خاموشی کی طاقت
تحریر
محمد زاہد مجید انور
زندگی میں ہمیں مختلف مزاج اور کردار کے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ ہمارے اعتماد پر پورا اترتے ہیں، تو کچھ ہمیں ایسی صورت دکھاتے ہیں جو محض دھوکہ ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ہم جن لوگوں پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، وہی سب سے بڑی مایوسی کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں انسان کی روح تک زخمی ہو جاتی ہے۔جب کسی منافق انسان کی حقیقت آپ پر عیاں ہو جائے، جب آپ کو اندازہ ہو کہ جسے آپ نے مخلص سمجھا، وہ درحقیقت دو چہروں والا تھا، تو یہ لمحہ نہایت تلخ ہوتا ہے۔ مگر اس تلخی کا جواب تلخ کلامی سے دینا ضروری نہیں۔ یہ وقت لڑنے، جھگڑنے یا وضاحتوں میں الجھنے کا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہاں ایک اور طاقتور ردعمل ضروری ہے — خاموشی۔خاموشی وہ زبان ہے جو سب کچھ کہہ دیتی ہے بغیر بولے۔ یہ ایک شائستہ احتجاج بھی ہے اور ایک باوقار اعلانِ لاتعلقی بھی۔ منافقت کو بے نقاب کرنے کے بعد رشتوں کو زبردستی نبھانا، خود کو دھوکے میں رکھنے کے مترادف ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے چہرے سے نقاب اتار دے، تو اسے رخصت دینا ہی بہتر ہوتا ہے، وہ بھی خاموشی سے۔زندگی بہت مختصر ہے، اسے جھوٹے اور خود غرض لوگوں کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے وقت میں خاموشی ایک ہتھیار بن جاتی ہے جو آپ کی عزتِ نفس کی حفاظت کرتی ہے۔ بعض اوقات کسی تعلق کو ختم کرنے کے لیے چیخنے یا بولنے کی نہیں، بلکہ خاموشی سے پیچھے ہٹ جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے فیصلے تکلیف دہ ضرور ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ نے خود پر، اپنے وقار پر اور اپنے سکون پر ایک احسان کیا ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں آپ خود کو عزت دیتے ہیں، اور یہی عزت آپ کے اصل دوستوں، خیرخواہوں اور آپ کی اصل شخصیت کو جِلا بخشتی ہے۔تو یاد رکھیں، ہر بے وفائی کا جواب شور سے نہیں دیا جاتا۔ بعض باروقار رخصتیں خاموش ہوتی ہیں، مگر ان کی گونج دیر تک سنائی دیتی ہے۔










