کاش میں بھی کچے کا ڈاکو ہوتا…!
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔محمد عمر حیدری
ریاست کے بے گناہ لوگوں کو اغوا کرتا ،کچے میں لے جاتا ،کروڑوں روپے کا تاوان مانگتا ،نہ ملنے پر انہیں قتل کر دیتا
میری بغاوت کے سامنے ریاست بے بس ہوتی،بھلے میرے سر کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ہی کیوں نہ ہوتی،
پھر ایک دن اعلان ہوتا کہ ڈاکوؤں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جاتا ہے، میرے لیےبھی ریڈ کارپٹ بچھتا حکومتی سطح پر میری مہمان نوازی ہوتی مجھے نوکری ملتی میرے بچوں کو فری تعلیم دی جاتی میرے لیے وظیفہ جاری ہوتا اور شریف شہری ہونے کا مجھے حق دیا جاتا
اس سےتو معلوم ہوا کہ ریاست جبر اور بغاوت کی زبان تو سمجھتی ہے مگر شرافت کی زبان نہیں سمجھتی
( اللہ چور اور ڈاکو بننے کی خواہش کسی کی بھی پوری نہ کرے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ اسلامی ریاست پاکستان کو ہر چور ،اچکے، ٹھگ، بدمعاش، ڈاکواورملک دشمن سے محفوظ فرمائے)
میرے دل میں بار بار یہ خیال اس لیے آرہا ہے کہ جب سے میں نے دیکھا ہے کچے کے ڈاکوؤں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا گیا جن کے سروں کی قیمت کروڑوں روپے تھی جنہوں نے ریاست پاکستان کے بے گناہ عوام کوحتی کہ پولیس کے بیسیوں جوانوں کو تاریخ کا بدترین ظلم کر کے اغوا کر کے شہید کیا اور ریاست نے ان کا ڈاکؤوں سے کوئی انتقام نہ لیا شہداء کے وارثوں کو کوئی تسلی نہ دی اور انہیں کوئی مالی بدل نہ دیا
الٹا ڈاکؤوں کو معاف کرکے قومی دھارے میں لانے کا اعلان کردیا
میرا سوال ہے کہ اس امام مسجد اور عالم دین کا کیا قصور ہے جسے 16سال سے فورتھ شیڈول جیسے غیر انسانی قانون میں جکڑا ہوا ہے جسنے کوئی قتل بھی نہیں کیا ،اغوا بھی نہیں کیا ،ملک و ملت کے خلاف نہ بولا نہ سوچا بلکہ وطن عزیز کا وفادار رہا
ریاستی ایس او پیز پر عمل پیرا رہا
مگر اسکا شناختی کارڈ بلاک
اکاؤنٹ بلاک
پاسپوٹ ضبط
سرکاری نوکری نیور
ٹریول پر پابندی
تھانہ حاضری
اسٹیڈیم ،بازار ہوٹل،پارک،یعنی ہرپبلک پلیس پر جاےگا تودھشتگردی کا مقدمہ جھیلےگا
جس کیلئے کوئی عام معافی، قومی دھارے میں آنے کاکوئی امکان نہیں ہے
آخر کیوں؟
ریاست کے معزز اداروں سے گزارش ہے کہ فورتھ شیڈولرز سے جینے کا حق نہ چھینو انہیں سدھرنےکا موقع دو
بندے کی ویرفکیشن کیلئے3دن ہی کافی ہوتے ہیں مگر یہاں
ڈاکوؤں،قاتلوں اغوابراے تاوان کےدھشتگردوں سےمطمئن ہوکرانییں قومی دھارے شامل کردیا جوکہ خوش آئیند ہے مگر فورتھ شیڈول والوں کیلئے یہ پیکج کیوں نہیں۔۔۔
3سال کی چیکنگ کے بعد فورتھ شیڈول خود بخود ختم ہو جاتا ہے ،مگر افسوس اگلے 3سال کی راہ ہموار کرنے کیلئے ایک اور مقدمہ دہشتگردی کا دےدیا جاتا ہے تاکہ لیگلی رستہ مل جاے
بندہ ناچیز پر سابقہ 3سال کوئی مقدمہ نہ ہوا تو سائیں سرکار نے مسجد میں بچوں کو قرآن پڑھانے کے جرم میں دہشتگردی کا مقدمہ11EEدےکر فورتھ شیڈول کا تسلسل برقرار رکھا
میں نے ہوم سیکرٹری پنجاب سے بہت منت سماجت کی کہ حضرت۔۔۔
احسان فرمائیں
مجھے موقع دیں قومی دھارے میں آنے کا مگر وہ بھی سسٹم سے مجبور نظر آے۔۔۔
میری وزیر داخلہ صاحب، وزیراعظم صاحب، صدر مملکت صاحب اور ملک کے محافظ اداروں سے گزارش ہے کہ میری 16سال کی چیکنگ اور ہیکنگ کے بعد بھی اگر ملک سے دہشتگردی انتہا پسندی ختم نہیں ہوئی تو یقین کرلو یہ سب میری وجہ سے نہیں تھا
خدارا میری حب الوطنی پر شک نہ کیا جاے مجھے اپنے ملک میں آزادی دی جاےکیونکہ میں آزاد ہوکر بھی غلام ہوں
کیاایک عالم دین، محب وطن، امام مسجد 16سال کی پابندی کے بعد بھی…
کچے کے ڈاکؤں جتنی بھی معافی کا حقدار نہیں ہے؟
والسلام
ایک محب وطن بےبس پاکستانی
،محمدعمرحیدری فورتھ شیڈولر
24/10/2025










