح ایک اشتہاری کی گرفتاری کے لیئے چھاپہ مارا گھر کا دروازہ اشتہاری کی سات سالہ معصوم نے کھولا جس کے پاس جنوری کی شدید سردی میں تن کو ڈھانپنے کے لیئے لباس بھی پورا نہیں تھا گھر میں تیز کھانستی ایک پچھتہر سالہ بڑھیا اور ایک تیس سالہ خاتون چار معصوم بچوں سمیت موجود تھیں ایک اشتہاری کی ماں اور دوسری بیوی تھی بیوی کے ہاتھ میں ایک ڈیڑھ سالہ بچہ تھا جسے بخار تھا اور اس خاتون نے اسے جنوری کی سردی میں اپنے دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا گھر میں سبزی پیاز گھی حتی کے نمک تک نہیں تھا اس انسپکٹر نے مزید کھوج لگانے کے لیئے کہا کہ ہم بھوکے ہیں ہمیں کھانا ہی کھلا دیں جسے سن کر یہ دونوں خواتین رو پڑیں کہ ہم نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا ہمارے پاس دو دن پہلے پانچ سو روپیہ تھا جسے ایک کانسٹیبل ڈرا دھمکا کر ہم سے لے گیا انسپکٹر کے مطابق وہ خاتون کی گود میں موجود بچے کی طرف بڑھا جسے وہ بیمار بتا رہی تھی مگر وہ بچہ مر چکا تھا اور ماں اس کے سرد جسم سے مطمئن تھی کہ بخار اتر چکا تھا
یہ دو واقعات ہمارے معمول ہیں ایک میں انسپکٹر اپنی گاڑی نہیں رکھتا ویگن پر جھنگ سے تھانہ احمد پور سیال آتا ہے اور دوسرے میں کانسٹیبل ایک مجبور گھرانے سے ان کے بچوں کو بھوکا چھوڑ کر ڈرا دھمکا کر پانچ سو لے آتا ہے
محکمہ ایک ہی ہے بس مقدر کی بات ہے کوئی اللہ کی خوشنودی لیئے جا رہا ہے اور کوئی جہنم کے ٹکٹ
آپ اپنی زندگی ضرور پرتعیش گزاریں مگر یہ ضرور غور کریں کہ کہیں آپ کی پرتعیش زندگی بھوکوں پر تو بھاری نہیں پڑ رہی
علی امجد چوہدری










