لياری کا نوحہ یا سندھ حکومت کا نوحہ !

تحریر:ایم دانش

لیاری جوکہ کراچی کی قدیم ترین بستی ہے۔وہ آج تکلیف کی شکار ہے۔ 1839ء کو انگریزون کے کراچی پے قبضے سے پہلے کراچی کی آبادی 13ہزار تھی۔جوکہ لیار ندی کے کنارے سے لیکر سمندر تک پھیلی ہوئی تھی۔شہر قلعہ بند تھا اور لیاری ندی کی جانب جو دروازہ کھلتا تھا اس کو میٹھادر اور سمندر کے کنارے کی جانب کھلنے والے دروازی کو کالا در کہا جاتا تھا۔لیاری کا نام بھی قدیم لیاری ندی کی وجہ سے پڑا۔کراچی بنیادی طور پے سندھ کی طبعی جغرافیائی کے مطابق سندھ کے کوہستان کا شہر ہے۔جس کا پہاڑی سلسلہ مہر پہاڑ کی صورت مین کراچی مین آکر ختم ہوجاتا ہے، کراچی کے میٹھے پانی کا ذریعا بھی اس پھاڑی سلسلے مین سے بہتی ہوئی ندی ہے۔جوکہ شہری علائقی کے قریب تھی اور کراچی کے زرعی علائقے یعنی ملیر اور گڈاپ کو سیراب کرنے والی ندی تھی۔جہان کراچی کے میٹھے پانی کی سہولیت تھی۔وہان کراچی کی سرسبزی۔باغات ۔زراعت اور ڈیری فارمنگ کا ذریعا بھی تھی۔ میٹھے پانی کی سپلاۓ کے لیۓ ملیر کے علائقے مین دملوٹی کے نام سے کونۓ تھے جوکہ شہری آبادی کی ضرورتین پوری کرتے تھے۔انگریزون کی آمد کے بعد شہر کی آدم شماری بیس ہزار تھی۔جوکہ اکثر کراچی قلعے سے باہر آباد ہونا شروع ہو چکی تھی۔اس طرح1890ءکو شہر کی آبادی بڑھ کر ایک لاکھ ہوگئی۔خاص طور پے بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ ہونے کے بعد ہندوستان کے دوسرے علائقون سے ملازمت اور تجارت وغیرہ کے سلسلے مین لوگون کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا. جس می گجراتی۔مارواڑی۔راجستانی ہارسی۔آغاخانی۔خوجہ اور کاٹہیاواڑی میمن جوکہ بہت صدیون ہہلے سندھ کی خراب صورتحال کے باعث ہجرت کرگۓ تھے۔انہون نے اپنے بزرگون کے وطن مین امن وامان۔تجارت اور خوشحالی سن کر واپس لوٹنا شروع کیا۔اس لحاظ سے یہ شہر کاسموپولیٹن بن گیا۔پاکستان کے قیام کے دوران کراچی ڈسٹرکٹ کی آبادی چار لاکھ 43 ہزار تھی۔جوکہ آج بڑھ کر 2 کروڑ ہوگئی ہے۔یہ کراچی کا علائقہ لیاری جوکہ علم؛ادب کا مرکز تھا۔جس کے مدرسے مظہر العلوم مین امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی درس دیتے تھے اور جس کے عبداللہ ہارون کالج مین ملک کے بڑے ترقی ہسند دانشور اور شاعر فیض احمد فیض پرنسپال تھے۔لیکن لیاری آج انتہائی تکلیف مین ہے اور یہ تکلیف تو کئی دہائیون سے جاری ہے۔جب کراچی دہشتگردی اور لسانیت کا شکار تھی تو لیاری مین بھی دہشتگردون نے لیاری کی حفاظت کی آڑ مین دہشتگردی۔بھتہ خوری اور قتل وغارتگری شروع کی۔دراصل یہ لیاری کی جمہوری ؛قومی اور وطن دوست سیاست کے خلاف ایک بندش تھی۔ جوکہ لیاری امن کمیٹی کے نام پے شروع ہوئی تھی۔جس کو بھی کراچی کے دہشتگردون کی طرح ریاستی سرپرستی حاصل تھی۔ ریاست کے ساتھ سندھ سرکار کا بھی اس مین کسی حد تک تعاون حاصل تھا جوکہ ان کی مجبوری یا کراچی کی دہشتگردی کو روکنے کی کمزور کوشش تھی۔جس کے باعث لیاری جوکہ علم و ادب۔شعور اور ترقی پسندی کا مرکز تھا۔ وہان سے امن پسند شہریون کی نقل و مکانی شروع ہوئی.
