نیو ہیڈ سدھنائی ہیڈ ورکس

تحریر۔۔ ۔منور اقبال تبسم

(جسے عام طور پر سدھنائی بیراج بھی کہا جاتا ہے) دریاۓ راوی پر عبدالحکیم تحصیل، ضلع خانیوال کے قریب بنایا گیا تھا۔
اس ہیڈ ورکس کی تعمیر کا آغاز 1950 کی دہائی کے اواخر میں ہوا اور یہ 1960 کی دہائی کے شروع میں مکمل ہوا۔
اس کا مقصد دریاۓ راوی کے پانی کو قابو میں لانا، آبپاشی کیلئے نہریں نکالنا اور سیلابی ریلوں کا انتظام تھا۔
سدھنائی ہیڈ ورکس سے کئی بڑی نہریں اور نکاسی کے راستے نکلتے ہیں:
1. عبدل حاکم کینال (Abdul Hakeem Canal) – زرعی زمینوں کو پانی دینے کے لئے۔
2. سدھنائی کینال / لنک کینال – دوسرے دریاؤں سے رابطہ اور پانی کی منتقلی کیلئے
3. سیلابی نالہ / Escape Channel – زیادہ پانی یا سیلابی ریلہ گزرنے کی صورت میں نکاس کیلئے۔
4. اس کے ذریعے راوی کے اضافی پانی کو چناب میں منتقل کرنے کا انتظام بھی ہے تاکہ نیچے کی طرف نقصان نہ ہو۔
یہ بیراج دراصل انڈس بیسن لنک کینال سسٹم کا حصہ ہے جس کا مقصد دریاؤں کے درمیان پانی کی تقسیم اور سیلاب پر کنٹرول ہے۔اچھا — ذیل میں سیدھا، حوالۂ دستاویزات کے ساتھ وہ معلومات دے رہا ہوں جو سدھنائی ہیڈ ورکس سے منسلک “نکاسو / اسپِل چینل” (escape / spill channel + breaching section) کے بنانے کا وقت، اصل ڈیزائن اور بعد کی تبدیلیاں واضح کرتی ہیں۔

1) کب بنایا گیا (وقت / تناظر)

