جنتی شہزادے۔۔الوداع

تحریر۔ حاجی غلام شبیر منہاس

اسکا نہ تو کوئی لمبا چوڑا تعارف تھا اور نہ کوئی فین فالونگ۔۔۔
وہ پیشے کے اعتبار سے بھی مروجہ نظام کی نظر میں کوئی اتنا اہم نہیں تھا۔۔نہ ٹک ٹاکر، نہ سیاسی کارندہ اور نہ کسی میڈیا ہاوس کا ورکر ۔۔۔
وہ بس ایک سادہ سا بلکہ انتہائی معصوم سا نوجوان عمر شاہد تھا۔۔داڑھی ابھی پوری طرح نہیں آئی تھی۔۔قرآن کا حافظ تھا اور شاید پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی۔۔۔کل اس کی شہادت تک اس نوجوان کا باپ بھی زندہ تھا، دادا بھی( بقیہ عمر وہ بس اب سانسوں کے ٹوٹنے کے منتظر رہیں گے، کیونکہ انکی زندگی کل رات اس شہزادےکیساتھ ہی دفن ہو چکی)۔۔اسکے چھوٹے سے گھر میں سکون تھا، سادگی تھی، پاکیزگی تھی، اور مستقبل کی صاف ستھری پلاننگ کرتی اسکی والدہ ماجدہ اور اسکی بہنیں غربت کے باوجود زندگی کو پرسکون انداز میں بسر کر رہی تھیں۔۔۔
وہ حسب معمول صبح سویرے اٹھا، وضو کیا اور نماز کیلئے اپنی مسجد کیطرف چل پڑا جہاں پہلے سے تاک میں بیٹھے فرد یا افراد اس پہ حملہ آور ہوئے اور اس کو فائر مار کر وہیں شہید کر دیا۔
ہم جس سرزمین کے باسی ہیں وہاں شاید یہ خبر کوئی خبر نہ ہو۔۔اور اسکو کوئی اہمیت یا پذیرائی نہ مل پائے۔۔کیونکہ یہاں ایک ایک دن میں چار چار سگے بھایئوں کو شہید کیا گیا اور ان جیسے سانحات پہ بھی نہ زمین پٹھی اور نہ آسمان ہلا۔۔۔
دنیا میں کہیں بھی اس جیسے حادثات کی روک تھام شاید ہی ممکن ہو۔۔۔بڑے بڑے لوگ ہزار ہا احتیاطی تدابیر کے باوجود مار دیئے جاتے ہیں۔۔مگر ان حادثات کو ٹیسٹ کیس بنا کر ان عناصر کو ایسا سبق ضرور سکھایا جا سکتا یے کہ آیندہ کوئی بھی شخص بلاتخصیص رنگ و نسل اور مذہب و مسلک ایسا فعل کرنا تو درکنار سوچنے سے بھی گریز کرے۔۔مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔۔ہمارا سسٹم مرنے والے کی حیثیت، اسکا بیک گراؤنڈ، اسکی فین فالونگ، اسکا عہدہ اور شعبہ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اس کیس کو کیسے لینا ہے۔۔۔اگلی بدقسمتی یہ ہے کہ جو اس نوجوان کی مقتل گاہ تھی وہاں کی آب وہوا بھی شاید اب ان جیسے وجودوں سے تنگ آ چکی ہے۔۔۔ان ناہموار موسموں کے بیچ گھرے شہراقتدار کو مساجد کی مسماری سے شراب کے پرمٹوں تک میں شاید اسی طرح کے سرپھرے رکاوٹ بنتے نظر آتے ہیں۔۔۔اس لیئے ان کے خون کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو کسی عاشق مزاج ٹک ٹاکر کا خون حاصل کرتا ہے۔۔۔اگر اس کو مزید مختصر اور آسان کیا جائے تو یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ سسٹم اب اس نگری میں مزید عبدالرحمن معاویہ جیسے لوگوں کو افورڈ نہیں کر رہا۔۔۔جو “نقوی” کے قد کے برابر لگے پودوں کو اکھاڑ پھینکیں۔۔۔بلکہ سسٹم اب ان راتوں رات لگائے گئے پودوں کو پانی دینے والوں کا متلاشی یے۔۔۔۔ مگر یہ لوگ جو پتھروں کی دیواریں کھڑی کر کے دوبارہ اللہ اکبر صدایئں لگانا شروع کر دیں۔۔ ان کا اللہ ہی حامی و ناصر ہو۔۔۔اسی خاندان کے اس کم سن شہزادے کیلئے الوداع۔۔۔۔اور درجات کی بلندی کیلئے ان گنت دعایئں۔۔۔۔
غلام شبیر منہاس