اب اگرچہ صورتحال بہت پرسکون ہے۔لیکن لیاری کے اس قومی شعور اور عروج کو بہت سال لگین گے۔اسی سورش شدہ صورتحال مین لیاری کی معشت۔معاشرت اور تعلیم کو بہت بڑا نقصان ہوا اور بس ایک لاقانونیت کے تین عشرے ہین جوکہ لیاری کے عروج۔سکون۔امن و امان اور قانون کی حکمرانی کے لیۓ آج بھی چیلنج بنے ہوۓ ہین۔جس کا مثال لیاری مین قدیم ترین 61 عمارتون والا بحران ہے۔جس مین سے فورا 51 عمارات کو گرانے کا فیصلہ ہوا ہے۔یہ سب کچھ بھی تب ہوا ہے جب پانج منزلہ عمارت گرنے کا واقعہ ہوا ہے۔جس مین 28 انسان اجل کے شکار ہوۓ اور کروڑون کا نقصان ہوا۔
اسی موقع پے سندھ سرکار نے کچھ اقدام اٹھاۓ ہین۔جس کے مطابق ہر مرنے والے کے لیے 10لاکھ سرکاری امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔نہ صرف یہی بلکہ چار وزراۓ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوۓ دکھ کا اظہار بھی کیا ہے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اٹھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل اسحاق کہڑو کو بھی معطل کیا گیا ہے اور جو 2022ؑؑؑع سے لیاری مین ایس پی سی اے کے نمائندے مقرر تھے۔ان کو بھی تحقیق مین شامل کیا گیا ہے۔ سبدھ کے وزراۓ کی مشترکہ پریس کانفرنس کے مطابق اگر ڈی جی کا قصور ثابت ہوا تو اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جاۓ گی۔سب سے پہلے تو ہم سندھ سرکار کو مشورہ مشورہ دین گے کہ آپ کو اس واقعے پے افسوس اظہار کرنے بجاۓ شرمساری اور ندامت کا اظہار کرنا چاہیۓ۔کیونکہ سندھ سرکار کے زیر انتظام ایک اہم ادارے ایس پی سی اے کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے 28 قیمتی جانین اجل کا شکار ہوئی ہین۔ترقی یافتہ ممالک مین وابستہ وزاۓ بھی استعیفی دے دیتے ہین ۔لیکن ہمارے پاس شاید ابھی ایسا احساس اور ندامت محسوس نہین کی جاتی۔ایس پی سی اے کا ڈائریکٹر جنرل جوکہ کرپشن کا بے تاج بادشاہ بنا ہوا تھا۔جس کا سارا وقت پیسے اکٹھے کرنے مین گذرتا تھا اس کے خلاف 28 لوگون کے اموات کی ایف آئی آر درج کی جاۓ۔ کیونکہ یہ حادثا اتفاقی نہین بلکہ ایک مجرمانہ غفلت(criminal negligence) ہے۔
سندھ سرکار کو یہ بھی مشورہ دین گے کہ آئندہ انسانون کی جان بچانے کے لیے جو 51 عمارات گرائی جائین تو سب سے پہلے ایمرجنسی مین ان خاندانون کو ریسکیو کرکے انہین عارضی گھر دیۓ جائین۔ان کی خوراک۔صحت اور بچون کی تعلیم کا ہنگامی بنیادون پے بندوبست کیا جاۓ۔ایسا نہ ہو کہ سندھ سرکار کی روایتی کاکردگی کے مطابق سرکاری اعلان فقط اعلان ہی رہ جاۓ اور یہ ہزارون خاندان سڑکون کو ناپتے رہ جائین۔اگر سرکار گھرون کا بندوبست نہ کرسکے تو ان متاثرین خاندانون کو مارکیٹ رینٹ کے مطابق سندھ سرکار گھرون کا رینٹ ادا کرے اور ان عمارات کو دبارہ بنانے کے لیۓ ٹائیم مقرر کیا جاۓ کہ یہ عمارات دو یا تین برسون کے عرصے مین بنے گین تاکہ ان مین رہنے والون کو دوبارہ آباد کیا جاسکے۔اسی سارے کام مین سندھ کے وزیر اعلی کو اپنی نگرانی مین کام کروانا یوگا تاکہ کرپشن سے پاک ہوسکے اور اسی طرح بلڈنگ گرنے کا جو حادثا ہوا ہے ۔جس سے سندھ سرکار کے امیج کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔وہ دوبارہ بحال ہوسکے!