بیرونی امداد متاثرین تک کیسے پہنچتی ہے ؟

تحریر ۔منور اقبال تبسم

1996میں جب میں نے روزنامہ خبریں کے نمائندہ کے طور پر صحافت میں باضابطہ قدم رکھا تو مجھے اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا آفس کے ایک اہلکار نے انفارمیشن دی کہ اے سی دفتر کے گودام میں 5کلو پیکنگ والے بیرون ملک سے آئے گھی کہ ایکسپائر وسیع کھیپ ہے جسے اب صابن بنانے والی ایک لوکل کمپنی کو بیچا جارہاہے ،میں وہاں پہنچا تو پرانے اے سی دفتر کے سٹور میں ہزاروں کی تعداد میں 5کلو والے گھی کے ٹین پیک ڈبے موجود تھے جو غالبا 1988کی سیلاب کی آفت کبیروالا انتظامیہ کے پاس متاثرین کو تقسیم کرنے کیلئے بھیجے گئے جو کہ 9سالوں میں تقسیم نہ ہوسکے اور ایکسپائر ہوگئے اور بالکل اسے سستے داموں صابن کمپنی کو بیچ کر مال کمایا گیا
اس وقت سیلاب کی آفت کا شکار 7اضلاع میں ضلع خانیوال بھی شامل ہے جس تحصیل کبیروالا کی تقریبا 10سے زائد یونین کونسلیں اس عفریت کا شکار ہوئی ہیں ،پوری دنیا اربوں روپے امداد کا اعلان کر چکی ہے ،کچھ ممالک این جی از کے ذریعہ اور کچھ راشن جیسا سامان مدد کی مد میں بھیجیں گے خدا کرے کہ یہ سامان یہ امداد مستحقین تک احسن طریقے سے پہنچ جائے ،سب سے پہلے اپنے اردگرد ان جعلی اور فرضی متاثرین کا قلع قمع کرنا ہماری زمہ داری ہے جو مستحقین کا حق مار رہے ہیں ،اگر بیرونی امداد آدھی بھی مستحقین تک پہنچ گئی تو ان غریبوں کے نہ صرف گھر دوبارہ بن جائینگے بلکہ انہیں ایک سال تک راشن کی کمی بھی نہیں ہوگی
منور اقبال تبسم