سیلاب کا اصل زمہ دار کون ہوتا ہے اور سیت پور کیسے ڈوبا

تحریر علی امجد چوہدری

ابھی پہلا ریلہ شاید خانکی پر تھا اور میں ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر جپہ اور ڈی پی او مظفر گڑھ غضنفر علی شاہ کے ساتھ پنجند اور سیت پور گیا ڈپٹی کمشنر نے صرف رسمی کاروائی پوری نہیں کی بلکہ انہوں نے گاڑی حفاظتی بند پر ہی چلائی مظفر گڑھ سے پنجند کا سفر حفاظتی بند پر ہی مکمل ہوا شام کے وقت مڈ والا چوکی پہنچے جہاں ریفریشمنٹ تھی کیونکہ سارا دن بھوک اور پیاس کا مقابلہ کرنے کے بعد نڈھال تھے اسی دوران وہاں علی پور کے دونوں ایم پی ایز نواب خان گوپانگ اور سبطین رضا بخاری بھی آپہنچے کھانے کے دوران انہوں نے سیت پور میں بند کے ایک ایسے حصے کا زکر کیا جو سرے سے ہی غائب تھا ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر جپہ اور ڈی پی او مظفر گڑھ غضنفر علی شاہ فکر مند ہوئے اس دوران رات ہو چکی تھی مظفر گڑھ واپس بھی جانا تھا اور سیت کے کچے کے علاقے کا سفر خطرات سے خالی بھی نہیں تھا خیر رات کے دس بجے سب اس جگہ کا پہنچے جہاں بند ہی نہیں تھا وہاں انکشاف ہوا کہ ایک مقامی زمیندار نے اس کا اسٹے آرڈر جاری کروا رکھا ہے یہاں ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر جپہ ڈی پی او غضنفر علی شاہ ایم پی اے نواب خان گوپانگ اور سبطین رضا بخاری سب کے سب ہکا بکا تھے اور چاہتے ہوئے بھی بے بسی تھی
اب جب سیت پور سے خوفناک خبریں آئیں خاندانوں کے دریا میں بہہ جانے کی خبریں آئیں تو میرے سامنے وہی رات اور اعلیٰ آفیسرز کی وہی بے بسی کی تصویر سامنے آگئی
کاش ہم اتنے درد دل رکھنے والے ہو جاتے کہ اپنی انا کی خاطر دوسروں کو ڈبونے کے لیئے عدالتی سہارا نہ لیتے کاش ایسا ہو جاتا
علی امجد چوہدری