نئی سدھنائی (Sidhnai) Barrage / Headworks اسی مجموعی تعمیراتی پراجیکٹ کے حصہ کے طور پر 1960s (تقریباً تکمیل 1965) میں قائم کیا گیا — spill/escape arrangement اسی پراجیکٹ کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔
2) اسپِل چینل / نکاسو — اصل ڈیزائن (Key design numbers)
Spill Channel (U/S of barrage) کو سیلابی اضافی پانی نکالنے کے لیے بنایا گیا۔
اس اسپِل چینل کی ڈیزائن/زیادہ سے زیادہ ڈسچارج صلاحیت ≈ 30,000 cusecs درج ہے۔
ساتھ ہی ایک breaching section منظور ہے (ریفرنس ریزرویشن پوائنٹس RD: 15–16 RMB) — اس breaching section کے لیے ایک critical level 478.00 دیا گیا اور اگر یہ چلایا جائے تو اندازاً ~45,000 cusecs تک گزر سکتا ہے۔ (یہ معلومات سرکاری/تکنیکی نوٹس میں درج ہے)۔
3) بعد میں کیا تبدیلیاں/اپ گریڈ ہوئے
پرانے weir کی جگہ نیا Barrage بنایا گیا — نیا barrage پرانے weir سے تقریباً 31,000 فٹ اپ اسٹریم پر رکھا گیا۔ اس تبدیلی کا مقصد بڑی ڈیزائن گنجائش کو سہارا دینا تھا۔
Downstream straight reach کو کھودا اور چوڑا کیا گیا تاکہ پوری تنصیبی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے — اس سے پہلے پرانا ڈیزائن تقریباً 100,000 cusecs گزرنے کے قابل تھا، جب کہ مجموعی نئی صلاحیت ~150,000 cusecs تک لے جائی گئی۔ یعنی Headworks کی مجموعی ڈیزائن گنجائش کو بڑھانے کے لیے نچلے حصے کی کھدائی/وائڈننگ کی گئی۔
پلوں اور ریلوے کے برِجز کی دوبارہ تعمیر بھی اسی عمل کے ساتھ کی گئی (Multan–Shorkot روڈ پر روڈ بریج اور ریلوے برج کو نئے مقام/ڈیزائن کے مطابق دوبارہ بنایا گیا) تاکہ نئی چینل کنفیگریشن کو سپورٹ کیا جا سکے۔
4) عملی/فیلڈ نوٹس (تازہ واقعات سے متعلق مفید پس منظر)
موجودہ/تازہ سیلابی رپورٹس میں Sidhnai پر بہاؤ 130,000–173,000 cusecs تک ریکارڈ ہوئے — یعنی بعض صورتحال میں نظام اپنی ڈیزائن صلاحیت کے قریب یا اس سے اوپر آپریشن کر رہا ہے، اور اسی وجہ سے breaching / embankment blowing جیسی ایمرجنسی کٹس بھی استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ باتیں موجودہ نیوز/فلوڈ پلان میں دیکھی گئی ہیں۔
نکاسو / اسپِل چینل بنیادی طور پر 1960s کے Sidhnai barrage پراجیکٹ کے ساتھ بنایا گیا۔ اسپِل چینل کی ڈیزائن صلاحیت تقریباً 30,000 cusecs ہے اور breaching section سے مزید ~45,000 cusecs گزرنے کا اندازہ دیا گیا ہے۔ بعد میں downstream reach کو کھودا/چوڑا کر کے پورے headworks کی صلاحیت 100,000 → 150,000 cusecs تک بڑھائی گئی؛ پرانا weir ہٹایا گیا اور bridges/روڈز دوبارہ تعمیر ہوئ
جی آپ بالکل درست نکتے پر آئے ہیں۔ میں نے سدھنائی ہیڈ ورکس / اسپِل چینل کے حوالے سے دستیاب انجینئرنگ ریکارڈ اور فلڈ فائٹنگ پلان کی رپورٹس دیکھیں، اس سے یہ وضاحت سامنے آتی ہے:
1) اسپِل چینل کا روٹ (Route)
سدھنائی ہیڈ ورکس کے دائیں کنارے (Right Marginal Bund) کے ساتھ ایک Spill / Escape Channel رکھا گیا ہے۔
یہ چینل سیلاب کی صورت میں پانی کو سیدھا نیچے دریائے چناب کی طرف لے جانے کے لیے بنایا گیا۔
اس کا روٹ اس طرح ہے کہ اگر راوی میں زیادہ بہاؤ آئے اور ہیڈ ورکس اپنی مین ڈیزائن کپیسٹی (150,000 cusecs) سے اوپر ہو جائے، تو اضافی پانی Sidhnai Escape Channel کے راستے bypass ہو کر راج بہاول / قادر آباد کے قریب چناب میں جا ملتا ہے
اس چینل کا اصل مقصد یہی تھا کہ راوی کے بڑے ریلے کو قابو میں لا کر اضافی پانی کو محفوظ طور پر چناب میں منتقل کیا جائے تاکہ:
نیچے راوی کے قصبات (خصوصاً ہیڈ بلوکی اور نیچے کی بستیوں) کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔
چناب کی زیادہ گنجائش والے بیسن میں یہ پانی absorb ہو جا
3) Breaching Section اور Escape کا تعلق
سدھنائی پر breaching section (RD 15–16 RMB) بھی اسی لیے رکھا گیا کہ اگر کبھی ڈیزائن سے زیادہ فلو آ جائے تو وہاں سے بند کاٹ کر پانی escape channel میں ڈال دیا جائے۔
اس breaching/escape route کی صلاحیت تقریباً 30–45 ہزار cusecs بتائی جاتی ہے، جبکہ مین بیراج کی ڈیزائن کپیسٹی 150,000 cusecs ہے
جی ہاں، سدھنائی ہیڈ ورکس کے ساتھ بنایا گیا Spill / Escape Channel دراصل راوی کے اضافی پانی کو براہِ راست دریائے چناب میں منتقل کرنے کے لیے ہی ڈیزائن کیا گیا تھا تاکہ نیچے راوی کی آبادیوں کو بڑے سیلاب سے بچایا جا سکے۔بالکل — میں نے سرکاری Flood Fighting Plan (Sidhnai) اور علاقائی ماسٹر پلان کے نقشہ جات دیکھ کر روٹ کی قدم بہ قدم وضاحت نکالی ہے۔ ذیل میں وہ مقام، ریکارڈڈ RD-نُمبروں، اور قابلِ ذکر روڈ/چینل نشانیاں دی جا رہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ نکاس (spill/escape) کہاں کہاں سے گزر کر دریائے چناب میں جاتا ہے۔ ہر اہم نکتے کے ساتھ حوالہ لگا ہوا ہے (سرکاری FFC / Regional plans) تاکہ آپ نقشہ پر بھی cross-check کر سکیں۔

