آسمانی بجلی، ایک نوجوان کی زندگی کا اختتام — علی رضا رجبانہ سیال کی ناگہانی موت

تحریر ۔۔محمد زاہد مجید انور

قدرت کے مظاہر بظاہر خوبصورت اور پُرہیبت ہوتے ہیں، مگر کبھی کبھار یہ اپنی شدت میں ایسے سانحات جنم دیتے ہیں جن کا دکھ برسوں دلوں میں تازہ رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک اندوہناک واقعہ ضلع جھنگ کی تحصیل احمد پور سیال کے گاؤں مڈمیرنیوالا میں پیش آیا، جہاں آسمانی بجلی گرنے سے ایک ہنستا مسکراتا نوجوان، علی رضا رجبانہ سیال، ہمیشہ کے لیے اس فانی دنیا کو چھوڑ گیا۔علی رضا ایک محنتی، بااخلاق اور خوش مزاج نوجوان تھا، جو نہ صرف اپنے گھر والوں بلکہ گاؤں بھر کے لیے ایک قابلِ فخر شخصیت تھا۔ وہ تعلیم کے میدان میں بھی آگے بڑھنے کا خواب رکھتا تھا اور اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز تھا۔ زندگی سے بھرپور اس نوجوان کی موت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔آسمانی بجلی کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علی رضا کھیتوں میں معمول کے کام میں مصروف تھا۔ آسمان پر بادل گہرے ہو چکے تھے، اور بارش کی پہلی بوندیں گرنی شروع ہوئی تھیں۔ اچانک ایک زور دار چمک اور دھماکے کے ساتھ آسمانی بجلی گری، اور لمحوں میں علی رضا کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ گئی۔ موقع پر ہی وہ جان کی بازی ہار گیا۔گاؤں میں ہر آنکھ اشک بار ہے۔ جنازے میں اہلِ علاقہ، رشتہ دار، اور دور دراز سے آئے لوگ شامل ہوئے، جو اس نوجوان کی اچانک موت پر ششدر تھے۔ بوڑھی ماں کی آہیں، والد کا غمزدہ چہرہ، بہنوں کے بین اور دوستوں کی خاموشی، سب کچھ گویا وقت تھم سا گیا ہو۔یہ واقعہ نہ صرف علی رضا کے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے شعور اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔ محکمہ موسمیات کی وارننگز پر عمل درآمد، کھلے میدانوں سے پرہیز، اور بجلی کے طوفانوں میں محفوظ پناہ گاہوں کی جانب رجوع، ایسے حادثات کے امکانات کو کم کر سکتے ہیں۔علی رضا کی موت ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے، اور ہمیں قدرت کے نظام کو سمجھنے اور اس کا احترام کرنے کی توفیق دےآمین۔