ایرانی دروازوں پر موساد
ایران-بھارت، معاہدے۔۔۔۔
اور پاکستان کا دو راہے پر کھڑا مستقبل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر ۔ارشد مہدی جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنگیں ہمیشہ سرحدوں پر شروع نہیں ہوتیں، کئی بار یہ داخلی دروازوں سے بھی داخل ہو جاتی ہیں 11 جون 2025 کے بعد ایران کے اندر ایک کے بعد ایک مہلک اور خفیہ حملوں کا آغاز ہوا، جن میں ایران کے اپنے علاقوں میں موجود اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلے پہل ان حملوں کو “اندرونی بغاوت” یا “غیرفوجی دہشتگرد حملے” قرار دیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ایرانی انٹیلیجنس، علاقائی شواہد، اور بین الاقوامی تجزیاتی رپورٹس کے بعد ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ 11 جون کے بعد کے متعدد حملوں میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور بھارتی را کے ملوث ہونے کے شواہد ان کے پاس موجود ہیں، جن میں سے چند ابتدائی تفصیلات مقامی میڈیا یا حکومتی بریفنگز میں سامنے لائی گئیں، تاہم ان شواہد کو بین الاقوامی سطح پر کھلے طور پر جاری نہیں کیا گیا۔
ایران نے گزشتہ کئی برسوں میں بھارت کے ساتھ معاشی، دفاعی اور جغرافیائی تعلقات کو جس نہج تک پہنچایا، اس میں سب سے نمایاں کردار چاہ بہار بندرگاہ کا ہے۔ ایران نے یہ گہرے سمندری بندرگاہ نہ صرف بھارت کو تجارت کے لیے دی بلکہ یہاں بھارت کو بنیادی انفراسٹرکچر، ریل اور سڑک نیٹورک تک براہ راست رسائی دی۔ یہ وہی راستے تھے جن کے ذریعے 11 جون کے بعد موساد کے ایجنٹس ایران میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتے پائے گئے۔ وہی سرنگیں، وہی داخلی سسٹمز، اور وہی لاجسٹک اسٹریٹیجیز جنہیں ایران نے بھارت پر بھروسا کرتے ہوئے کھولا تھا، اب انہی کے ذریعے دشمن اندر آ چکا تھا۔
کیا یہ ایران کی سفارتی غلطی تھی؟ کیا تہران نے اسلامی دنیا سے کٹ کر بھارت جیسے ملک پر ضرورت سے زیادہ اعتماد کیا؟ اگر ماضی میں ایران پاکستان کو چاہ بہار بندرگاہ ترقی کے لیے دیتا، یا اسے مشترکہ آپریشنل کنٹرول میں رکھتا، تو کیا آج موساد کے پاس ایران کی سرزمین پر یہ جرأت ہوتی؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس وقت نہ صرف ایرانی عوام بلکہ اسلامی دنیا کے لیے لمحہ فکریہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات ماضی میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔ لیکن حالیہ دنوں میں، بالخصوص غزہ جنگ کے دوران جب ایران نے کھل کر فلسطینیوں کا دفاع کیا، پاکستانی عوام کی بڑی تعداد نے ایران کی حمایت میں آواز بلند کی۔ سوشل میڈیا پر لاکھوں پاکستانیوں نے ایرانی ہمت کو سراہا، حتیٰ کہ کئی سوشل اکاؤنٹس نے اسرائیل کے خلاف عملی سپورٹ کی تشہیر بھی کی۔ یہ وہ عوامی دباؤ تھا جس نے پاکستان کی پارلیمان کو مجبور کیا کہ وہ 14 جون 2025 کو ایران کی عسکری حمایت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرے، ظاہر ہے یہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔
تاہم، پاکستان کی جانب سے ایران کو براہ راست کوئی عسکری مدد فراہم کیے جانے کی نہ تو اسلام آباد نے تصدیق کی اور نہ ہی تہران نے اقرار کیا۔ عالمی میڈیا میں غیرمصدقہ رپورٹس اور کچھ غیر سرکاری ذرائع میں پاکستانی ڈرونز یا خفیہ مدد کا ذکر ضرور ہوا، مگر سرکاری سطح پر خاموشی برقرار رہی۔ اس خاموشی کو بہت سے تجزیہ کار “اسٹریٹیجک انکار” کہتے ہیں، یعنی عملی مدد تو دی جاتی ہے، مگر تسلیم نہیں کی جاتی تاکہ پاکستان کھلم کھلا کسی جنگ میں فریق نہ بن جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اسرائیلی وزیراعظم نے حالیہ انٹرویو میں دنیا کو چونکا دیا۔ انہوں نے صرف دو ممالک کو اسرائیل کے مستقبل کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا یعنی ایران اور پاکستان۔ ان کے الفاظ میں پاکستان کی عسکری اہلیت، اس کی ایٹمی طاقت، اور اسلامی دنیا میں اس کا اثر و رسوخ ایک ایسی تلوار ہے جو اسرائیل پر کبھی بھی گر سکتی ہے۔ یہ ایک واضح اشارہ تھا کہ اسرائیل اب باقاعدہ طور پر پاکستان کو دشمن کے طور پر دیکھ رہا ہے، چاہے پاکستان نے خود ابھی قدم نہ اٹھایا ہو۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوتا ہے، یا اسرائیل چاہ بہار کے ذریعے ایران کی ساحلی تنصیبات پر حملہ کرتا ہے، تو کیا پاکستان محض مذمتی بیان دے گا؟ یا وہ عسکری سطح پر ایران کی مدد کرے گا؟ اس کا جواب فی الحال پاکستان کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی معاشرہ اس وقت تقسیم کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو ایران کی بھرپور حمایت کا خواہاں ہے۔ فلسطین، حزب اللہ، اور لبنانی عوام کے دفاع کے تناظر میں، وہ سمجھتا ہے کہ اگر ایران گرتا ہے تو اگلی باری پاکستان کی ہو سکتی ہے۔۔۔ دوسری طرف ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو ایران کو فرقہ وارانہ سیاست سے جوڑتا ہے اور پاکستان کو کسی بھی بیرونی جنگ سے دور رکھنے کا حامی ہے۔
یہی تقسیم پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں بھی جھلکتی ہے۔ جہاں کچھ عسکری دماغ ایران کے ساتھ اسٹریٹیجک اشتراک کے حق میں ہیں، وہیں کچھ حلقے پاکستان کو اس تنازع سے الگ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ خطے میں نئی جنگی لکیریں نہ کھنچیں۔
لیکن حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں، وہ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کو جلد یا بدیر کوئی حتمی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ یا تو وہ ایران کی پشت پر کھڑا ہو کر عالمی اسلامی بلاک کی قیادت کرے، یا پھر خاموشی کی چادر اوڑھ کر اگلے حملے کا انتظار کرے، جو شاید اس کی سرزمین پر بھی ہو سکتا ہے۔
اسی لیے اب یہ آوازیں زور پکڑ رہی ہیں کہ اسلامی ممالک کو متحد ہو کر ایک “اسلامی ڈیفنس بلاک” کی بنیاد رکھنی چاہیے — ایسا اتحاد جو نہ صرف فلسطین، ایران یا پاکستان کی حفاظت کرے بلکہ کسی بھی مظلوم مسلمان ملک کے دفاع کے لیے فوری ردعمل دے سکے۔ یہ اتحاد او آئی سی کے رسمی اجلاسوں سے کہیں بڑھ کر، عملی میدان میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔
16 جون کی رات ایران نے اسرائیل کے خفیہ تحقیقی مرکز، “وائزمین انسٹیٹیوٹ”، پر ایک براہ راست حملہ کر کے اس مقام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس خفیہ مرکز کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ گوگل تک کو اس بارے میں اپڈیٹ نہیں کیا گیا تھا۔ بہرحال اس حملے میں نہ صرف اسرائیل کے جدید تجرباتی نظام کو نقصان پہنچا بلکہ کئی اہم سائنسی و دفاعی منصوبے بھی معطل ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ایرانی درخشاں جوابی حکمت عملی کا ثبوت ہے اور اسرائیل کے لیے ایک نئی تنبیہ ہے کہ یہ جنگ صرف میزائلوں اور ڈرونز کی نہیں رہی، یہ فیصلوں، اتحادوں، اعتمادوں اور دھوکوں کی جنگ ہے۔ ایران کو بھارت پر اعتماد مہنگا پڑا، اسرائیل نے پاکستان کو دشمن قرار دیا، اور عالم اسلام خاموش کھڑا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان نے قیادت کا بیڑہ نہ اٹھایا، تو تاریخ ایک اور المیہ تحریر کر سکتی ہے۔ یہ وقت ہے، فیصلہ کرنے کا