خلاصہ روٹ — قدم بہ قدم

1. Head / نکلنے کی جگہ

اسپِل چینل Sidhnai Barrage کے Right Marginal Bund (RMB) کے نزدیک شروع ہوتا ہے؛ کل طوالت ≈ 69,602 ft (≈21.2 km).

2. ابتدائی سمت

چینل عمومًا جنوب مشرق/جنوب کی سمت میں Sidhnai سے نکلتا ہے اور Trimmu-Sidhnai Link (T.S. Link) اور Haveli Main Line کے کراﺅز کے قریب گزرنے کی لائن پر آتا ہے۔ (T.S.Link RD: ~193, H.M.Line RD: ~192)۔

3. اہم عبوری نشانیاں / روڈز

spill پانی T.S.Link (Trimmu-Sidhnai Link) اور Haveli Main Line کو عبور کرتا ہے (دستاویز میں مخصوص RD نمبرز درج ہیں)۔

پلان میں واضح ہے کہ بہاؤ Abdul Hakim – Faisalabad سڑک کو براہِ راست ہٹاتا/پار کرتا ہے جب وہ TS Link/HM Line کو کراس کرتا ہے۔

4. قریبی کچّی/کہنہ آبادی اور متاثرہ علاقوں کا ذکر

flood plan میں اُس روٹ کے ساتھ جو بستی/چک/آبادیان متاثر ہو سکتی ہیں ان کے نام درج ہیں (مثلاً Chak Nos, Sidhu Pura, Kund Sargana وغیرہ) — یہ اس روٹ کی immediate vicinity کو ظاہر کرتا ہے۔

5. نچلا حصہ اور چناب میں انضمام (Where it falls into Chenab)

دستاویز میں ذکر ہے کہ رَوی (Ravi) عام طور پر Fazil Shah گاؤں کے قریب Chenab میں گرنے والا ہے؛ Sidhnai کے spill/breach کے ذریعے نکالا گیا پانی آخرکار اسی چناب بیسن میں شامل ہونے ہی کے لئے ڈیزائن ہوا تھا۔ اسی لیے flood plan میں مقصد یہی بتایا گیا ہے کہ اضافی پانی کو Chenab-basin میں dispose کیا جائے۔

6. اضافی نوٹس (عملی/حالیہ مسائل)

پلان واضح کرتا ہے کہ spill channel کو مکمل طور پر renovate/rehabilitate نہیں کیا گیا — اصل ڈیزائن 30,000 Cs تھا مگر excavation صرف ~20,000 Cs کے حساب سے ہوئی؛ عملی طور پر spill کی مکمل گنجائش بحال کرنے کی ضرورت بتائی گئی ہے۔ اس لئے بعض high-Chenab flood حالات میں tail/backwater effects (چناب کے بلند لیول کی وجہ سے) spill کے behavior کو متاثر کرتے ہیں— اسی لیے cross-regulator وغیرہ کی تجویز رکھی گئی ہے۔

سیدھی زبان میں: نقشے پر آپ یہ لائن تلاش کریں

Sidhnai Headworks (RMB) → جنوب/جنوب-مشرقی سیدھ → عبور: T.S. Link (RD ~193) اور Haveli Main Line (RD ~192) → عبور/گزر: Abdul Hakim–Faisalabad روڈ → پایین کی جانب گزرتا ہوا علاقہ (چک نمبر/آبادیوں کے قریب) → آخرکار دریائے چناب کے قریب (Fazil Shah / قریبی کنفلوانس) میں شامل ہو جاتا ہے۔