غزہ جنگ بندی اورغزہ بحالی
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگی معاہدے پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔اس بات کا امکان موجود تھا کہ معاہدے پر عمل نہیں ہوگا کیونکہ اسرائیل اپنی طاقت کےزعم میں کسی اصول کو تسلیم نہیں کرے گا۔یہ اور بات ہے کہ اسرائیل مجبور ہو گیا ہے کیونکہ 15 ماہ کی جنگ میں ایسی کامیابی حاصل نہیں کر سکا جس کی اسرائیل کو تمنا تھی۔حماس کوابھی تک ختم نہیں کیا جا سکااور اس کا وجود اب بھی باقی ہے۔حماس کے ساتھ معاہدہ کرنا،اس کو تسلیم کرنےکے برابر ہے۔اس جنگ میں ہزاروں شہید ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔اب بھی اس بات پہ یقین نہیں کیا جا سکتا کہ اسرائیل اس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے گا،کیونکہ ‘گریٹر اسرائیل’کئی صیہونیوں کا خواب ہے۔اتوار کے روز اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدی رہاکر دیے ہیں اورحماس نے بھی تین یرمغالی رہا کر دیے ہیں۔اسرائیل کی طرف رہاکیےگئے قیدیوں میں 69 خواتین اور21 بچے شامل تھے۔تصور کیا جائےکے بچوں اور خواتین کو قید کرنا کتنا ظلم عظیم ہے؟ابھی بہت سے قیدی باقی ہیں۔اسرائیل کی قید میں رہنے والی ایک طالبہ نے ایک خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حراست کے دوران حالات بہت ہی خوفناک تھے،اسے خوراک اور پانی تک رسائی حاصل ہونے میں بہت ہی مشکلات پیش آتی تھیں۔دوسرے قیدی جب آزاد ہوں گے تو دنیا کو پتہ چلے گا کہ ان کے ساتھ کس قسم کے ظالمانہ سلوک روارکھےگئے۔اسرائیل ان قیدیوں کو بھی رہا نہیں کرنا چاہتا جو حماس کے اراکین ہیں۔قیدیوں کی رہائی کااگلا مرحلہ 25 جنوری کو ہونے کا امکان ہے۔25 جنوری کو تقریبا چار اسرائیلی یرمغالی رہا ہوں گےاور کچھ فلسطینیوں کو بھی بدلے میں رہا کیا جائے گا۔اب بھی اس بات کا امکان ہےکہ اسرائیل اس معاہدے کوتوڑ ہی نہ دے،کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم کی طرف سے بیان دیا جا چکا ہے کہ یہ جنگ بندی عارضی ہوگی۔اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے کہ وہ ان قیدیوں کو بھی رہا کر دے جو حماس کے اراکین ہیں۔دیگر ایسے کئی قیدی موجود ہیں جن کا ریکارڈحماس یافلسطینی اتھارٹی کے پاس موجود نہیں،ان کی رہائی بھی ضروری ہے۔
قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے بعد اگلا مرحلہ بحالی کا ہوگا۔غزہ جو ملبے کا ڈھیر بنا ہوا ہے،اس کی تعمیر نوکے لیےکافی سرمایہ درکار ہوگا۔عمارات کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ہسپتال اور تعلیمی درسگاہیں بھی بالکل تباہ ہو چکی ہیں۔ادویات اور خوراک کی زبردست قلت ہے۔دیگر مسائل بھی موجود ہیں۔قطر کی طرف بیان جاری کیا گیا ہےکہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں۔قطر اگر غزہ بحالی میں مدد دے رہا ہےتواس کا یہ اقدام بہترین عمل کہا جا سکتا ہے۔دوسرے ممالک بھی غزہ کی فوری امداد جاری کریں۔ایک اور مسئلہ امن و امان کا بھی پیدا ہوگا۔امن و امان کو خراب کرنے کے لیےاسرائیل یا کسی اور قوت کی طرف سے مداخلت بھی ہو سکتی ہے۔خانہ جنگی کا بھی امکان ہے کیونکہ اسرائیل آسانی سے ہار ماننے والا نہیں،اس لیےوہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے کہ غزہ کے اندرونی حالات انتشار کا شکار رہیں۔ایک اور مسئلہ بھی غزہ کے امن و امان کو خراب کر سکتا ہے اور وہ ہے غربت۔غربت کا شکار،غزہ کے باسی خوراک کو لوٹنےکا عمل کر سکتے ہیں یا سرمایہ کے حصول کے لیےکوئی مجرمانہ طریقہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔امن و امان کی بحالی بھی بہت ہی ضروری ہے۔تعلیم کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر سکتا ہے۔