مولانا آصف معاویہ سیال کا پاور شو کیا کھویا کیا پایا
تحریر علی امجد چوہدری
کل یہ تین گاڑیوں کے ساتھ باہو بریج عبور کرکے تحصیل احمد پور سیال کی حدود میں داخل ہوئے اس سے قبل یہ تحصیل احمد پور سیال میں داخل ہونے کے لیئے تحصیل شورکوٹ کا سہارا لیا کرتے تھے شورکوٹ سے ایک کانوائے ان کے ساتھ آتا تھا اور تحصیل احمد پور سیال سے جزوی شمولیت کے بعد ایک مناسب پاور شو بن جاتا تھا
مگر اس بار کی situation قدرے مختلف تھی یہ انتخابات میں شکست کے بعد جزوی حد تک تحصیل احمد پور سیال سے دور تھے اسی دوران یہاں اہم ترین development ہوئیں اس حلقے سے مسلم لیگ ن کے سابقہ پینل میں دراڑ آ گئی نئی صف بندی ہو گئی یہ صورتحال مولانا آصف معاویہ سیال کے لیئے انتہائی خوفناک تھی اور ان کے حامیوں کے لیئے انتہائی مایوس کن بھی اس صورتحال میں نظریں ان کی طرف تھیں کہ ان کی strategy کیا ہوگی انہوں نے احمد پور سیال visit کا فیصلہ کیا یہ انہیں تین گاڑیوں کے ساتھ احمد پور سیال آنا چاہتے تھے مگر اس بار ان کے ساتھی انہیں بھرپور انداز سے لانا چاہتے تھے تین سے چار دن کی تیاری میں ان کے ساتھیوں سابقہ سٹی ناظم رانا جہانزیب علی خان فوجی محمد رمضان آصف بھاگت شیر حیدر سیال شیخ محمد عارف حسن معاویہ جٹ چوہدری صغیر گجر سمیت دیگر نے دسمبر کے وسط کی سردی میں ناقابل یقین تعداد میں عوام کو کلمہ چوک میں لا کھڑا کیا
اب آتا ہوں تصویر کے اہم رخ کی طرف یہ پہلے باہو بریج کراس کرتے تھے تو منتظر افراد میں شامل افراد عام ورکرز ہوا کرتے تھے مگر اس بار ان کے منتظر افراد میں اہم دھڑے شامل تھے ان میں سابق نائب ناظمین حبیب فتح اللہ مظہر خان بلوچ چوہدری سعید آرائیں چوہدری غلام عباس چدھڑ محمد علی جھتیال ڈھارہ قمبر شاہ اور پیر عبد الرحمٰن کے مخدوم صاحبان سلطان باہو کے صاحبزادہ طاہر سلطان گروپ کنڈل کھوکھراں کے محمد عباس سیال شیر حیدر سیال سمیت دیگر مضبوط ترین دھڑے مختلف مواضعات کے نمبرداران کونسلرز شامل تھے اس بار کلمہ چوک پر ان کا میزبان میونسپل کمیٹی کا مضبوط گروپ چوہدری غلام رسول گروپ تھا جھال سے کلمہ چوک کا فاصلہ تقریبا تین کلو میٹر تھا اور اس تین کلو میٹر میں ان کے چھ استقبال ہوئے یہ استقبال دیکھ کر کچھ لوگ اب بھی کہانی کو گزشتہ عام انتخابات کی طرف لے جاتے ہیں تو ان پگلوں کو کون سمجھائے کہ وہ مقابلہ صاحبزادہ امیر سلطان اور مولانا صاحب کا نہیں بلکہ مولانا بمقابلہ عمران خان تھا جہاں پڑوسی حلقرں میں کونسلر سے بھی کم سطح کے افراد لاکھوں ووٹ عمران خان کے نام پر لے گئے وہاں کے نتائج کا موازنہ مولانا بمقابلہ امیر سلطان بنتا ہی نہیں ہے
اور کلمہ چوک میں مولانا کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے اپنا ووٹ ہمیشہ بڑھایا ہے اور تحصیل احمد پور میں انہوں نے اپنے ووٹ کو پینتالیس سے نوے تک لے جانا ہے کوئی مضحکہ خیز بھی نہیں ہے
علی امجد چوہدری









