سیلاب، تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کی کاوشیں

تحریر: محمد زاہد مجید انور

*قدرتی آفات ہمیشہ انسانی زندگی کے معمولات کو متاثر کرتی ہیں۔ سیلاب ایک ایسی آفت ہے جو نہ صرف لوگوں کے گھروں، کھیتوں اور مال مویشیوں کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ بچوں کی تعلیم کو بھی متاثر کر دیتی ہے۔ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تحصیل کمالیہ اور پیر محل کے عوام اس وقت اسی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد نعیم سندھو نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے سیلاب متاثرہ علاقوں کے 49 سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں اور انہیں پانچ ستمبر تک بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ یہ اقدام بظاہر ایک وقتی فیصلہ ہے لیکن اس کے پیچھے طلبہ و اساتذہ کی جان و مال کی حفاظت کا جذبہ کارفرما ہے۔سی ای او ایجوکیشن راحیلہ جمیل کے مطابق اگر صورتحال میں بہتری آئی تو یہ سکول پانچ ستمبر سے پہلے بھی کھولے جا سکتے ہیں۔ یہ لچکدار پالیسی اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم نہ صرف حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ بچوں کے تعلیمی نقصان کو کم سے کم کرنے کی سنجیدہ کوشش بھی کر رہے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ سیلاب جیسے حالات میں سکول بند کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان بچوں کا تعلیمی نقصان کیسے پورا کیا جائے گا؟ آج کا سبق کل کی بنیاد ہے۔ اگر یہ بنیاد کمزور ہو تو آنے والے دنوں میں ہمارے بچوں کی علمی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور محکمہ تعلیم ایمرجنسی پلان کے تحت ان سکولوں کے طلبہ کے لیے متبادل تعلیمی سرگرمیوں کا انتظام کریں۔ مثلاً قریبی محفوظ سکولوں میں عارضی کلاسز قائم کی جا سکتی ہیں یا پھر آن لائن اور ہوم ورک کی بنیاد پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔یہ فیصلہ ایک مثبت پیغام بھی ہے کہ ضلعی انتظامیہ انسانی جان کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ کیونکہ سکول بند کرنے کا مطلب تعلیم کو روکنا نہیں بلکہ بچوں کو محفوظ رکھنا ہے۔ تعلیم بعد میں بھی مکمل کی جا سکتی ہے لیکن اگر زندگی کو خطرہ لاحق ہو تو یہ کمی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔آخر میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایسے حالات میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو محفوظ رکھیں اور اس دوران ان کی اخلاقی و دینی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ یہ وقتی تعلیمی وقفہ ان کی شخصیت سازی کے لیے سودمند ثابت ہو سکے۔سیلاب کی یہ آزمائش ہمیں یہ سکھا رہی ہے کہ تعلیم اور تحفظ ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ ہمیں دونوں کا توازن برقرار رکھنا ہوگا۔*