تعلیمی درسگاہوں کی تباہی اور تعلیم کے لیے ضروری لوازم(کتب،فرنیچروغیرہ)کی عدم دستیابی کی وجہ سےبہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔اب حماس کی پولیس نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے گشت شروع کر دیا ہےاورحماس کے سیکیورٹی ادارے کوشش کر رہے ہیں کہ بد امنی نہ پھیلے۔سیکیورٹی کے لیے بھی بھاری اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔اندرونی اور بیرونی دشمن سیکیورٹی کوتباہ کرنے کی کوشش کریں گے۔اس کے علاوہ کئی ایسےافراد ہوں گے جو معذور ہو چکے ہیں اور وہ کمانےکے قابل نہیں رہے،ان کی امداد بھی ضروری ہےاور ان معذوروں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔یتیم بچے اور بیوہ خواتین کی بھی مدد ضروری ہے۔کئی ذہنی طور پر بھی ڈسٹرب ہو چکے ہیں،کیونکہ جنگ بہت ہی ہولناک ہوتی ہے۔ذہنی طور پر منتشر ہونے والے افراد کوعلاج کی بھی ضرورت ہوگی۔بہت سے مسائل غزہ میں پیش آبھی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی پیش آئیں گے،ان کو حل کرنے کے لیےاسلامی ممالک فوری اور ضرور مدد کریں۔اسلامی ممالک کا فرض ہے کہ غزہ کی بحالی ان کی پہلی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔غزہ کے باسیوں پر کڑا وقت آیا ہوا ہے اور اس کڑے وقت میں ان کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔
اس بات کا بھی امکان ختم نہیں ہوا کہ اسرائیل بعد میں حملہ نہیں کرے گا۔اسرائیل کے نزدیک حماس،اس کا سب سے بڑا دشمن ہے۔اسرائیل ابھی تک وہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہے جن کی وجہ سے15 ماہ قبل اس نے جنگ شروع کی تھی۔اسرائیل غزہ کے بعد دوسرے ممالک کی طرف بڑھنے والا ہےاور حماس اس کے لیے بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔اسرائیل کی اولین ترجیح میں حماس کی تباہی شامل ہے۔حماس کی موجودگی ثابت کر رہی ہے کہ وہ اتنی کمزور نہیں،جتناسمجھ لیا گیا تھا۔فلسطینی تنازع کئی دہائیوں سے جاری ہے۔جنگ بندی معاہدہ کب تک برقرار رہتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔مسئلہ فلسطین پائیداربنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔اسرائیل کسی وقت بھی جنگ چھیڑ سکتا ہے۔اسرائیل کو نہ تو عالمی قوانین کی پرواہ ہےاورنہ اخلاقی اصولوں کی پرواہ ہے،صرف ذاتی مفاد ہی پیش نظر ہیں۔فلسطینی جو خوشیاں منا رہے ہیں،کہیں ان کی یہ خوشیاں عارضی ثابت نہ ہوں۔بین الاقوامی دباؤ مزید جنگ کے خدشے کو روکے۔سعودی عرب،چین،پاکستان اور دیگر ممالک مستقل جنگ بندی کے لیے کوششیں کریں،تاکہ مشرق وسطی میں بھڑکی آگ بجھ سکے۔
بحالی اور روزگار کا مسئلہ ساتھ ساتھ چلے گا۔کافی رقبہ اس جنگ کے دوران اسرائیل قبضے میں لے چکا ہے،اس کی واپسی بھی ضروری ہے۔جو رقبہ غزہ کے پاس موجود ہے،اس پر کاشتکاری کے لیے بھی مشینری اور بیج وغیرہ کی ضرورت ہوگی،اس کے لیے عالمی برادری ضرور مدد کریں۔باغات کےپھل اوراناج کی پیداوارسےغزہ کی معاشی حالت بہترہوسکتی ہے۔کئی فیکٹریز بھی تباہ ہو چکی ہوں گی،ان کی دوبارہ تعمیر کے لیےسرمایہ کی ضرورت ہوگی۔نئی صنعتیں بھی تعمیر کرنا ضروری ہیں۔اس قسم کے مسائل سےنپٹنا کمزور غزہ کے لیےناممکن کی حد تک مشکل ہے،اس لیےاسلامی ریاستیں فوری سرمایہ غزہ کی بحالی کے لیے مہیا کریں۔اب اگر واقعی جنگی معاہدےپر عمل درآمد ہوتا ہےتو غزہ کی بحالی کے لیے بھی کافی وقت درکار ہوگا۔موسموں کی سختیوں سے بچانے کے لیےعارضی پناہ گاہیں بھی تعمیر کرنی ہوں گی۔مسائل بہت ہیں،لیکن امید بھی ہےکہ غزہ کے باسی دوبارہ زندگی کے دھارے میں شامل ہو جائیں گے۔مشکلات قوموں پرآتی رہتی ہیں اور ان مشکلات سےنکلنے کے لیے عزم و ہمت کے علاوہ محنت بھی ضروری ہوتی ہے۔اس مشکل وقت میں اسلامی برادری تو لازما اور ضرور ساتھ دے تاکہ غزہ کےباسیوں کی بھی مشکلات دور ہو جائیں۔









