رانا عبد الوحید خاں نسیمؒ یادوں کے عظیم انسان

تحریر
محمد زاہد مجید انور

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ*

*تحصیل کمالیہ کی صحافت کی دنیا کا ایک عظیم نام،ایک ایسا نام جسے ہمیشہ محبت، خلوص اور قلم کی طاقت کے ساتھ یاد کیا جائے گا،رانا عبد الوحید خاں نسیمؒ۔ آج ان کو ہم سے بچھڑے ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ 14 ستمبر 2024ء وہ دن تھا جب یہ شفیق اور دردمند شخصیت اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئی۔* *آج ان کی پہلی برسی ہے اور دل غمگین بھی ہے مگر ساتھ ہی اس بات پر مطمئن ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ صحافت اور عوامی خدمت کے نام کیا۔رانا عبد الوحید خاں نسیمؒ کا شمار تحصیل کمالیہ کے سینیئر ترین صحافیوں میں ہوتا تھا۔ وہ نوائے وقت جیسے بڑے ادارے سے وابستہ رہے اور اپنی صحافتی زندگی میں ہمیشہ حق اور سچ کی آواز بلند کی۔ ان کے قلم کی طاقت مظلوموں کی آواز بن کر ابھرتی تھی اور وہ اپنی تحریروں سے ہمیشہ اصلاحی پہلو اجاگر کرتے تھے۔ صحافت کو انہوں نے صرف پیشہ نہیں بلکہ عبادت سمجھا اور اپنی سچائی کی بنا پر عوام و خواص میں یکساں مقبول رہے۔وہ نہ صرف ایک عظیم صحافی تھے بلکہ ایک نیک دل، شفیق والد، مخلص دوست اور بہترین رہنما بھی تھے۔ نرم لہجہ، خندہ پیشانی اور ہر ایک سے عزت و احترام سے پیش آنا ان کی زندگی کا طرۂ امتیاز تھا۔ وہ اپنے تعلقات کو خلوص اور محبت کی بنیاد پر استوار رکھتے تھے۔مرحوم کے ساتھی صحافیوں کا کہنا ہے کہ رانا عبد الوحید خاں نسیمؒ کمالیہ کی صحافت کا ایک درخشاں باب تھے۔* *ان کی رہنمائی اور نصیحتیں آج بھی یاد آتی ہیں۔ عوامی حلقوں نے بھی ان کی خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں پیش پیش رہے۔ ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔*
*سینئر صحافیوں نے کہا کہ “وہ ہمارے لئے استاد کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کے قلم نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا، وہ ہمارے لئے ایک مشعلِ راہ تھے*۔”*عوامی شخصیات نے ان کو “سچائی کا علمبردار اور نڈر صحافی” قرار دیا اور کہا کہ ان کا کردار نئی نسل کے لئے مثال ہے۔ان کے جانے کے بعد کمالیہ کی صحافت میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ ان کے رفقاء آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں اور ان کی باتوں اور نصیحتوں کو مشعلِ راہ سمجھتے ہیں۔ ان کی یادیں، ان کا اندازِ گفتگو اور ان کا اخلاص ہمیشہ دلوں میں زندہ رہے گا۔آج ان کی پہلی برسی کے موقع پر ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کی منزلیں آسان کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔*