مدارس میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیان۔حکومیت اور والدین کی ذمہ داری۔

تحریر: ایم دانش

پاکستان میں مدارس ایک عرصے سے دینی تعلیم اور قرآن و حدیث کی تدریس کا مرکز رہے ہیں۔ یہاں لاکھوں بچے اور نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں ان اداروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ یہ مسئلہ معاشرتی سطح پر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اکثر والدین اپنے بچوں کو یہ سوچ کر مدارس بھیجتے ہیں کہ وہ دینی ماحول میں محفوظ رہیں گے، لیکن جب انہی اداروں سے زیادتی کے کیسز منظرِ عام پر آتے ہیں تو والدین اور معاشرہ شدید صدمے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

ان واقعات کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ نگرانی کے مؤثر نظام کا نہ ہونا ہے۔ بیشتر مدارس غیر رجسٹرڈ ہیں اور ان کی سرگرمیوں پر حکومتی نظر نہیں ہوتی۔ بچوں کو ہاسٹلوں میں استاد یا بڑے طلبہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، جہاں وہ تنہائی اور کمزور پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے آسان شکار بن جاتے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ متاثرہ بچے اور ان کے والدین اکثر بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتے ہیں۔ یہی خاموشی مجرموں کو مزید حوصلہ دیتی ہے۔ تحقیق سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اکثر مدارس کے اندرونی ماحول میں استاد کو مطلق اختیار حاصل ہوتا ہے، اور بچے خوف یا دباؤ میں آ کر کسی کو کچھ نہیں بتا پاتے۔

معاشرتی رویے بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں جنسی زیادتی کو عموماً بدنامی سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ قصور وار بچہ نہیں بلکہ مجرم ہوتا ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے کیسز دبائے جاتے ہیں اور ظالم کو سزا نہیں ملتی۔ میڈیا پر خبریں آتی ہیں لیکن پھر معاملہ دب جاتا ہے، اور کوئی پائیدار اصلاحی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

اس مسئلے کا حل فوری اور جامع اقدامات میں ہے۔ سب سے پہلے حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ تمام مدارس رجسٹریشن کے نظام میں آئیں اور ان پر واضح نگرانی ہو۔ ان اداروں میں بچوں کے تحفظ کی پالیسیز بنانا لازمی قرار دیا جائے، جن کے تحت ہاسٹل کے معاملات، استاد اور شاگرد کے تعلقات، اور شکایات کے اندراج کا ایک شفاف طریقہ کار موجود ہو۔ ہر مدرسے میں ایک ایسی کمیٹی قائم کی جائے جس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین اور مقامی کمیونٹی کے نمائندے بھی شامل ہوں تاکہ بچوں کی شکایات فوری طور پر سنی جا سکیں۔

مزید یہ کہ بچوں کو خود بھی آگاہی دی جائے کہ اگر ان کے ساتھ کوئی نامناسب رویہ رکھا جائے تو وہ فوراً اس کی اطلاع دیں۔ مدارس کے نصاب میں بچوں کے تحفظ اور جنسی تعلیم کے بنیادی اسباق شامل کیے جا سکتے ہیں تاکہ بچے کم از کم یہ پہچان سکیں کہ زیادتی کیا ہوتی ہے اور اس سے کس طرح بچا جا سکتا ہے۔

قانونی سطح پر بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ ایسے کیسز کو فوری سماعت اور سخت سزا کے دائرے میں لایا جائے۔ جب تک مجرموں کو عبرتناک سزائیں نہیں ملیں گی تب تک یہ رجحان کم نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی پولیس اور تفتیشی اداروں کو بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز سنجیدگی سے لینے اور متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے کی ٹریننگ دی جائے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ والدین اندھی عقیدت میں اپنے بچوں کو ایسے ماحول میں نہ چھوڑیں جہاں ان پر نظر رکھنے والا کوئی نہ ہو۔ انہیں چاہیے کہ وہ وقتاً فوقتاً بچوں سے بات کریں، ان کے مسائل سنیں اور ان پر بھروسہ کریں۔ اگر کوئی بچہ ڈر یا اداسی ظاہر کرے تو اس کو نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اس کی بات کو توجہ سے سنا جائے۔

یہ مسئلہ صرف مدارس کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح نہیں دیں گے، اس وقت تک ایسے واقعات بڑھتے رہیں گے۔ مدارس کو اصلاح کی ضرورت ہے لیکن ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ ہر بچہ محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکے اور اس کا مستقبل محفوظ رہے۔