امریکی صدرکےاعلانات

تحریر:اللہ نوازخان

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے18فروری سےتیل اور گیس پرٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سٹیل،تانبا اور المونیم پر بھی ٹیرف عائد ہوگا۔یورپی یونین پر بھی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔کینیڈا کے بارے میں کہا کہ اس کا رویہ ہمارے ساتھ اچھا نہیں رہا۔ٹیرف کے نفاذ پر کینیڈا میکسیکو اور چین کچھ نہیں کر سکتے۔پانامہ کینال کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کو دوبارہ حاصل کر لیں گے۔روس کے ساتھ سنجیدہ بات چیت چلنے کا ذکر کیا۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اردن اور مصر غزہ متاثرین کو قبول کرلیں گے۔لگتا ہے کہ امریکی صدر دنیا کے لیےمزید مسائل پیدا کرنا چاہتے ہیں۔وہ ایسا اس لیے بھی کر رہے ہیں کہ ان کو اپنی طاقت پر فخر ہےاور اس کا استعمال کر کےدنیا پرکنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر کے اعلان کے مطابق 18 فروری کے بعد تیل اور گیس پرٹیرف کا نفاذ کیا جائے گا۔اس سے تیل اور گیس کی قیمتیوں میں اضافہ ہو جائے گا۔قیمتوں میں اضافہ کئی ممالک کے لیے مشکلات پیدا کر دے گا۔اس بات کا امکان ہے کہ عالمی منڈی شدید متاثر ہو جائے۔کینیڈا نےبھی زبردست جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔چین کاعالمی اثرورسوخ ختم کرنے کے لیےکافی عرصہ سے کوششیں جاری ہیں اور چین مسلسل ترقی کر رہا ہے۔بیجنگ کے اثرات کو ختم کرنے کے لیےواشنگٹن اوردہلی کے درمیان محبت بڑھ رہی ہے۔ٹیرف میں اضافہ کر کےچین، میکسیکو اور دوسرے کئی ممالک تجارتی خسارہ اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈنے جوابی طورپرامریکی اشیاپ ٹیرف عائدکرنےکا اعلان کیا ہے۔امریکی صدر کینیڈا کو امریکی ریاست سمجھتے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ زبردستی کینیڈا کو امریکہ کا حصہ نہ بنا لیا جائے۔امریکی صدر نےپہلے بھی پانامہ کینال کو حاصل کرنے کا اعلان کیا ہےاور دوبارہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ کینال کو حاصل کر لیں گے۔پانامہ کینال ایک خزانے کی مثل ہےاور اس سے سالانہ اربوں ڈالرآمدنی ہوتی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ پانامہ کینال کو چین چلا رہا ہےاور یہ بھی کہا کہ امریکہ سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔امریکی صدرپانامہ کینال کو زبردستی قبضہ میں لینا چاہیں گے اورپانامہ مقابلہ نہیں کر سکے گا۔یورپی یونین کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہےاور یورپی یونین کی طرف سے علیحدہ اقتصادی ڈھانچہ بنانےکی تیاری شروع ہو چکی ہے۔یورپی یونین کے ساتھ امریکہ زیادہ چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا کیونکہ یورپی یونین 27 ممالک کا اتحاد ہےاور اس اتحاد میں شامل تمام ملک مضبوط معیشت رکھتے ہیں۔یورپی یونین چین اور روس کے ساتھ مل کرعلیحدہ بلاک بنا سکتا ہے،جو کہ امریکہ کے لیے خطرناک بات ہوگی۔اردن اور مصر پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ غزہ کے متاثرین کو قبول کر لیں۔غزہ کے متاثرین اگر دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئےتو اس کا فائدہ اسرائیل اٹھائے گا کیونکہ نقل مکانی کرنے والے پیچھے بہت سا رقبہ بھی چھوڑ دیں گےاور فلسطینیوں کی تعداد بھی کم ہو جائے گی،اس صورتحال سے اسرائیل فائدہ اٹھا لے گا۔مصر اور اردن پر بھی پناہ گزین بوجھ بن جائیں گے۔امریکہ زبردستی اردن اور مصر کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اس فیصلہ کو قبول کر لیں۔