باپ کی یاد اور بیٹے کی سالگرہ — ایک جذباتی لمحہ

تحریر ۔محمد زاہد مجید انور

وقت گزر جاتا ہے، لمحے بیت جاتے ہیں، لیکن کچھ یادیں دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ آج ہم ایک ایسے ہی لمحے کا ذکر کرتے ہیں جو جذبات، محبت، قربانی اور جدائی کی تصویر ہے۔سابق چیئرمین رجانہ، سابق ضلعی چیئرمین پنجاب فوڈ اتھارٹی، معروف سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیت چوہدری شبیر احمد ننھا مرحوم کی زندگی خدمت، خلوص، شفقت اور محبت سے بھرپور تھی۔ انہوں نے نہ صرف اپنی برادری بلکہ ضلع بھر میں اپنی منفرد شناخت بنائی۔ ان کی خوش اخلاقی، معاملہ فہمی اور خدمتِ خلق کا جذبہ قابلِ تقلید تھا۔زندگی کے ان قیمتی لمحوں میں سے ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب چوہدری شبیر احمد ننھا مرحوم نے اپنے چھوٹے صاحبزادے چوہدری حسین ستار کی سالگرہ پر اپنے ہاتھوں سے کیک کاٹا اور اسے محبت سے لقمہ دیا۔ وہ منظر آج بھی اہلِ خانہ کی آنکھوں میں تازہ ہے، جیسے کل کی بات ہو۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جو تصویروں سے نکل کر دل کی دیواروں پر نقش ہو جاتے ہیں۔وقت نے کروٹ لی، اور آج جب بیٹا اپنی سالگرہ کا کیک خود کاٹ رہا ہے، تو آنکھیں نم ہیں، دل یادوں کی کہانی دہرا رہا ہے۔ باپ کی شفقت، آواز، ہاتھوں کا لمس، دعاؤں کی تاثیر—سب کچھ آج شدت سے یاد آ رہا ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت باپ کی کمی پوری نہیں کر سکتی۔ وہ دعائیں، وہ تجربات، وہ سایہ دار وجود صرف یادوں میں باقی رہ جاتا ہے۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ چوہدری شبیر احمد ننھا مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین ثم آمین۔یقیناً، وہ اپنے نیک اعمال اور حسنِ سلوک کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ چوہدری حسین ستار کے لیے یہ موقع صرف سالگرہ کا نہیں بلکہ باپ کی یاد کو تازہ کرنے کا دن بھی ہے۔ رب تعالیٰ ان کی زندگی میں برکت دے، اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