موت کا کھلا جال اور ذمہ دار ادارے
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ کے جنرل بس سٹینڈ کے باہر NDUER شوز اسٹور کے سامنے ایک ایسا خطرناک مین ہول کھلا پڑا ہے جس پر اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ مین ہول PTCL کا ہے جس کا ڈھکن نہ جانے کب سے غائب ہے۔ گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر کوئی شہری یا معصوم بچہ اس میں گر جائے تو اس کے زندہ سلامت باہر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔قریب ہی کے دکانداروں نے اپنی سماجی و انسانی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی کو شکایت درج کرائی۔ تاہم وہاں سے یہ جواب ملا کہ یہ مین ہول میونسپل کمیٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا بلکہ یہ پی ٹی سی ایل کے انتظامی کنٹرول میں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہری اپنی زندگیاں بچانے کے لیے کس کے در پر دستک دیں؟ کیا اداروں کے درمیان یہ ذمہ داری کا کھیل عوام کی جانوں سے زیادہ قیمتی ہے؟جنرل بس سٹینڈ شہر کا سب سے مصروف علاقہ ہے۔ روزانہ ہزاروں افراد یہاں سے گزرتے ہیں۔ مسافر، رکشہ ڈرائیورز، پیدل چلنے والے، حتیٰ کہ اسکول جانے والے بچے بھی اس راستے سے گزرتے ہیں۔ ایک لمحے کی غفلت، ایک قدم کی خطا، اور ایک قیمتی جان اس کھلے گڑھے میں جا سکتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ متعلقہ حکام کی نظریں اس پر بند ہیں۔شہری سوال کرتے ہیں کہ آخر کب تک ادارے اپنی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتے رہیں گے؟ اگر خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آ گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟ کیا اس کے بعد بھی یہی کہا جائے گا کہ یہ مسئلہ میونسپل کمیٹی کا نہیں بلکہ پی ٹی سی ایل کا ہے؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ فوری نوٹس لے۔ پی ٹی سی ایل حکام اپنی غفلت کا اعتراف کریں اور کھلے مین ہول کو ڈھکن لگا کر محفوظ بنائیں۔ عوام کی زندگیاں کھیل تماشہ نہیں ہوتیں۔ ادارے اگر اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے تو پھر عوام کہاں جائیں گے؟عوامی اپیل ہم متعلقہ افسران اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری ایکشن لیں۔ عوام اپنی جانوں کے ساتھ مزید رسک نہیں لے سکتے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ کھلا مین ہول کسی نہ کسی معصوم جان کو نگل لے گا۔ خدارا! سانحے کا انتظار کرنے کے بجائے آج ہی اس مین ہول کو ڈھکن لگایا جائے تاکہ شہری سکون اور تحفظ کے ساتھ آمد و رفت کر سکیں۔*









