پاکستان اورانڈیاکےدرمیان کشیدگی
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
مقبوضہ کشمیر کےعلاقہ پہلگام میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے،جس کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ہلاگ شدگان میں ایک انڈین آئی بی افیسر بھی شامل ہے۔انڈیا نےاس کا ملبہ پاکستان پر گراتے ہوئے جواب دینے کا اعلان کر دیا ہے۔بلا شبہ دہشت گردی ایک ناسور ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان لمبے عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہو رہا ہے۔انڈیا نے پاکستان میں مسلسل دہشت گردانہ کاروائیاں کی ہیں۔انڈیا دہشت گردی بھی کرتا ہےاور مظلومیت کا رونا بھی روتا ہے۔اب ہندوستان کی طرف سےجوابی رد عمل کا اعلان ہو رہا ہےاور فوری طور پرپاکستان کو نقصان پہنچانا شروع بھی کر دیا ہے۔سندھ طاس معاہدہ کومعطل کرنے کے علاوہ واہگہ بارڈر کو بھی بند کر دیا گیا ہےنیز سفارت کاروں کو بھی ملک چھوڑنےکا حکم دے دیا گیا ہے۔انڈیا کے وزیر خارجہ راج سنگھ نےبھی سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔انڈیا مسلسل اعلان کر رہا ہے کہ پاکستان کو سزا دی جائے گی۔جس طرح بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا جا رہا ہےاور حملے کی دھمکی دی جارہی ہے،یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ اس بات کا نوٹس لےکہ کیوں بین الاقوامی قوانین کوپامال کیا جا رہا ہے؟اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر بھی خاموش ہےاور کشمیریوں کا حق خود ارادیت تسلیم کرنے کے باوجود بھی اقوام متحدہ کی طرف سے مکمل خاموشی ہے،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے جانبداری کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق تک معطل ہیں اور 2019 سے لے کر اب تک مظلوم کشمیری قید کی شکل میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔وزیراعظم نریندرامودی کا ماضی کافی داغداد ہےاور حال بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔بے شمار مسلمان مودی کانشانہ بنے ہیں اورہزاروں مسلمانوں کی شہادت کا ذمہ داری مودی ہے۔اب بھی ہندوستان کے مسلمانوں کا عرصہ حیات بہت تنگ ہے۔حال ہی میں وقف بل کی منظوری کی صورت میں مسلمانوں پر ایک اور بڑا ظلم کیا گیا ہے۔اب قانونی طور پر مسلمانوں کی کروڑوں کی جائیدادیں ہڑپ کر لی جائیں گی۔مساجد کو شہید کیا جا رہا ہےاور مسلمان بیچارے اذیت بھری زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔مودی گورنمنٹ کے تحت دہشت گردی کا بازار گرم ہےاورانڈیا میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتیں بھی ظلم سہہ رہی ہیں۔اب توقع اس بات کی بھی ہے کہ انڈیا نے خود ہی یہ ڈرامہ نہ رچایاہو،تاکہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ کرعالمی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں اور دیگرمظالم کا جواز گھڑا جا سکے۔
انڈیا سےدشمنی اب سے نہیں شروع ہوئی،بلکہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی دشمنی جاری ہے۔1965ءکی جنگ،71 میں پاکستان کو توڑنے کی سازش اور کارگل معرکہ سمیت کئی دفعہ چھوٹی موٹی جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔2019 میں بھارتی پائلٹ ابھی نندن کے طیارے کو پاک فضائیہ نے گرا دیا تھا اور ابھی نندن کو گرفتار کر لیاگیاتھا۔پاک آرمی نےابھی نندن کو چائےپلائی۔پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت بھارتی پائلٹ کو واپس بھیج دیا۔