سیلاب سے قبل بروقت اقدامات اور مؤثر حکمتِ عملی

تحریر ۔محمد زاہد مجید انور

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ

*قدرتی آفات جب آتی ہیں تو اپنی تباہی کے ساتھ ہزاروں زندگیوں اور وسائل کو نگل جاتی ہیں۔ لیکن اگر ان آفات سے قبل بروقت حکمتِ عملی اپنائی جائے تو نقصان کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ رواں برس پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب کے خطرے کے بارے میں پیشگی اور بروقت معلومات فراہم کی گئیں۔ اس اطلاع پر ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد نعیم سندھو اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبادت نثار کی قیادت میں ضلع انتظامیہ نے نہایت سرعت کے ساتھ عملی اقدامات کیے انتظامیہ کے ہنگامی ایکشن کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1 لاکھ 16 ہزار سے زائد افراد اور 80 ہزار سے زائد مویشیوں کو سیلاب سے پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کے عکاس ہیں کہ اگر قیادت سنجیدہ ہو اور ادارے باہمی ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں تو بڑے سانحات کو ٹالا جا سکتا ہے۔ریونیو ڈیپارٹمنٹ، پیرا فورس، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، پولیس، محکمہ زراعت اور لائیو اسٹاک سمیت تمام ادارے اس عظیم مشن میں پیش پیش رہے۔ خاص طور پر مساجد سے بروقت اعلانات کے ذریعے عوام کو خبردار کیا گیا، جس سے ہزاروں افراد نے فوراً محفوظ پناہ گاہوں کا رخ کیا۔ مزید برآں، اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز نے خود فیلڈ میں رہ کر آپریشن کی نگرانی کی تاکہ کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے اس موقع پر کہاکہ”سیلاب ایک قدرتی آفت ہے، مگر ہم نے اپنے اداروں کے ساتھ مل کر یہ ثابت کیا ہے کہ اگر بروقت منصوبہ بندی اور اجتماعی کاوشیں کی جائیں تو بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ عوام کا اعتماد ہماری اصل طاقت ہے اور ہم ان کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ حاضر ہیں۔”ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبادت نثار نے کہاکہ “پولیس فورس ہمہ وقت عوام کی خدمت کے لیے تیار ہے۔ سیلابی صورتحال میں بھی ہمارے افسران اور جوان دن رات فیلڈ میں رہے تاکہ لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات پر پہنچایا جا سکے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے ہزاروں زندگیاں بچانے میں اپنا کردار ادا کیا۔”یہ اقدامات اس حقیقت کو ثابت کرتے ہیں کہ آفات کے سامنے انسان بے بس ضرور ہے، مگر بروقت قیادت، حکمتِ عملی اور اداروں کی اجتماعی محنت ہزاروں جانیں اور وسائل بچا سکتی ہے۔ یہ کامیابی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی انتظامیہ کی ایک بڑی مثال ہے جسے دوسرے اضلاع کے لیے بھی ایک ماڈل سمجھا جانا چاہیے۔ہمیں بطور قوم یہ سوچنا ہوگا کہ قدرتی آفات کے خلاف صرف وقتی اقدامات نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ پی ڈی ایم اے کا بروقت الرٹ اور ضلعی انتظامیہ کی مؤثر کاوشیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر نیت اور عزم پختہ ہو تو بڑے سے بڑا خطرہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔*