بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب سے بات چیت

تحریر۔منور اقبال تبسم

گزشتہ روز بلاولپور میں راؤ جمشید علی خان کے ڈیرے پر ان کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کے حوالہ سے اچانک اکٹھے ہوئے اور وہاں بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب سے تفصیلی گفتگو ہوئی کہ یہ سب کیا ہوا تو انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ انتظامیہ پہلی میٹنگ میں طے کرچکی تھی کہ جیسے ہی راوی میں سیلابی ریلہ ایک لاکھ 20/25ہزار پر پہنچے گا صفوراں بند توڑ دیا جائے اور اس حوالہ سے میرے حلقہ کی یونین کونسلوں کے دوستوں کےمجھے فون آنے لگے کہ دو لاکھ تک ہیڈ ورکس آسانی سے سیلابی ریلے کو کراس کر جائے گااس لئے بند نہ توڑا جائے جس کے بعد میں انتظامیہ سے مکمل رابطہ میں رہا اور دن میں 3/4مرتبہ میرا متعلقہ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے رابطہ رہا اور میری پوری کوشش رہی کہ یہ بند نہ توڑا جائے اور میرے حلقہ کی 7یونین کونسلوں کو ہرممکن طور پر اس عفریت سے بچانے کی کوشش کی مگر 2/3ستمبر کی رات جب ایک لاکھ 93 ہزار کیوسک پر پر پانی پہنچا تو راوی کے کناروں ٹوٹنے لگے اور پانی باگڑ سرگانہ ،رام چونترہ ،کوٹ اسلام ،شہادت کندلہ اور دیگر علاقوں کے علاؤہ عبدالحکیم کی طرف بہنے لگا توضلعی انتظامیہ نے بے بسی سے بند توڑ نے کا فیصلہ کیا ،مجھے اس رات شدید بخار تھا مجھے نہیں بتایا گیا جب مجھے علم ہوا کہ بند توڑ دیا گیا تو میں نے انتظامیہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اس کنڈیشن میں ہمارے پاس اس بند کو توڑنے کے سواء کوئی متبادل حل نہیں تھا
اور میں خود بھی یہی سمجھتا ہوں کہ واقعی اگر اس رات بند بریچ نہ ہوتا تو عبدالحکیم ،کوٹ اسلام ،سرائے سدھو ،شہادت کندلہ اور باگڑ سرگانہ میں جلال پور پیر والا جیسی صورت حال ہوتی کیونکہ انہیں تو فلڈ کی وارننگ ہی نہیں تھی جبکہ مائی صفوراں کے متعلقین کو تو محکمہ وارننگ دے چکا تھا اور بیشتر متعلقہ علاقوں سے انخلاء ہوچکا تھا جس وجہ سے الحمد للہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
مگر بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب کہتے ہیں کہ بند نہ توڑنے کی میری پوری کوشش رہی مگر حالات جب انتظامیہ کی بے بے بسی تک آئے تو انہوں نےمجھے اطلاع تک نہ دی اور بند توڑ دیا
بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب نے بتایا کہ جب میں پہلی دفعہ اس علاقہ میں انتظامیہ کیساتھ پہنچا تو ہر طرف پانی ہی پانی تھا فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کروائے اور کمشنر ملتان صاحب اور راولپنڈی رابطہ کرکے متعلقہ برگیڈیئرز صاحبان کو کانفرنس کال پر لیا سیکرٹری ایریگیشن سے میٹنگ کی اور میں تین مرتبہ متاثرہ علاقوں میں پہنچا اور فلڈ ریلیف کیمپ مزید قائم ہورہے ہیں
جلد متاثرین کی فہرستیں بنانا شروع ہو جائینگی اور سیلاب متاثرہ گھر کے سربراہ کے بنک اکاؤنٹ لئے جائینگے اور جن کے مکمل گھر گرے ہیں انکے اکاؤنٹ میں نقصان کی اور جنکے ایک کمرہ یا 60فیصد نقصان ہوا ہے انہیں بھی نقصان کا معاوضہ ملے گا جبکہ جانور وں کی ہلاکت کا بھی حکومت معاوضہ دے گی ،بہرسٹر رضا حیات ہراج صاحب نے بتایا کہ ایک فرم کے متاثرہ علاقہ کے 500میٹرک پاس نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا ہے جلد کمشنر ملتان صاحب کیساتھ ملکر متاثرین کی بحالی کیلئے کام کا آغاز ہوگا اور انشاء اللہ اپنے حلقہ کی متاثرہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں گے اور ایسے اقدامات کرینگے کہ یہاں کہ عوام پر یہ آفس پھر کبھی عفریت نہ بنے ،نکاسو کے پشتے مضبوط کرائینگے اور اسے اس کے اصل نقشہ کے مطابق بحال کرائینگے راوی کے بند مضبوط اور درے کھول کر اس کا بیٹ قبضہ گروپ سے خالی کرائینگے
بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب نے کہا کہ اگر وزیر اعظم اچانک قطر کے دورہ پر نہ جاتے تو انہوں نے آج متاثرہ علاقہ کا دورہ کرنا تھا ،میری عوام مایوس نہ ہوں ،کسی پروپیگنڈہ کا حصہ نہ بنیں ،بدگمان نہ ہوں آپکے ایک ایک نقصان کا ازالہ کرائینگے ۔
بیرسٹر رضا حیات ہراج صاحب کا کہنا تھا کہ صفوراں بند انشاء اللہ ابھی کبھی نہیں توڑا جائے گا اور درکھانہ گگھ بار کو محفوظ مستقبل دینگے ،اس اچانک آفت کی 37سال بعد آمد غیر متوقع تھی ،ہمارے اپنے گھر گاؤں اور یونین کونسل زیر آب ہیں اللہ سب ٹھیک کرے گا اور ہم اس مصبیت کا عزم و استقامت سے مقابلہ کر کے آگے بڑھیں گے