سیلاب، آزمائش اور ریاستی اداروں کا کردار
تحریر۔۔محمد زاہد مجید انور
*پیرمحل اور گردونواح میں دریائے راوی کی طغیانی سے متاثرہ لوگ آج بھی مشکلات کی گھڑی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ پانی کی بے رحم موجوں نے جہاں ہزاروں ایکڑ کھڑی فصلوں کو تباہ کیا، وہیں سینکڑوں خاندانوں کو بے گھر کر کے امداد اور بحالی کے منتظر کر دیا۔ مگر ایسے کٹھن وقت میں ریاستی ادارے، سول انتظامیہ اور افواجِ پاکستان ایک بار پھر عوام کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔گزشتہ روز کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل محمد طارق پیرمحل پہنچے۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد نعیم سندھو اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبادت نثار بھی موجود تھے۔ کور کمانڈر نے دریائے راوی کے سیلابی پانی سے متاثرہ علاقوں کا فضائی اور زمینی معائنہ کیا اور ریلیف کیمپس کا دورہ کیا جہاں سینکڑوں متاثرہ خاندان مقیم ہیں۔کیمپوں میں تقسیم ہونے والا راشن، میڈیکل سہولیات اور متاثرہ افراد کی دیکھ بھال، یہ سب کچھ اس بات کا مظہر ہے کہ ریاست نے اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑا۔ کور کمانڈر نے متاثرین سے براہِ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا: “یہ وقت قربانی اور یکجہتی کا ہے، پاک فوج اور سول ادارے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔” ان کے اس عزم نے وہاں موجود متاثرہ خاندانوں کو حوصلہ اور تسلی دی۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو اور ڈی پی او عبادت نثار بھی ہر لمحہ فیلڈ میں موجود ہیں۔ کبھی وہ ریلیف کی تقسیم کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں، کبھی متاثرہ گاؤں میں جاکر زمینی حقائق دیکھتے ہیں۔ یہ وہ قیادت ہے جو محض دفتری کرسی پر بیٹھ کر حکم نہیں دیتی بلکہ عملی طور پر عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔سیلاب صرف پانی کی یلغار نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک آزمائش ہے۔ یہ آزمائش اداروں کی بھی ہوتی ہے اور عوام کے حوصلے کی بھی۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پیرمحل میں فوج، سول انتظامیہ، پولیس اور عوام سب ایک دوسرے کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔آج جب متاثرین کے چہروں پر امداد ملنے کے بعد کچھ سکون اور مستقبل کی اُمید دکھائی دیتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اجتماعی کوششیں ہمیشہ ثمر آور ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب بھی اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں، کیونکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہر فرد کی مدد قیمتی ہے۔*