اس عمل سے بھارت کی عالمی طور پر بڑی رسوائی ہوئی اور ایک پیغام بھی وصول کر لیا کہ پاکستان اتنا کمزور نہیں،جتناسمجھاجارہاہے۔انڈیا کامیڈیا اور سوشل میڈیا مسلسل تصاویر،تجزیےوغیرہ شیئر کر رہا ہےاور ایک بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھایا جائے گا۔پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں کہ پاکستان کو بھی آسان ہدف نہ سمجھا جائے۔پاکستان معاشی یا کچھ اور مسائل کا سامنا کر رہا ہے،لیکن جواب دینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ممکن ہے انڈین گورنمنٹ عوام میں مقبولیت حاصل کرنےکے لیے ہلکا پھلکا حملہ کر دےیا جھوٹ موٹ کا ڈرامہ عوام کو دکھا دیا جائے۔ڈرامہ تو شاید چل جائے لیکن حملہ انڈیا کے لیے سخت خطرناک ہوگاکیونکہ پاکستان فوری رد عمل کے لیے تیار ہے۔انڈیا کی ایجنسی”را”بین الاقوامی دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوٹ رہی ہے۔بین الاقوامی برادری اگر انڈیا کی دہشت گردی سےبچنا چاہتی ہے توانڈیا کو لگام ڈالنی ہوگی۔
پاکستان اور انڈیا دونوں ایٹمی اسلحہ سے لیس ہیں اور اگر جنگ چھڑ گئی تو کافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔انڈین گورنمنٹ اگر پاکستان پر اسٹرائک کرتی ہےتو پاکستان بھی جواب دے سکتا ہے۔لازمی بات ہےہلکی پھلکی جھڑپ بڑی جنگ اور ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔پاکستان ہمیشہ امن کا مظاہرہ کرتا رہا ہے،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان جنگ لڑنے کے قابل نہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انڈین گورنمنٹ یہ سمجھ رہی ہو کہ دھمکیاں دے کر سرد جنگ کا ماحول پیدا کر کے پاکستان کو دبایا جا سکتا ہےتو یہ بھی خام خیالی کہی جا سکتی ہے۔پاکستان سرد جنگ بھی لڑ سکتا ہے اور روایتی جنگ بھی،نیز ایٹمی جنگ لڑنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان فوری طور پر جواب دے کرانڈیا کو سبق سکھا سکتا ہے۔پاکستان واضح طور پر انٹرنیشنل لیول پر بتا دے کہ انڈیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار ہےاور اس کےاتحادیوں کے ساتھ بھی مقابلے سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔پاکستانی گورنمنٹ دبنگ اور جاندار پیغام دےکہ شہادت کی خواہشمند پاکستانی عوام اور فوج خون کے آخری قطرے تک لڑے گی۔جنگ خطرناک اور تباہ کن ہوتی ہےلیکن بعض اوقات جنگ ناگزیر ہو جاتی ہےاور اگر جنگ ناگزیر ہو جائے تو پیچھے ہٹنا دانشمندی نہیں بلکہ خسارے کا سودا ہے۔جنگ چھڑنےکی صورت میں جہاں انسان قتل ہوتے ہیں اورآبادیاں تباہ ہوتی ہیں،وہاں فتح کی صورت میں انعام بھی ملتا ہے۔لازمی بات نہیں ہے کہ جنگ کا کوئی نتیجہ نکلے،بلکہ بغیر نتیجہ بھی جنگ ختم ہو سکتی ہےاور اس سے بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ دوسرا فریق کمزور نہیں۔انڈیا پاکستان کو کمزور فریق سمجھ رہا ہے،اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان جواب دینے میں کوتاہی نہ کرے۔زبانی جواب دے کر سمجھایا جاسکتا ہے کہ عملی طور پر بھی پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہے۔انڈیا بھی بڑی جنگ چھیڑنے کی جرات نہیں کر سکتا،کیونکہ ہر ایک اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان ایٹمی ریاست ہےاور ایٹم بم نمائش کے لیے نہیں رکھا گیا بلکہ جواب دینے کے لیےہے۔انڈیا اگر کسی قسم کی احمقانہ حرکت میں ملوث ہو گیا تو اس کو جواب بھی ایسا ملے گا کہ مدتوں یاد رکھا جائے گا۔








