کلیم اللہ کھوکھر کراچی کی ریکی اور ایس ایچ او گڑھ مہاراجہ راشد اسلام کوڑیانہ
تحریر علی امجد چوہدری
راشد اسلام کوڑیانہ گڑھ مہاراجہ کے ایس ایچ او ہیں انتہائی دھیمے مزاج اور نسبتاً معتدل شخصیت کے حامل راشد اسلام کوڑیانہ پیشہ وارانہ مہارت کے حوالے سے ناتو دھیمے ہیں اور نہ ہی معتدل بلکہ انتہائی strict بھی اور چست بھی اب آتا ہوں موضوع کی طرف
چند ماہ قبل کپوری کے معروف بزنس مین خاندان کے نوجوان ملک کلیم اللہ کھوکھر کی جان لی گئی یہ واقعہ رات کی تاریکی میں ہوا اور اس کے زمہ داران کی detection بہت زیادہ مشکل دکھائی دے رہی تھی یہاں ملک کلیم اللہ کھوکھر کی فیملی کو داد نہ دنیا بھی انتہائی زیادتی ہوگی کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود اس خاندان نے ے گناہوں کو پھنسانے کی بجائے حقیقی مجرموں کی گرفتاری پر insist کیا پولیس نے اس کیس پر کام کیا اور ایس ایچ او راشد اسلام جدید ٹیکنالوجی کے زریعے جزوی حد تک ملزمان تک پہنچ گئے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی کیونکہ ملزمان صوبے سے نکل چکے تھے اور ان کی location identify نہیں ہو پارہی تھی بہت سارے ایسے کیسیز ہیں جہاں ملزمان پنجاب سے نکل جانے کے بعد decades گزر جانے کے باوجود گرفتار نہ ہو سکے مگر راشد اسلام کوڑیانہ ہمت ہارنے کے لیئے آمادہ نہیں تھے یہ بلوچستان اور پھر سندھ میں گھس گئے اندرون سندھ اور پھر کراچی جیسے عوامی سمندر میں انہیں کوئی بیس روز پنجاب سے باہر لگے اور یہ ایک ملزم کو سندھ کے تہہ خانوں سے نکال لائے مگر ٹاسک ابھی بھی باقی تھا کیونکہ دوسرا ملزم اور پس پردہ محرکات ؟
دوسرے ملزم نے بھی ملک کا کونہ کونہ چھان مارا مگر tracing جاری رہی اور بالآخر یہ ملزم بھی پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں پکڑا ہی گیا
کلیم اللہ کیس کے حوالے سے تھانہ گڑھ مہاراجہ پولیس ایس ایچ او راشد اسلام پر طنز کے طاقتور نشتر چلائے گئے اور کہا گیا یہ اس اندھے واقعے کے ملزمان کی گرفتاری کم ازکم گڑھ مہاراجہ پولیس کبھی نہیں کر سکتی مگر اب سب ہکا بکا ہیں
کیونکہ ایس ایچ او راشد اسلام کوڑیانہ نے اتنی خاموشی سے کام کیا کہ کامیابی نے ان کی دھوم مچا دی اسی لیئے تو کہتے ہیں محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ کامیابی تمھاری دھوم مچا دے
علی امجد چوہدری








