معصومیت کے قاتل والدین
تحریر: سدرہ بنت منور
والدین ایک ایسا پیارا رشتہ ہے جن کا سایہ انسان کو پیار محبت اپنائیت تحفظ اور خوشی کا احساس دیتا ہے لیکن کیسا ظلم ہوتا ہے جب یہی والدین اپنی اولاد کے دشمن بن جائیں۔ یہ چونکا دینے والی بات ہو گی کہ والدین بھی کبھی اپنی اولاد کے دشمن ہو سکتے ہیں؟ جی بالکل آج ہمیں ہر گھر میں اپنی اولاد کے دشمن ملیں گے۔ آج والدین اپنی اولاد کو اچھا کھانا اچھا لباس اچھا سکول تو مہیا کر رہے ہیں لیکن تباہ کر رہے ہیں ان کا اخلاق ان کا کردار ان کی معصومیت ان کا بچپن، اور یہ تباہی ایسی تباہی ہے جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ ہم اس سے بالکل بے پرواہ اور لاعلم ہیں۔ آج کی ماں اپنے سکون کے لیے بچے کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتی ہے اور بہت فخر سے بتاتی ہے کہ میں اس کو کارٹون لگا کے دے دیتی ہوں یا پھر اس کو موبائل پکڑا دیتی ہوں تو یہ بہت سکون سے بیٹھا رہتا ہے۔ یاد رکھیں آپ کا یہ سکون آپ کے بچے کے مستقبل کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔آپ ایک ایسا انسان تیار کر رہے ہیں جو کسی بھی طرح سے معاشرے کا مفید فرد نہیں بن سکتا۔ والدین بچے کی اس تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ جو ذمہ داری اللہ سبحانہ و تعالی نے آپ پر ڈالی ہے اسے سمجھیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ماں کا درجہ ایسے ہی بلند نہیں رکھا اس کے پیچھے وہ تکلیف ہے وہ مشقت ہے جو ماں، باپ کی نسبت زیادہ اٹھاتی ہے۔ تربیت اولاد کی ذمہ داری اللہ سبحانہ و تعالی نے عورت کو دی ہے اور جب عورت اپنے اس فرض سے پیچھے ہٹتی ہے تو پھر نسلوں کی تباہی مقدر بنتی ہے۔ کارٹونز کے ذریعے آپ اپنے بچے کو غیر اخلاقی حرکات بہت غیر محسوس طریقے سے سکھا رہے ہیں۔ وہ زبان جس پر کلمہ توحید ہونا چاہیے وہ انٹرنیٹ پر مختلف کارٹون سرچ کرتے ہوئے کھل رہی ہے اور والدین بہت فخر سے سب کو بتاتے ہیں کہ ہمارا بچہ خود ہی انٹرنیٹ پر سب کچھ ڈھونڈ لیتا ہے۔ بچوں کو موبائل کارٹونز ان چیزوں کے پیچھے لگا کر ہم ان کو ذہنی اخلاقی اور جسمانی طور پر تباہی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔ والدین قاتل ہیں اپنے بچوں کی معصومیت کے آج ان کے معصوم دماغوں میں جو بیچ آپ بوئیں گے اسی کے مطابق پھل ملے گا اگر بچوں کی تربیت صرف کارٹونز اور موبائل کے ذریعے کرنی ہے تو آپ کا بویا ہوا بیج مستقبل میں ایک ایسا تناور درخت بنے گا جس پر سوائے کانٹوں کے کچھ نہیں اگے گا۔ کانٹے بو کر گلاب کی امید رکھنے والا بیوقوف کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ آج ہم مادیت پرستی میں اس قدر کھو چکے ہیں کہ ہم اس چیز سے یکسر بے نیاز ہو چکے ہیں کہ ہمارے بچے کس ڈگر پر چل رہے ہیں اور آنے والا وقت کتنا پرخطر ہے۔ ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے سمجھ رہے ہیں کہ سب ٹھیک ہے۔ تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں اور دیکھیں کیسے ماؤں کی تربیت نے عظیم سپہ سالار، ائمہ، محدثین اور مجاہدین پیدا کیے جن کا نام تاریخ اسلام میں ہمیشہ روز روشن کی طرح چمکتا ہوا رہے گا۔ محمد بن قاسم جن کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم تھا۔ تاریخ اسلام کا ایسا چمکتا ہوا ستارہ جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ محمد بن قاسم ابھی چھوٹے ہی تھے جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کی والدہ نے ان کی تربیت پر بھرپور توجہ دی اور فن حرب کی تربیت بہترین انداز سے کی۔17 سال کے محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا راجہ داہر کو شکست سے دو چار کرتے ہوئے فاتح سندھ کہلائے۔ اس وقت محمد بن قاسم کی عمر 17 سال تھی۔ آج ہمارے 17 سال کا نوجوان کیا کر رہا ہے؟ یہ ایک سوال ہے جس کا جواب ہم ڈھونڈتے ہیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ آج ہمارے سترہ سالہ نوجوانوں کے کیا مشاغل ہیں۔ حرام ریلیشن شپ قائم کرنا۔ انٹرنیٹ پر غلیظ مواد کو سرچ کرنا۔ آج کوئی محمد بن قاسم نہیں بن سکتا۔ آج ہمارے گھر وہ فیکٹریاں بن چکے ہیں جہاں Tik Tokers youtubers، vloggers پیدا ہو رہے ہیں۔ جن کا مقصد صرف پیسہ بنانا اور کنٹینٹ کریٹ کرنا ہے۔ اس میں کیا کر رہے ہیں کیسا کنٹینٹ دے رہے ہیں اس کی فکر نہ بنانے والوں کو ہے اور نہ دیکھنے والوں کو ہے۔ ہمارے بچے اس حد تک خود نہیں پہنچے اس کی پہلی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ جب والدین اپنے بچے کو رب سے نہیں جوڑیں گے۔ جب اس کو دین کی سمجھ نہیں دیں گے۔ جب بچے کی تربیت موبائل اور ٹیلی ویژن کرے گا۔ جب والدین بے نیاز ہو جائیں گے فیس دے کے بچے کو کسی بھی تعلیمی ادارے کے حوالے کر کے جب بچے کو کہانیاں سنائی جائیں گی سپرمین بیٹ مین اور سنٹریلا کی تو پھر بھول جائیں کہ ہماری بچیوں میں سیدہ فاطمہ سیدہ خدیجہ سیدہ زینب جیسی حیا باقی رہے گی یا ہمارے بچے محمد بن قاسم صلاح الدین ایوبی طارق بن زیاد جیسے غیور بنیں گے۔ جب تک والدین میں تبدیلی نہیں آئے گی ہماری نسل تبدیل نہیں ہو سکتیں۔ والدین کا ایسا رویہ بچوں کا اخلاق کردار ان کی شخصیت اور ان کی وہ باطنی سلیم فطرت جس پر ہر بچہ پیدا ہوتا ہے تباہ کر رہا ہے۔ تھوڑا نہیں پورا سوچیں کہ ہم اپنی نسلوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟








