عوام کی آواز اور فرض شناس افسر!
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ کے جنرل بس اسٹینڈ کے باہر NDUER شوز اسٹور کے سامنے PTCL کا ایک بڑا اور گہرا مین ہول ڈھکن کے بغیر کھلا ہوا تھا، جو شہریوں کے لیے ایک کھلا خطرہ بن چکا تھا۔ میں نے یہ صورتحال عوامی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اجاگر کی اور جب یہ خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو بالآخر ضلعی انتظامیہ بھی حرکت میں آ گئی۔ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ محمد نعیم سندھو نے کسی بھی تاخیر کے بغیر فوری ایکشن لیا اور متعلقہ ادارے کو احکامات جاری کیے کہ کھلے مین ہول کو بند کر کے عوام کو محفوظ بنایا جائے۔ ان کے احکامات پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے اور کام جاری ہے۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عوام اپنی آواز بلند کریں اور میڈیا اپنی ذمہ داری نبھائے تو مسائل حل بھی ہو سکتے ہیں اور حکام جواب دہ بھی۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کے اس بروقت اور مثبت قدم کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں ایسے ایماندار، محنتی اور عوام دوست افسران بہت کم ہیں جو بغیر کسی سفارش اور دباؤ کے عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہیں۔یہ واقعہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ اگر مؤثر ہو تو مسائل کے حل میں دیر نہیں لگتی۔ عوامی مسائل کا بروقت ازالہ نہ صرف شہریوں کے اعتماد کو بڑھاتا ہے بلکہ حکومتی اداروں کی ساکھ کو بھی بہتر بناتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو نے ثابت کیا ہے کہ ایک فرض شناس اور فعال افسر کی موجودگی میں عوام کی مشکلات کم کی جا سکتی ہیں۔ ان کا یہ اقدام یقیناً دوسروں کے لیے مثال ہے۔پیغام برائے دیگر افسران ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر محکموں کے افسران بھی اسی جذبے اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر ہر افسر ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو کی طرح بروقت اور ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دے تو عوامی مشکلات ختم ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور حکومت پر عوام کا اعتماد کئی گنا بڑھ جائے گا۔*









