تحصیل عیسی خیل میں کافی عرصہ بعدہونے والی بارشوں سےاہل علاقہ اور کسان خوشی سے کھل اٹھے۔خٹک بیلٹ کے کافی علاقوں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سےپینے اور دیگر ضروریات کے لیےپانی کو تالابوں اور جوہڑوں کے ذریعے سٹور بھی کر لیا گیا

ونجاری(اللہ نوازخان)تحصیل عیسی خیل میں کافی عرصہ بعدہونے والی بارشوں سےاہل علاقہ اور کسان خوشی سے کھل اٹھے۔خٹک بیلٹ کے کافی علاقوں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سےپینے اور دیگر ضروریات کے لیےپانی کو تالابوں اور جوہڑوں کے ذریعے سٹور بھی کر لیا گیا تفصیلات کے مطابق تحصیل عیسے خیل میں کافی عرصہ سےبارشیں نہیں ہو رہی تھی،جس کی وجہ سےماحول متاثر ہو رہا تھا۔اللہ کی رحمت برسنے پرشہریوں اور کسانوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔بارشوں نے جہاں ماحول کو خوشگوار کر دیا ہے وہاں کسان بھی کافی سرمایہ بچانے میں کامیاب ہو گئے۔تحصیل عیسےخیل کے علاقوں میں کھیتوں کو سیراب کرنے والا پانی بعض جگہوں پراٹھاون سواوربعض جگہوں پر پانچ ہزار روپے کے حساب سے مل رہا ہے۔حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سےکسان مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔صرف مہنگا پانی ہی نہیں دیگرلوازات(کھاد، بیج وغیرہ)بھی کسانوں کو بہت زیادہ مہنگےداموں ملتے ہیں۔ان بارشوں نےکسانوں کا کافی سرمایہ بچا لیا ہے۔خٹک بیلٹ کے بہت سے علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہاں کے لوگ پانی کے قطرے قطرے کو ترس رہے ہیں۔بارشی پانی وہ تالابوں اور جوہڑوں میں سٹور کر لیتے ہیں۔سٹور شدہ پانی وہ پینے اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرتے رہتے ہیں۔یہ پانی اکثر اوقات شہریوں کو مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا کرتا رہتا ہے،کیونکہ جوہڑوں اور تالابوں میں جانور بھی پانی پیتے رہتے ہیں اور وہی پانی عوام بھی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔صفائی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی آلودہ بھی ہو جاتا ہےاورآلودہ پانی مجبوراخٹک بیلٹ کی عوام استعمال کرتی ہے۔خٹک بیلٹ ویسے بھی پسماندہ علاقہ ہےاور پانی سے محرومی تکالیف میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ارباب اختیار فوری توجہ دے کرپانی کا مسئلہ پائیدار بنیادوں پر حل کریں۔جوہڑوں اور تالابوں میں پانی خشک ہونے کے بعدخٹک بیلٹ کی عوام پینے کا پانی دور دراز علاقوں سے بھی لانے پر مجبور ہوتی ہے۔بعض اوقات گھر میں کوئی فرد دستیاب نہ ہونے کی وجہ سےسکول کے بچےپانی بھرکرلانے پر مجبور ہوتے ہیں اور یوں ان کا یہ اقدام تعلیم سے محرومی کا سبب بنتا ہے۔