کسانوں کے حقوق

تحریر عبد الستار سپرا

گندم دنیا کی سب سے اہم فصلوں میں سے ایک ہے جو کروڑوں لوگوں کی خوراک کا بنیادی حصہ ہے پاکستان میں بھی گندم کو نہ صرف بنیادی غذا بلکہ زراعت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا ہے تاہم موجودہ دور میں کسانوں کو ان کی محنت کا صحیح معاوضہ نہیں مل رہا جو ایک تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے گندم کی اہمیت پاکستان کی زراعت میں گندم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے یہ فصل ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے اور کسانوں کے لیے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے کسانوں کو درپیش قیمتوں کا مسئلہ حال ہی میں گندم کے نرخوں میں غیر یقینی صورتحال اور اخراجات میں اضافے نے کسانوں کو مزید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے کھاد بیج اور دیگر زرعی لوازمات کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود گندم کے نرخ کسانوں کے لیے زیادہ منافع بخش نہیں رہے کسان محنت تو بہت کرتے ہیں لیکن ان کی محنت کا صلہ انہیں اس قدر نہیں ملتا جس سے وہ اپنے اخراجات پورے کر سکیں گندم کی خریداری میں بروکرز اور ذخیرہ اندوز منڈی پر قبضہ کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے اصل منافع کسانوں کی بجائے مڈل مین کو جاتا ہے ممکنہ بحران اور اس کے اثرات اگر خدا نہ کرے کسانوں کو ان کی گندم کی فصل کا مناسب معاوضہ نہ ملا تو آنے والے سالوں میں کسان گندم کی کاشت سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں اس کے نتیجے میں ملک کو گندم کے ایک بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب مقامی سطح پر پیداوار کم ہوگی تو ملک کو بیرونِ ملک سے مہنگی گندم درآمد کرنی پڑے گی جس سے معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا اور عوام کو مہنگی خوراک کا سامنا کرنا پڑے گا اس کے علاوہ غذائی قلت اور دیگر زرعی مسائل بھی سر اٹھا سکتے ہیں جو ملک کے لیے مزید چیلنجز پیدا کریں گے گندم کا ریٹ کم کروانے والوں کی خدمت میں عرض ہے کہ گندم کوئی ایسی چیز نہیں جو کارخانے میں تیار ہوتی ہو یہ چھ مہینے کی فصل ہے چھ مہینے میں کئی بار کھاد سپرے ڈیزل اور بجلی کا ریٹ بڑھ جاتا ہے لہذا بجائے کسان سے گندم کا ریٹ کم کروانے کے کسان کے ساتھ مل کر حکومت سے یہ مطالبہ کریں کہ حکومت 4000 فی من کے حساب سے کسان سے گندم خریدے اور پاکستانی عوام کو سبسڈی دے کر 2000 فی من فراہم کرے بلکہ فری دے دے مگر حکومت کا ڈائریکٹ کسان سے مطالبہ کہ گندم 2000 فی من فروخت کریں یہ بہت غلط ہے کیونکہ اس میں تو خرچہ بھی پورا نہیں ہوتا حکومت کو ساری غربت کسان کی گندم خریدتے وقت یاد آجاتی ہے اس حساب سے تو کسان مزید غریب ہو کر رہے جائے گا کہ بیچارہ اگلی فصل ہی کاشت نہ کر سکے مافیا نے کسان کو پتا نہیں کتنا امیر سمجھا ہوا ہے حالانکہ اس کی ساری رقم اگلی فصل کی کاشت میں لگ جاتی ہے دوسری بات یہ ہے کہ جب حکومت دن بدن کھاد ڈیزل وغیرہ کے ریٹ بڑھا رہی ہوتی ہے تب یہ لوگ لمبی تان کر سو رہے ہوتے ہیں گندم کے ریٹ کا فوراً پتا لگ جاتا ہے کبھی فی ایکڑ خرچ بھی پتا کر لیا کریں مناسب قیمت کے لیے اقدامات حکومت کو چاہیے کہ وہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے گندم کی قیمت کو مستحکم رکھنے اور کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے شفاف نظام متعارف کرایا جائے کسانوں کے لیے سبسڈی جدید زرعی آلات کی فراہمی اور منڈی کے نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں اگر کسانوں کو ان کی محنت کا مناسب معاوضہ دیا جائے تو یہ نہ صرف ان کے لیے فائدہ مند ہوگا بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگا نتیجہ گندم پاکستان کے زرعی نظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے مگر موجودہ چیلنجز اس کی پیداوار اور قیمتوں پر منفی اثر ڈال رہے ہیں اگر کسانوں کو ان کا حق نہ ملا تو ملک کو مستقبل میں شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لیے ایسی حکمتِ عملی بنانی چاہیے جو سب کے لیے فائدہ مند ہو تاکہ کسان خوشحال ہوں ملک خود کفیل ہو اور عوام کو سستی اور معیاری خوراک میسر آسکے