چھوٹے شہروں کے طلباء سے آئی ٹی کی تعلیم چھیننے کی سازش

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ: پنجاب اسمبلی میں ایک اہم اور سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر، رکن صوبائی اسمبلی اور معروف سینئر قانون دان چوہدری امجد علی جاوید ایڈووکیٹ نے نہایت مدلل اور دل سے نکلی ہوئی باتیں کیں۔ انہوں نے ہاؤس کے سامنے محکمہ ہائر ایجوکیشن کی نئی پالیسی پر سخت تشویش کا اظہار کیا جو کہ چھوٹے شہروں کے ہزاروں غریب طلباء کے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے۔چوہدری امجد علی جاوید نے کہا کہ حکومت پنجاب کا فوکس بالکل درست سمت میں ہے کہ آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس کے شعبے کو فروغ دیا جائے کیونکہ یہی شعبہ پاکستان کا روشن مستقبل ہے اور اس کے ذریعے ہماری ایکسپورٹ میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری انتظامیہ اس مثبت وژن کے بالکل برعکس پالیسیاں بنا رہی ہے جو ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف لے جا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے ایک ایسا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق پنجاب میں کسی بھی تعلیمی ادارے کو کمپیوٹر سائنس یا انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بی ایس پروگرام تب تک جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک وہ ایک مخصوص کونسل سے ایکریڈیشن حاصل نہ کرے۔ اس ایکریڈیشن کی فیس اور اس کے تقاضے اس حد تک پیچیدہ اور مہنگے ہیں کہ بڑی بڑی یونیورسٹیاں بھی اسے پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ چھوٹے شہروں کے تعلیمی ادارے، جہاں غریب طلباء سستی فیسوں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، بند ہو چکے ہیں۔چوہدری امجد علی جاوید کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے واضح طور پر اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یہ پالیسی چھوٹے تعلیمی اداروں کو بند کرکے بڑے نجی تعلیمی گروپوں کی سہولت کاری کے لیے بنائی جا رہی ہے۔ اُن نجی اداروں کی فیسیں لاکھوں روپے ہیں جنہیں ایک عام پاکستانی طالبعلم افورڈ ہی نہیں کر سکتا۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ پنجاب کی ایک سرکاری یونیورسٹی کو بی ایس کمپیوٹر سائنس میں صرف ڈیڑھ سو طلباء داخل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ ایک نجی یونیورسٹی صرف لاہور میں آٹھ ہزار سے زائد طلباء کو اسی پروگرام میں داخل کر رہی ہے، اور ہر طالبعلم سے دو سے ڈھائی لاکھ روپے سالانہ فیس وصول کی جا رہی ہے۔چوہدری صاحب نے واضح کیا کہ وہ خود ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹری سے ملاقات کر چکے ہیں اور ان سے اپیل کی ہے کہ یہ تعلیم دشمن پالیسی فوری واپس لی جائے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان نے پچھلے ایک دہائی میں غریب بچوں کے عزم، قربانی اور محنت سے ترقی کی ہے۔ ان بچوں نے پرانی کتابیں، سیکنڈ ہینڈ لیپ ٹاپس اور محدود وسائل کے ساتھ تعلیم حاصل کر کے خود کو منوایا ہے۔آخر میں انہوں نے چیئرمین اور تمام معزز اراکین اسمبلی سے اپیل کی کہ وہ ان پالیسیوں کا سخت نوٹس لیں، ایکریڈیشن کے پیچیدہ اور مہنگے نظام کو آسان بنایا جائے، یا حکومت خود ان اداروں کو مالی و فنی سہولیات فراہم کرے تاکہ چھوٹے شہروں کے طلباء اپنے گھر کے قریب، کم فیس میں تعلیم حاصل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف تعلیم کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئی ٹی مستقبل کا سوال ہے، اگر آج ہم نے ان چھوٹے شہروں کے خوابوں کا گلا گھونٹ دیا تو کل ہم پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکیں گے۔*