امریکہ اورچین کےدرمیان رابطے
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدرشی جن پنگ کے درمیان ٹیلی فون رابطہ ہوا ہے۔دونوں صدور نےاسٹریٹجک کمیونیکیشن چینل قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ان صدور کے درمیان یوکرین بحران،فلسطین اسرائیل تنازع پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کو پرامن بنائیں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کوصدارت کا حلف اٹھائیں گےاور جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے،اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بن چکے ہوں گے۔ان صدور کے ایجنڈے میں معیشت،تجارت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم شامل تھے۔یہ رابطہ بتاتا ہے کہ بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہونے والے ہیں۔بیجنگ چاہتا ہے کہ آنے والی حکومت کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں تاکہ مثبت پیشرفت کی طرف بڑھا جا سکے۔چین معاشی اور دفاعی لحاظ سےبہت آگے بڑھ رہا ہے۔معیشت کی مضبوطی اور دفاعی نظام کا مضبوط ہونا کسی بھی ملک کے لیےبہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور چین ان میں بے مثال ترقی کر رہا ہے۔چین کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں بہت تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ان مصنوعات کی کامیابی کئی ممالک کے لیےپریشانی کا سبب بن رہی ہے۔موجودہ رابطہ ہو سکتا ہے بہت سے مسائل حل کر دے۔چین اور امریکہ کے درمیان برسوں سے سردجنگ کا ماحول جاری ہےاور دونوں ایک دوسرے کی طاقت سے خوفزدہ بھی ہیں،اس لیے کوئی واضح جنگ نہیں چھڑ سکی۔چند دہائیاں قبل چین اتنا مضبوط نہیں تھا،لیکن چینی قوم کی جدوجہد نےچین کی عالمی طور پر ریٹنگ بڑھا دی ہے۔چین اب اس وقت اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اس کے ساتھ جنگ چھیڑنا کسی بھی ملک کے لیے انتہائی مشکل بن چکا ہے۔امریکی طاقت کئی ممالک کے لیےبہت بڑاعفریت بنی ہوئی ہےاور کئی کمزور ممالک اس کے نشانے پر ہیں اور ان ممالک میں بہت ہی انتشار پھیلا ہوا ہے۔امریکہ کے نشان پر آنے والے کئی ممالک معاشی طور پر بھی بہت ہی کمزور ہو چکے ہیں۔امریکہ کی نسبت چین کسی ملک کو پریشان نہ کرنےکی پالیسی کواپنائےہوئےہے۔
چین کا سب سے بڑا مسئلہ تائیوان ہےاور امریکہ نہیں چاہتا کہ دوبارہ تائیوان چین کے پاس چلا جائے۔کئی دفعہ تویوں معلوم ہوتا تھا کہ جنگ چھڑنے والی ہے،لیکن دونوں ممالک کو ایک دوسری کی طاقت کا اندازہ تھا اس لیے جنگ نہ چھڑ سکی۔چین کی بجائے اگر کوئی اور کمزور ملک ہوتا تو امریکہ لازما اس پر حملہ کر دیتا اورامریکہ کا ساتھ دینے والے اتحادی بھی اس جنگ میں شامل ہو جاتے۔تائیوان کی عوام سمجھتی ہے کہ چین زیادتی کر رہا ہےاور آزاد ریاست پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔بہرحال اس طرح کےمسائل بہت سے ممالک میں موجود ہیں۔اب اگر امریکہ اور چین کے درمیان برف پگھلتی ہےتو تائیوان کو بیرونی سپورٹ سےمحروم ہونا پڑے گا۔اگر تائیوان بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق اپنی آزادی مانگ رہا ہےتو اس کی عوام کو آزادی دینا،اپنا حق دینے کے مترادف ہے۔اس طرح کے مسائل بہت سی خطوں میں موجود ہیں۔مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کے علاوہ کئی دیگر خطوں میں ایسے مسئلے سنگین اور خوفناک صورت میں موجود ہیں،ان کو حل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔تائیوان کا مسئلہ بھی اگرفوری طور پر حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں بہت سے مسئلے کھڑے ہو سکتے ہیں۔مسئلہ تائیوان سے عالمی جنگ بھی چھڑ سکتی ہے،کیونکہ چین کے خلاف عالمی طور پر ایک اتحاد وجود میں آسکتا ہےاور یہ خطہ جنگ کے لپیٹ میں آ جائے گا۔چین حالیہ دور میں پرامن دور سے گزر رہا ہےاور اس کی پالیسی بھی یہی ہوگی کہ آئندہ بھی امن قائم رہے۔
