“نواب_اختر_عباس_خان_ڈب کی یاد میں”
تحریر ؛-
ایڈوکیٹ مہر_وسیم_آصف_ڈب گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ

ڈب خاندان (Dab Klan) کی شاہی روایتوں کے آخری علمبردار، نواب اختر عباس خان ڈب، ہم سب کے دلوں میں ایک گہرا خلا چھوڑ کر رخصت ہو چکے ہیں۔ وہ محض ایک شخصیت نہیں تھے بلکہ ایک ادارہ تھے، ایک روایت تھے، اور سینکڑوں دلوں میں امید کی وہ شمع جو اندھیروں میں روشنی بکھیرتی تھی۔

ڈب خاندان، جو صدیوں پر محیط تاریخ رکھتا ہے، ہمیشہ سے وقار، علم، شرافت اور قیادت کی پہچان رہا ہے۔ یہ خاندان اپنے علاقے میں نہ صرف شاہی رتبہ رکھتا ہے بلکہ روحانی اور سماجی اثر و رسوخ میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ نواب اختر عباس خان ڈب اس عظیم نسب کا فخر تھے۔ ان کے مزاج میں بردباری، ان کی باتوں میں دانش، اور ان کی آنکھوں میں اپنے لوگوں کے لیے درد جھلکتا تھا۔

نواب صاحب نے نہ صرف اپنی شاہی ذمہ داریوں کو وقار سے نبھایا بلکہ عوامی سطح پر ایک ایسے رہنما کے طور پر جانے گئے جنہوں نے ہمیشہ پسے ہوئے، محروم طبقوں کے لیے آواز بلند کی۔ وہ درجنوں، بلکہ سیکڑوں خاندانوں کے لیے حوصلے اور ہمت کی علامت تھے۔ جو ان کے پاس آتا، خالی دامن نہ لوٹتا—چاہے بات مشورے کی ہو، تعاون کی ہو یا محض دلاسے کی، نواب صاحب سب کے لیے ایک پناہ گاہ تھے۔

ان کی زندگی خدمت، محبت، اور اصولوں کی مثال تھی۔ انہوں نے ڈب خاندان کی قدروں کو صرف نبھایا نہیں بلکہ اگلی نسلوں تک منتقل کیا۔ ان کے جانے سے ڈب خاندان ہی نہیں، ایک پوری تہذیب کا روشن چراغ گل ہو گیا ہے۔

نواب اختر عباس خان ڈب کے انتقال سے ہم ایک ایسے عہد سے محروم ہو گئے ہیں جس میں لوگوں کے دل جیتنے کی صلاحیت، ظرف کی بلندی اور بے غرض محبت پائی جاتی تھی۔ ان کی یاد ہمیشہ زندہ رہے گی، اور ان کے نقش قدم آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ اُنہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ہم سب کو صبر و ہمت عطا کرے۔ آمین۔