*”میری خاموشی شرافت تھی”*

تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ*

*انسان کی شخصیت میں کئی پہلو ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر چھپے رہتے ہیں لیکن وقت اور حالات انہیں آشکار کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ وہ دراصل شرافت اور برداشت کی علامت ہوتی ہے۔ یہی حال شاعر کا بھی ہے، جس کی زندگی میں دکھ اور تکلیفیں وراثت کی طرح نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں، لیکن وہ انہیں لفظوں کا جامہ پہنا کر دنیا کے سامنے محبت اور درد کی صورت میں پیش کرتا ہے۔”میری خاموشی شرافت تھی مری غم کی املاک وراثت تھی مری”یہ وہ احساس ہے جس میں ایک طرف صبر کی انتہا ہے تو دوسری طرف غموں کی وراثت کا دکھ۔ یہی وراثت شاعری کے روپ میں ڈھل کر دنیا کو تحفے کے طور پر ملتی ہے۔انسان کی فطرت میں سادگی اور معصومیت اکثر جلدی بھروسہ کرنے کا باعث بنتی ہے۔ شاعر نے اپنی معصوم فطرت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ”جلد کر لینا بھروسہ سبھی پرجلد کتنی معصوم سی فطرت تھی مری”یہ حقیقت ہے کہ حساس دل رکھنے والے لوگ ہمیشہ دوسروں پر جلد اعتماد کرتے ہیں اور اکثر دھوکے کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر یہی معصومیت ان کی اصل پہچان بن جاتی ہے۔شاعر اپنی پہچان کو اپنے سخن، اپنی شاعری اور شدتِ احساس میں دیکھتا ہے۔ بزم و محفل میں داد و تحسین سمیٹنا اس کے کلام کی طاقت ہے۔”میری پہچان تھی میرا یہ سخن میرے اشعار میں شدت بھی مری تھی”یہ شدت ہی وہ چراغ ہے جو محفل میں شہرت بخشتا ہے اور شاعر کو ایک خاص مقام عطا کرتا ہے۔شاعری شاعر کی محبت ہے، اس کا جنون ہے۔ یہ اس کے الفاظ کا ایسا اظہار ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے۔ شاعر کے نزدیک شاعری اور چائے ایک نشہ ہیں، ایک ایسی عادت جسے وہ کبھی ترک نہیں کر سکتا۔”میرے الفاظ میں تھا میرا جنوں شاعری میری محبت تھی مری شاعری اور یہ چائے ہیں نشہ چھوڑ سکتی نہیں عادت تھی مری”یہاں شاعر اپنی زندگی کے دو اہم سہاروں کو بیان کرتا ہے؛ چائے جو ذہن کو سکون دیتی ہے اور شاعری جو دل کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔آخر میں شاعر قلم کی طاقت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہی قلم ہے جس نے اسے لڑنا سکھایا، حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا۔”مجھ کو لڑنا ہے سکھایا اسی نےاس قلم میں چھپی طاقت تھی مری”یہ کالم دراصل اس پیغام کی عکاسی کرتا ہے کہ شاعر کا اصل سرمایہ اس کی حساسیت، اس کی معصومیت اور اس کے قلم کی طاقت ہے۔ یہ سب کچھ اسے دنیاوی غموں سے نہیں بلکہ اپنے اندر چھپے حوصلے اور لفظوں کے خزانے سے ملا۔شاعری انسان کے اندر کے دکھ، خوشیاں، محبت اور جنون کا عکس ہے۔ شاعر اپنی ذات کے دکھوں کو سب کے سامنے لفظوں میں ڈھالتا ہے،اور یہی اس کی اصل پہچان ہے۔ اس کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ شرافت ہے، اس کا غم وراثت نہیں بلکہ طاقت ہے، اور اس کا قلم اس کی اصل قوت ہے۔*