فضائل مناقب سیدنا صدیق اکبر
تحریر۔ سلیم بٹ ایڈووکیٹ قانونی مشیر سنی علماء کونسل 
22 جمادی الثانی یوم وفات خلیفہ بلا فصل امیر المومنین یار غار یار مزار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زندگی کے دو
مرحلے ہیں پہلا مرحلہ آپ کی پیدائش سے لے کر نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت تک اور دوسرا مرحلہ منصب خلافت سنبھالنے سے لے کر یار مزار تک ۔ جہاں تک پہلے مرحلے کا تعلق ہے اس میں آپ کے جو فضائل ومناقب بیان کی جاتے وہ اکثر آپ علماء کرام سے سنتے رہتے ہیں جبکہ دوسرے مرحلے یعنی منصب خلافت کے بعد کے واقعات کا ذکر بہت کم کیا جاتا ہے حالانکہ وہ واقعات اور اقدامات نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے حکمرانوں کے لئے مشتمل راہ ہیں ۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد بھارتی لیڈر مہاتما گاندھی نے اپنی کابینہ اور اعلیٰ افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ” آپ نئے ملک کے نئے حکمران ہو آپ کو کیسا طرزِ زندگی اختیار کرنا ہے اس ضمن میں مجھے تاریخ عالم میں دو حکمران ایسے نظر آتے ہیں جنہیں رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور وہ ہیں مسلمانوں کے دو خلفاء ابوبکر صدیق اور عمر فاروق اس لئے میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ طرزِ حکمرانی میں ان کی پیروی کریں ۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد جب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالا تو آپ نے جو پہلا خطبہ ارشاد فرمایا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے آپ نے ارشاد فرمایا اگر میں آچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور اگر برا کام کروں تو مجھے سیدھا کر دینا ، تم میں سے جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک اس وقت تک طاقتور ہے جب تک میں اس کو اس کا حق نہ دلا دوں اور تم میں سے جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک اس وقت تک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا چھینا ہوا حق واپس لے کر صاحب حق کے سپرد نہ کر دوں ، جب آپ خلیفہ بنے تو ابتداء میں ہی آپ کو بہت سے مصائب مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ، حضور اقدس خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی وفات بعد مکہ مدینہ اور طائف کے سوا عرب کے بہت سے علاقوں کے مسلمان اسلام کی راہ سے ہٹ گئے بعض مرتد ہو گئے کچھ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا مسیلمہ کذاب وغیرہ نے نبوت کے جھوٹے دعوے کر دئے یہ مصیبت مسلمانوں پر بجلی بن کر گری اگر یہ مصیبت پہاڑوں پر پڑتی تو ریزہ ریزہ ہو جاتے لیکن نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام مشکلات کا نہایت مستعدی اور جرات ایمانی سے کام لیتے ہوئے ان سب کے خلاف جہاد کیا اور تمام فتنوں کا قلع قمع کیا اور اسلام کی عظمت کو دوبارہ بحال کیا ، جہاد کے دوران شہید ہونے والوں میں کافی تعداد حفاظ کرام کی تھی اس لئے آپ نے قرآن پاک کو ایک کتابی شکل میں جمع کیا جس وجہ سے آپ کو جامع قرآن بھی کہا جاتا ہے ، اندرونی فتنوں سے فراغت کے بعد آپ نے دعوت اسلام عام کرنے کے لئے ایران روم عراق اور شام کی طرف اسلامی لشکر روانہ کیے اور کامیابیوں سے ہم کنار ہوئے اسلام کی سرحدیں محفوظ کیں ، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی جدائی میں پہلے ہی غمگین رہتے تھے لیکن بار خلافت نے آپ کو مزید کمزور کر دیا جس وجہ سے آپ بیمار ہو گئے اور 22 جمادی الثانی 13 ہجری کو اللہ کو پیادے ہو گئے اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں دفن ہو کر یار مزار کا شرف بھی حاصل ہو گیا جہاں پر ہر وقت اللہ تعالیٰ کی کروڑوں اربوں رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں ، اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو خصوصی طور پر ہمارے حکمرانوں کو خلیفہ بلا فصل سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین کتابت کی غلطی کی ایڈوانس معزرت ، خاکسار محمد سلیم بٹ ایڈووکیٹ قانونی مشیر برائے مزہبی و سیاسی امور والسلام












