سونیا بی بی کا انقلابی قدم

تحریر..محمد زاہد مجید انور

*پیرمحل، سندھلیانوالی اور اروتی کی گلیوں، محلوں اور دیہات میں آج ایک ہی نام گونج رہا ہے مخدومہ سیدہ سونیا علی رضا پاکستان تحریک انصاف کی یہ جواں سال ممبر صوبائی اسمبلی، اپنے عملی اقدامات کے ذریعے نہ صرف اپنے حلقے بلکہ پورے ضلع میں خدمت کی ایک نئی روایت قائم کر رہی ہیں۔حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے سینکڑوں گھرانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا، لیکن ایسے نازک موقع پر سونیا بی بی اور ان کے قریبی عزیز اسلم مغل جو پیرمحل کی ایک نمایاں سیاسی و سماجی کاروباری شخصیت ہیں نے آگے بڑھ کر تین کروڑ روپے مالیت کا راشن، گھریلو اشیاء اور دیگر ضروری سامان متاثرین کے گھروں تک اپنے ہاتھوں سے پہنچایا۔900 گھرانوں تک یہ امداد پہنچنے کے بعد علاقے کی فضاء بدل گئی۔ ہر محلے، ہر گاؤں، ہر چوک اور ہر بیٹھک میں ایک ہی صدا سنائی دے رہی ہے:”سونیا… سونیا!”عوام کے نعروں اور دعاؤں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیاست دل جیتنے کا نام ہے، اور دل وہی جیت سکتا ہے جسے عوام کا احساس ہو۔یہ حقیقت ہے کہ حلقہ پی پی 124 کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سونیا بی بی نے اپنے عملی اقدامات سے دیگر سیاست دانوں کی سیاست کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ جو اپنے نام کے ساتھ “جعلی مخدوم” کا لاحقہ لگاتے تھے، وہ بھی اب خاموش ہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل خدمت گار خاندان صرف مخدوم علی رضا کا ہے۔ جو ہر وقت عوام کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے۔سونیا بی بی نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی خدمت کی وہ مثال قائم کی ہے جس نے سیاسی مخالفین کو سخت آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ عوامی خدمت کا یہ جذبہ نہ صرف متاثرین کے دل جیتنے کا باعث بنا بلکہ سیاسی میدان میں ایک انقلاب کی نوید بھی ہے۔یقیناً، دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی سیلاب زدگان کی مدد کی، اور ہم ان سب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ لیکن جس بڑے پیمانے پر سونیا بی بی نے یہ قدم اٹھایا ہے، اس نے عوام کو یہ باور کرا دیا ہے کہ اگر کوئی ان کے دکھ سکھ کا ساتھی ہے تو وہ صرف اور صرف مخدومہ سیدہ سونیا علی رضا ہیں۔*