سر زمین اٹھارہ ہزاری کے بزرگ ولی اور حق گو خطیب حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحب نقشبندی و مجددی رحمة اللّٰہ علیہ6
آپؒ 1962ء کو سوبھیانہ غربی بستی چاولی نزد چاہ حسن والا میں پیدا ہوئے۔آپ کا اسم گرامی : ” غلام جعفر “ تھا۔
سلسلہ نسب : ” غلام جعفر خانؒ ولد غلام حسنؒ خان ولد گہنے خانؒ والد شیر خانؒ۔آپؒ کا تعلق بلوچوں کی اعلٰی ترین شاخ رند بلوچ سے ہے۔حضرت مولانا غلام جعفر خان صاحبؒ کے والد، آپؒ کے دادا اور پردادا سب کھیتی باڑی کرتے تھے۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحبؒ نے مقامی سکول میں پرائمری کی۔ پرائمری کے امتحان کے بعد حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ نے مولانا غلام جعفر صاحبؒ کو علاقہ چاہ حسن والا میں اپنے قائم کردہ مدرسہ اشاعت الاسلام میں داخل کیا۔ جہاں پہ مولانا غلام جعفر خان صاحبؒ نے مولوی اللہ بخش صاحبؒ سے ناظرہ قرآن مجید پڑھا اور چند پارے حفظ کئے بعد ازاں ولیّ کامل، حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ نے (1971ء) میں 18ہزاری میں مدرسہ دارالعلوم محمدیہ کی بنیاد رکھی تو مولانا غلام جعفر صاحبؒ کو بھی 18ہزاری لے آئے۔ تو یہاں پہ مولانا غلام جعفر صاحبؒ نے قاری محمد حیات صاحبؒ (جن کا تعلق فتح پور، لیہ سے تھا) سے قرآن مجید مکمل حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحبؒ نے (1974ء) کو اسی دارالعلوم محمدیہ 18ہزاری میں درس نظامی کا آغاز کیا۔درجہ اولیٰ کے بعد (1975ء) میں مولانا غلام جعفر صاحبؒ کے استاد حضرت مولانا محمد نواز سیال صاحب دامت برکاتہ جو 18ہزاری میں پڑھاتے تھے وہ یہاں سے دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا میں پڑھانے کیلئے تشریف لے کر جانے لگے تو مولانا غلام جعفر صاحبؒ بھی ساتھ ہی کبیر والا چلے گئے۔دارالعلوم کبیروالا میں درس نظامی کے تمام درجات پڑھے اور اسی دارالعلوم عیدگاہ کبیر والا میں (1982ء) درس نظامی مکل کیا۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحبؒ نے پیر طریقت رہبر شریعت حضرت مولانا عبدالحی بہلوی صاحبؒ سے بیعت کی ، حضرت بہلویؒ کی وفات کے بعد مولانا غلام جعفر صاحبؒ کی زندگی کا اکثر و بیشتر حصہ اپنے علاقائی اور خاندانی بزرگ ولیّ کامل، حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ کی صحبت میں گزرا اور حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ نے تعلیم کے بندوبست کیساتھ مولانا غلام جعفر صاحبؒ کی تربیت بھی خود فرمائی۔ اور اپنی تربیت کے رنگ میں قاری صاحبؒ کو ایسا رنگا کہ جس شخص کی زبان پر حضرت حکیم صاحبؒ کے اوصاف جمیلہ کا ذکر آتا ہے تو بعد ازاں قاری صاحبؒ کے اوصاف جمیلہ کا ذکر بھی کرتا نظر آتا ہے۔ حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحب رحمہ اللہ کی وفات (15 جون 2009ء) کو ہوئی تو اس کے بعد حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحبؒ نے اپنے استاد محترم حضرت مولانا پیر محمد نواز سیال صاحب قادری دامت برکاتہ (ملتان) سے بیعت کی اور پھر تاحیات مولانا نواز سیال صاحب دامت برکاتہ کی زیر تربیت رہے۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحبؒ کو آپؒ کے استاد جی اور مرشد حضرت مولانا پیر محمد نواز سیال صاحب دامت برکاتہ نے تصوّف کے اسباق طے کروانے کے سلسلہ نقشبندیہ اور قادریہ میں اجازت و خلافت سے نوازا۔ بعد ازاں مرشد عالَم حضرت مولانا پیر غلام حبیب صاحب نقشبندی ومجدّدیؒ ( چکوال) کے جانشین صاحبزادہ حضرت مولانا پیر عبدالرّحیم صاحب نقشبندی و مجدّدی دامت برکاتہ نے اعزازاً سلسلہ نقشبندیہ میں اجازت و خلافت سے نوازا۔ حضرت مولانا احمد علی لاھوریؒ کے پوتے حضرت مولانا پیر محمد اجمل قادری صاحب دامت برکاتہ (لاھور) نے حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ کو سلسلہ قادریہ میں اجازت و خلافت سے نوازا۔
18 ہزاری شہر سے تقریباً 2 کلو میٹر دور مسجد حق چار یار بستی کوٹ آرائیاں میں حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ ہر عیسوی ماہ کی ستائیسویں شام کو ذکر و مراقبہ کرواتے تھے۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ نے جب تعلیم سے فراغت حاصل کی تو تو آپؒ کے مربّی و محسن حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ نے اپنے مدرسہ دارالعلوم محمدیہ 18ہزاری میں تدریس اور امامت کی ذمہ داری حضرت قاری صاحبؒ کو سونپی۔ تو مدرسہ ھذا میں حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ نے تقریباً 30 سال تدریس اور کم و بیش 27 سال تک امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے ۔
(2010ء) کے بعد تبلیغی اسفار بڑھنے لگے تو بیانات کی مصروفیت کی وجہ سے (2012ء) کے آخر سے مستقل خطابت کے شعبہ سے منسلک ہوگئے۔
دین احمد ﷺ کی اشاعت کیلئے کمر بستہ ہو کر نکلے اور چند سالوں میں ملک پاکستان کے اکثر و بیشتر شہروں میں دین کا پیغام پہنچایا۔
مولانا غلام جعفر صاحبؒ کا بیان کرنے کا انداز نہایت ہی سادہ اور پُر اثر اور فرقہ واریت سے پاک تھا۔ آپؒ کسی کی کاپی نہیں کرتے تھے۔ آپکی آواز و انداز خدائی عطاء تھی۔ آپ جٹاکے طریقہ سے مثالیں دے دے کر بات سمجھاتے اور بات سامعین کے کانوں سے ہو کر دل میں اتر جاتی تھی اور دماغ میں بیٹھ جاتی۔ دوران بیان محسوس یوں ہوتا تھا کہ حضرت جیؒ پر من جانب اللہ الہام ہو رہا ہے اور حضرت وہی بولتے جا رہے ہیں۔ دوران بیاں آپؒ زار و قطار روتے بھی تھے اور مجمع کو رولاتے بھی تھے اور موقع کی مناسبت سے سامعین کو ہنساتے بھی تھے۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت جیؒ تمام فرقہ کے لوگوں میں مقبول تھے۔
زندگی کے آخری چند سال آپؒ نے شہر شہر، قریہ قریہ، محلہ محلہ، گلی گلی، کوچہ کوچہ جو صدا لگائی وہ یہ تھی کہ لوگو: مرنے والوں کی وراثت کو شرعی طریقے سے تقسیم کرو اس میں بیٹیاں اور بہنیں بھی شریک ہوتی۔
(2005ء) کو 18ہزاری شہر سے تقریباً 2 کلو میٹر کے فاصلے پر بستی کوٹ آرائیاں میں حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ نے اپنے ادارہ مدرسہ تعلیم القرآن کی بنیاد رکھی۔ جس کا سنگ بنیاد حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ نے رکھا۔18ہزاری تھانہ کے قریب بستی ریتڑی میں موجود جامع مسجد ابوبکر صدیقؓ کا انتظام حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ کے سپرد کیا گیا تو آپؒ نےبمطابق 27 رمضان المبارک (1444ھ) بمطابق 18 اپریل (2023ء) کو اس مسجد کی تعمیر نَو کیلئے سنگ بنیاد رکھا۔ اور الحمدللہ ایک سال کے اندر تین منزلہ مسجد کی بلڈنگ تیار ہو گئی۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ کی ایک ہی شادی تھی جو حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ کی بھانجی کے ساتھ ہوئی۔
حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ کے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ایک بیٹا بچپن میں ہی وفات پا گیا تھا باقی تمام اولاد حیات ہے
بیٹوں کے نام یہ ہیں ۔۔۔
محمد عبداللّٰہ جعفر مرحوم
محمد عبیداللّٰہ انور
محمد کلیم اللّٰہ اجمل
محمد نعیم اللّٰہ اکمل
محمد حبیب اللّٰہ ا
آپ شب و روز کی دعاؤں کے اہتمام میں مشغول رہتے۔ پیدل چلنے کا بے حد شوق تھا۔ وقت کی پاپندی، وعدہ وفائی اور حق بیانی آپؒ کا شیوہ تھا۔ بیانات کی فیس کبھی بھی طے نہ کرتے۔ آپؒ شاعر بھی تھے “دیوان جعفر” کے نام سے آپؒ نے ایک رسالہ شائع کیا جس میں توحید باری تعالی، نعتیں اور مختلف عنوانات پر نظمیں ہیں۔ حضرت جیؒ اپنے بیانات میں ہر واقعہ کی مناسبت سے خود اشعار تیار فرماتے تھے۔
المختصر حضرت قاری صاحبؒ سخاوت، قناعت، اطاعت، شجاعت، ولایت، تقوٰی، علم، حلم، عاجزی، حق بیانی، اتباع سنت، سادگی، عاجزی ، صبر و تحمل اور رحم دلی میں اپنی مثال آپ تھے۔
28 فروری 2024ء بمطابق 17 شعبان المعظم 1445ھ منگل اور بدھ کی درمیانی شب رات تقریباً ڈیڑھ بجے حضرت مولانا قاری غلام جعفر خان صاحب رحمہ اللہ نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا قاری غلام جعفر صاحبؒ نے تمام زندگی سنت کے مطابق گزاری اور مرض الوفات میں کئی بار فرمایا کہ میں نے اللہ تعالی سے دعاء مانگ رکھی ہیکہ مجھے تریسٹھ برس مسنون عمر عطاء فرمائیں۔ تو اللہ تعالی نے حضرت جیؒ کی دعاء قبول فرما لی اور تریسٹھ سال کی مسنون عمر پوری فرما کے آپؒ دار فانی سے دار بقا کی طرف روانہ ہو گئی۔
مولانا مفتی محمد طاہر صاحب، مولانا محمد حقنواز صاحب، مولانا سجاد خان صاحب، حافظ محمد رمضان خان وغیرہ ….. نے حضرتؒ کو غسل دیا۔
حضرت جیؒ کی نماز جنازہ مدرسہ دارالعلوم محمدیہ بھکر روڈ کے سامنے موجود میرج ہال کے وسیع و عریض میدان میں ادا کی گئی۔ انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔ باوجود وسعت کے یہ میدان نماز جنازہ کیلئے آنے والوں کیلئے کم پڑ گیا۔
حضرت جیؒ کی نماز جنازہ آپؒ کے استاد اور مرشد پیر طریقت، رہبر شریعت حضرت مولانا محمد نواز سیال صاحب دامت برکاتہ نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں ہزاروں علماء، طلباء، مشائخ، راہنما اور عام لوگوں نے شرکت کی چشم 18ہزاری نے مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ اور مولانا غلام جعفر صاحبؒ کے جنازوں کے علاوہ تحصیل بھر میں اتنا بڑا جنازہ نہیں دیکھا۔
آپؒ کی تدفین آپ کی دلی خواہش کے مطابق شہر سے تقریباً 13 کلو میٹر دور کوٹلی باقر شاہ میں حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ کے ذاتی قبرستان میں حضرت مولانا حکیم عبداللطیف صاحبؒ کے قریب ہوئی۔
ے ہمارے پروردگار ہمارے حضرت جی نوّر اللّٰہ مرقدہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرما اور ہم سب کو صبر جمیل نصیب فرما ۔۔۔ آمین