غزہ کے متاثرین خودبھی پہلےہی بہت سے مصائب کا شکار ہیں اور دوسرے علاقے کی طرف ہجرت مزید مصائب کا شکار کر دے گی۔بین الاقوامی برادری غزہ کے متاثرین کی مدد کرے اور امریکہ کو غلط قدم اٹھانے پربذریعہ دباؤ روکے۔یوکرین۔روس_جنگ کافی عرصے سے جاری ہےاور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑرہے ہیں،اگر یہ جنگ رکتی ہے تو عالمی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا لہذا اس جنگ کو اگر ٹرمپ روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ بہتر عمل کہا جا سکتا ہے۔کئی ممالک نہیں چاہتے کہ یوکریین روس جنگ رک جائے،لیکن جنگ کو رکنا چاہیےتاکہ امن بحال کیا جا سکے۔
امریکہ پوری دنیا کے لیےمسائل کا سبب بن رہا ہےاور اس کی بےمہار طاقت عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔کئی ایشیائی ممالک امریکی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور مجبور ہیں کہ وہ اپنی پالیسیاں امریکہ کی شرائط کے مطابق مرتب کریں۔امریکہ ماضی میں عراق کے علاوہ کئی ممالک کواپنی جارحیت کا نشانہ بنا چکا ہے۔افغانستان کو صرف اس لیے جنگ میں دھکیلا گیا کہ یہاں اسامہ بن لادن پناہ گزین ہے۔اس جنگ سے پاکستان کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔جانی نقصان کے علاوہ اربوں ڈالر کا نقصان پاکستان کو پہنچا۔اب افغانستان سےپاکستان میں دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے۔امریکی صدر کے اعلانات اور ارادوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دنیا بھر میں نئے محاذ کھولنا چاہتے ہیں۔اگر یہ نئے محاذ کھل گئےتو دنیا بھر میں سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔امریکہ اسرائیل کی مدد سے ہاتھ نہیں روکتا،حالانکہ اسرائیل کی بدمعاشی پوری دنیا اچھی طرح جانتی ہے۔امریکی صدر کےاعلانات صرف چند ممالک کے لیے نہیں بلکہ دوسرے ممالک کا بھی جلدنمبرآ جائے گا۔عالمی مسائل بڑے ہوئے ہیں اور امریکی صدر ان مسائل میں اضافہ کررہاہے۔عالمی برادری اگر اپنے آپ کو بڑے بحرانوں سے بچانا چاہتی ہےتوامریکہ یا کسی دوسری طاقت کو روکنا ہوگا کہ دنیا کے لیے مسائل پیدا نہ کرے۔کشمیر کا مسئلہ بھی ایشیا کا بہت بڑا مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔مسئلہ کشمیر لاکھوں انسانوں کوشہید کروا چکا ہےاور مزید شہید ہو رہے ہیں۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔جو ریاستیں کمزور ہیں اور یہ کمزوری معاشی لحاظ سے ہو یا دفاعی لحاظ سے،کمزور ریاستوں کی سلامتی سخت خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔کمزور ریاستیں اتحاد کر کے بھی اپنے وجودوں کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔
امریکی صدر اگر اپنے اعلانات کے مطابق ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں تو دنیا میں امن و امان کی صورتحال سنگین رخ اختیار کر لے گی۔ایران بھی امریکہ کی وجہ سےپابندیوں کا شکار ہےاور سخت آزمائشوں میں گزر رہا ہے۔مشرق وسطی میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنا کر امریکہ آگے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔جس طرح اعلانات کیے جا رہے ہیں،ان پرعمل درآمد کر کے امریکہ خود بھی ایک گڑھے میں گر سکتا ہے۔بہتری کی طرف قدم اٹھانے چاہیےاور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو انسانیت کے لیےتباہی کا پیغام لےآئیں۔امریکی صدر اگر دنیا کا ماحول بہتر بنانے کی کوشش کریں تو وہ کر سکتے ہیں۔ان کے اچھے اعمال دنیا کا ماحول بھی بہتر بنا سکتے ہیں اور امریکہ کو بھی آگے بڑھا سکتے ہیں