لاٹھی, ملان اور قانون !

تحریر: ایم دانش

پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ یہاں غربت ہے، بے روزگاری ہے یا کرپشن ہے۔ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں قانون کمزور ہے — اور کچھ طبقات اس کمزوری کو نہ صرف کھلے عام روندتے ہیں بلکہ اسے فخر کا تمغہ بنا کر پیش کرتے ہين۔
مذہبی شخصیات اور جماعتیں، جو بظاہر دین کی خدمت کا دعویٰ کرتی ہیں، آج ریاست کی رٹ کو جوتے کی نوک پر رکھ کر قانون کے سامنے ایسے اکڑ کر کھڑی ہیں جیسے یہ ملک ان کے ذاتی مدرسے یا خانقاہ کی جاگیر ہو۔ وہ سرعام میڈیا کیمروں کے سامنے دھمکیاں دیتے ہیں، گالیاں بکتے ہیں، ہتھیار لہراتے ہیں، اور اپنی ویڈیوز خود سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں— گویا یہ قانون شکنی نہیں بلکہ ایک قابلِ فخر کارنامہ ہے۔
ہم ایک طرف ساتویں ایٹمی قوت ہونے کا غرور کرتے ہیں، اسلام کا قلعہ بننے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور “دنیا کو فتح کرنے” کے خواب دیکھتے ہیں، لیکن دوسری طرف ہماری ریاست اتنی بےبس ہے کہ ایک مولوی، ایک پیر یا ایک مذہبی جماعت کے چند سو کارکن اس کے پورے نظام کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔ یہ وہی ملک ہے جہاں ایک مولوی چیف جسٹس کو کھلے عام ننگی گالیاں دیتا ہے اور قانون خاموش رہتا ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں اسلام آباد کے وسط میں ایک مولانا ایک پولیس اہلکار خاتون کو کہتا ہے: “دوپٹہ لو ورنہ گولی مار دوں گا” — اور اس کے ہاتھ میں ہتھیار بھی ہوتا ہے، مگر ریاست پھر بھی آنکھیں بند کر لیتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایسی جرات کہاں سے آتی ہے؟ یہ ہمت کیسے پیدا ہوتی ہے کہ کوئی شخص یا جماعت پورے نظامِ انصاف، پولیس، اور حکومت کو کھلے عام چیلنج کرے اور اسے پتہ ہو کہ اس کے خلاف کچھ نہیں ہوگا؟ جواب سیدھا ہے: ریاست کی بزدلی اور معاشرے کی خاموش۔
یہ بزدلی صرف حکومت کی نہیں، یہ پوری سوسائٹی کی ہے۔ ہم سب یا تو خوف سے خاموش ہیں، یا مفاد کے اسیر ہیں، یا منافقت کے پردے میں چھپے ہوئے ہیں۔ مذہب کے نام پر ہونے والی ہر بدتمیزی کو برداشت کرنا، ہر دھمکی کو نظرانداز کرنا، اور ہر انتہا پسندی کو “عقیدت” یا “دینی غیرت” کے نام پر جواز دینا — یہ سب ہمیں اس دلدل میں لے آیا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یہ حقیقت تلخ ہے کہ ہمارے ہاں ملان، لاٹھی اور ہجوم قانون سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اور جب تک یہ طاقت ختم نہیں ہوگی، یہ ملک کبھی بھی ایک باوقار، محفوظ اور مہذب ریاست نہیں بن سکے گا۔
اب کیا کرنا چاہیے؟
1. حکومت کے لیے:
مذہبی انتہا پسندی اور قانون شکنی کرنے والوں پر بلا امتیاز کارروائی کی جائے، چاہے وہ کتنے ہی بڑے “پیر صاحب” یا “مولانا” کیوں نہ ہوں.
نفرت انگیز تقاریر اور مسلح دھمکیوں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت فوری مقدمات میں شامل کیا جائے۔
پولیس اور سکیورٹی اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر کے قانون نافذ کرنے کی صلاحیت دی جائے۔
2. سول سوسائٹی کے لیے:
خاموشی توڑیں اور کھل کر قانون کی بالادستی کی حمایت کریں، چاہے مسئلہ مذہبی طبقے سے ہی کیوں نہ ہو۔
مذہبی رہنماؤں کے احتساب کو “مذہب دشمنی” کے طعنے سے الگ کیا جائے اور اسے شہری ذمہ داری سمجھا جائے۔
3. دانشور طبقے کے لیے:
تحریروں، لیکچرز اور میڈیا کے ذریعے اس بیانیے کو توڑا جائے کہ مذہبی قیادت قانون سے بالاتر ہے۔
نوجوان نسل کو مذہبی آزادی اور قانون کی بالادستی کے درمیان توازن کا شعور دیا جائے.
4. میڈیا کے لیے:
سنسنی پھیلانے کے بجائے حقائق پر مبنی رپورٹس اور بیک گراؤنڈ تحقیقات سامنے لائی جائیں۔
مذہبی جماعتوں کے تشدد اور دھمکیوں کو “ریٹنگ” کے لیے گلوریفائی نہ کیا جائے۔
5. عوام کے لیے:
اندھی عقیدت کے بجائے باشعور حمایت کا رویہ اپنائیں۔
ایسے جلسوں، جلوسوں اور تحریکوں کا حصہ نہ بنیں جو قانون کو روندتی ہیں اور ریاست کو کمزور کرتی ہیں۔
اگر آج ہم نے اپنی زبان، قلم اور عمل سے اس بگڑے ہوئے توازن کو درست نہ کیا، تو کل کو یہ صرف “مولوی” نہیں ہوں گے جو قانون توڑیں گے— یہ ہر بااثر گروہ کرے گا، اور پھر ہم سب کی زندگی ایک ایسے جنگل میں گزرے گی جہاں نہ کوئی انصاف ہوگا اور نہ کوئی تحفظ۔