کشمیر کی آزادی

از قلم فیصل جنجوعہ
۔

5 فروری کو منائے جانے والے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نہ صرف پورا پاکستان بلکہ پورا آزاد کشمیر بھی اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں سے مکمل طور پر اظہارِ یکجہتی کرتا ہے۔ آج کا دِن تقاضا کرتا ہے کہ زبانی نہیں بلکہ اب ایک بار پھر مسلمان نوجوان، فاتح محمود غزنوی، شہاب الدین غوری اور سلطان صلاح الدین ایوبی بنیں تاکہ کشمیرکو آزادی کی نعمت سے مالا مال کیا جا سکے۔
آزادی کا شمار اللہ تعالی کی تمام نعمتوں میں سے نعمتِ عظمیٰ میں ہوتا ہے۔ جس کے حصول کے لیے اس کے جیالے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ کتنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ،لہو کے دریا بہائے اور کتنی عصمتوں کے دیے بجھانے کے بعد آزادی کا حصول ممکن ہوا۔ پاکستان بھی ایسی ہی بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہوا، بہت بھاری قیمت ادا کی ہے ہمارے پرکھوں نے۔ یہ ملک جس کی دیواروں میں اینٹوں کے بجائے اس کے متوالوں کی ہڈیاں چنی ہوئی ہیں ،سیمنٹ گارے کی جگہ گوشت اور پانی کی جگہ خون استعمال کیا گیا ہے۔ تب کہیں جا کر یہ آزاد دھرتی اور آزاد سانس لینا نصیب ہوا ۔ آزادی شخصی ہو یا قومی، قربانی دینا ہی پڑتی ہے اور لہو بہانا پڑتا ہے۔ آزادی کی اصل قیمت کشمیری عوام جانتے ہیں یا پھر فلسطینی اور روہنگیا کے عوام بتا سکتے ہیں۔
نظریہ کسی بھی قوم کی تشکیل و تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نظریہ قوموں کی بنیاد کی مضبوطی میں اہم ستون ہے، یہ ہی وہ اہم ستون ہے جس کے نیچے مختلف قبائل ، ذاتیں ، گروہ ا ور مذہبی و معاشرتی جماعتیں اپنی ہر طرح کی تقسیم اور اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک نصب العین کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔تحریکِ پاکستان کے پسِ منظر میں بھی دو قومی نظریہ کارفرما تھا جس نے تمام مسلمانوں کو ایک قوت بنا دیا اور دنیا نے دیکھا کہ اس قوت نے کیسے تمام بیرونی طاقتوں اور سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
دشمن ہماری شیرازہ بندی، تنظیم اور اتحاد سے خائف ہے۔ نہرو نے ایک بار اس خدشے کا اظہار یوں کیا تھا کہ پاکستان بھارت کے مقابلے میں ایک چھوٹا سا ملک ہو گا، لیکن اس کی پشت پر جو مسلم ممالک کی قوت ہے وہ اسے ایک مضبوط اسلامی قلعہ بنا دے گی۔ اس خدشے میں عالمِ اسلام کی قوت اور کل مسلم اخوت کا لافانی نظریہ موجود ہے۔اگر دیکھا جائے تو یہی وہ نظریہ تھا جس کی وجہ سے دو بڑی طاقتوں ہندوؤں اور انگریزوں سے اپنا الگ ملک لینے میں کامیاب ہوئے تھے۔
بھارت کا مقصد واضح ہے کہ وہ اب کشمیر میں ہندوں کی آبادکاری چاہتا ہے تاکہ اس خطہ کی جداگانہ حیثیت کو ختم کر دے-بھارت کے ظلم کے خلاف کشمیری ہمیشہ ہی سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں-یہ بھی بھارت کی ہٹ دھرمی ہے کہ وہ کشمیر کی صورتحال کو اب بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا-بھارت کے لیے اتنی خون کی ہولی کافی نہیں-بے گناہ نہتے کشمیریوں کا قیمتی خون کشمیر کی وادی میں آج بھی بہایا جا رہا ہے-اس دنیا کے منصف اس خون ریزی پہ خاموش ہیں اور کشمیر کی جلتی وادی آج بھی آزادی کے سورج کے طلوع ہونے کا انتظار کر رہی ہے-

کشمیری عوام اپنے موقف پر بہادری سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ آزادی لے کر رہیں گے، انہیں اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ ڈرایا جاسکتا ہے نہ دبایا جاسکتا ہے۔ کشمیر کی آزادی اور الحاقِ پاکستان تک ہماری جدوجہد بدستور جاری رہے گی، خواہ اس کے نتیجے میں ہمیں اپنی گود کے بچوں کی جانوں کا نذرانہ کیوں نہ دینا پڑے۔ آزادی کشمیر کی جنگ عقیدے اور آزادی کی جنگ ہے، جس کیلئے ہمیشہ کشمیری سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے رہیں گے
اللہ تعالیٰ ہمارے کشمیری بھائیوں کو آزادی کی نعمت سے نوازے اور انہیں غلامی کی اس دردناک زندگی سے نجات دلائے آمین