22 جمادی الثانی

تحریر / محمد معاویہ ا عظم

آج 22 جمادی الثانی ہے۔ میں اس وقت مسجد نبوی میں روضۂ مبارک ابوبکر صدیقؓ کے قریب بیٹھا ہوں۔ دل ایک عجب کیفیت میں مبتلا ہے، جذبات کا طوفان ہے، اور آنکھیں عشق و عقیدت سے لبریز ہیں۔ یہاں بیٹھ کر ان عظیم ہستیوں کی قربانیاں، صداقتیں، اور وفائیں یاد آتی ہیں، جنہوں نے اسلام کے لیے ہر شے قربان کر دی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں وہ ہستی آرام فرما ہے، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو وہ ابوبکر ہوتے۔
صدیق اکبرؓ کا کردار، ان کی محبت، اور ان کا اخلاص اسلام کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو قیامت تک رہنمائی کرتا رہے گا۔ دل چاہتا ہے کہ اُن لمحوں کا تصور کروں، جب صدیق اکبرؓ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غارِ ثور میں صداقت و وفا کی وہ مثال قائم کی، جو رہتی دنیا تک ایمان والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اُن کی ہر قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عشقِ رسول ﷺ کا مطلب صرف محبت نہیں بلکہ اپنی جان، مال، اور عزت سب کچھ قربان کر دینا ہے۔ یہاں بیٹھے ہوئے دل دعاگو ہے ۔ یا اللہ! ہمیں صدیق اکبرؓ کی صداقت، وفا، اور قربانی کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ اُن کے عشق کی خوشبو ہمارے دلوں کو معطر کر دے، اور اُن کے ایمان کی روشنی ہماری زندگیوں میں اجالا کر دے۔”

محمد معاویہ اعظم طارق سابقہ ایم پی اے جھنگ
روضۂ ابوبکر صدیقؓ ، مسجد نبوی ﷺ