چین اور امریکہ کے صدورکےدرمیان عالمی امن پر بھی بات ہوئی ہے۔یوکرین اور روس کا بحران بھی سنگین نوعیت میں تبدیل ہو چکا ہے۔روس اوریوکرین کی جنگ کوشروع ہوئے کافی عرصہ ہوگیاہے اور اس کا فوری طور پر رکنے کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا،لیکن امریکہ اور چین کی کوششیں اس جنگ کو روک سکتی ہیں۔امن کے لیے اگر دونوں طاقتیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں تو ان کی تحسین کی جائے۔فلسطین اور اسرائیل تنازع بھی بہت ہی ہولناک صورت اختیار کر چکا ہے۔اب معاہدہ امن ہوا ہے،لیکن اس وقت تک کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کس وقت یہ معاہدہ ٹوٹ جائے،جب اس معاہدے پر عمل درآمد ہوگا تو کہا جا سکتا ہے کہ اب امن آگیاہے۔صدر شی ضرور چاہیں گے کہ امریکہ اور بیجنگ دوست نہ رہیں تو دشمن بھی نہ رہیں۔بیجنگ اورواشنگٹن معیشت اور تجارت کو بہتربنا کرمستقبل کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ان کی معاشی پالیسیاں اگر کمزور ممالک کی معیشت کوکمزور یا ختم کرنے کےدرپےہوگئیں تو عالمی بحران جنم لے سکتا ہےاور شدیدقحط نمودار ہوگا،جو اربوں انسانوں کی زندگی کے لیے خطرناک ہوگا۔یہ ممالک اپنی پالیسیاں اس طرح بنائیں کہ دوسری کمزور معیشتیں بھی اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔سب سے پہلےامن ضروری ہےاور امن کے لیےبہت محنت کی ضرورت ہے۔چین اور امریکہ کمزور ممالک کو بھی اپنے ساتھ چلا سکتے ہیں۔بہرحال امید کی جانی چاہیےکہ دنیا میں پھیلے ہوئے بحران حل ہو جائیں گے۔
امریکہ اور چینی اتحاد کئی کمزور طاقتوں کے لیےخوف بھی پیدا کر سکتا ہے۔اگر بڑے ممالک آپس میں اتحاد کر کےکمزور ممالک کو رگڑا لگائیں توکمزور ریاستیں اپنا وجود برقرار رکھنے میں ناکام ہو سکتی ہیں۔اس بات کا بھی امکان ہےکہ چین اور امریکہ کے تعلقات اس حد تک نہ بڑھیں،جن کےبارےمیں گمان ظاہر کیاجا رہا ہےتویہ ایک دوسرے کےخلاف کاروائیاں بھی کر سکتے ہیں۔ان کی چھیڑ چھاڑ کے درمیان کمزور ممالک پس سکتے ہیں اور غیر متوقع مسائل کا بھی سامنا کیے جانے کا امکان ہے۔اس بات کی ہر پرامن فرد کی خواہش ہے کہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیرحل ہو جائیں،تاکہ ان علاقوں کے باسیوں کواپنے حقوق مل سکیں۔امریکی پالیسیاں اکثر مسلم کمیونٹی کے خلاف ہوتی ہیں اور مسلم ریاستوں کی عوام انہی وجوہات کی وجہ سےامریکہ سے نفرت کرتی ہے۔اسلامی ریاستوں کے پاس وسیع خزانوں کے ذخائر ہیں،لیکن اختلافات نے ان کوبہت بری طرح جکڑا ہوا ہے۔اختلافات مسلم ریاستوں کے لیےسوہان روح بنے ہوئےہیں۔اسلامی ریاستیں اگر ان اختلافات کو ختم کرنے میں ناکام ہوتی رہیں گی تو موجودہ حالات سے بھی بدترین حالات کاان کوسامنا کرنےپڑےگا۔یہ حال کئی کمزور غیر مسلم ریاستوں کا بھی ہے۔جو ریاستیں بہتری کے لیے کوششیں کرتی ہیں وہ تو نکل ہی جاتی ہیں،لیکن جو کوشش کی بجائےانتشار کو ترجیح دیتی ہیں ناکامی ان کے مقدر میں آجاتی ہے۔امریکہ اور چین کے درمیان رابطےاگر ایک اچھےمستقبل کے ضامن ہیں،تو ایک یہ بہترین عمل کہا جا سکتا ہے۔امن کی ضرورت مشرق وسطی سمیت پوری دنیا کو ہےاور امن کے لیے ہر اٹھنے والی آواز کا ساتھ دینا چاہیے۔ممکن ہے چین اور امریکہ کے رابطےبہتر مستقبل کی نوید ہوں۔









