یادوں میں مسکراتی ایک دبنگ آفیسر میڈم شازیہ رحمان
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*سرکاری ملازمت کا ایک مستقل حصہ “ٹرانسفر اور پوسٹنگ” ہے۔ کوئی افسر ایک جگہ آتا ہے، کچھ عرصہ خدمات انجام دیتا ہے اور پھر کہیں اور چلا جاتا ہے۔ لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف اپنی کرسی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، خدمت، خلوص اور انسان دوستی کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں۔ ان کے جانے کے بعد دفتر خالی ضرور ہوتا ہے، مگر دلوں میں ان کی خوشبو باقی رہتی ہے۔ایسی ہی ایک دبنگ، ایماندار، خوش اخلاق اور ہنس مکھ چہرے کی مالک آفیسر میڈم شازیہ رحمان صاحبہ آج شورکوٹ سے بطور اسسٹنٹ کمشنر تبدیل ہو گئیں۔ ان کی تعیناتی کے دوران شورکوٹ کے عوام نے ایک ایسی خاتون افسر کو دیکھا جو نہ صرف اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر نمایاں تھیں بلکہ انسانی ہمدردی، نرم دلی اور بروقت فیصلوں کی وجہ سے ہر دل عزیز بن گئیں۔میڈم شازیہ رحمان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی ایمانداری اور دبنگ اندازِ حکمرانی تھا۔ وہ جب کسی معاملے میں فیصلہ کرتی تھیں تو صرف میرٹ کو مدنظر رکھتی تھیں۔ ان کے نزدیک سرکاری عہدہ خدمتِ خلق کا ذریعہ تھا، اختیار کا نہیں۔ انہوں نے عوامی مسائل کو سنجیدگی سے سنا، موقع پر پہنچ کر حل کیا، اور اپنے دفتر کو عوام کے لیے واقعی ایک خدمت گاہ بنا دیا۔ان کے دور میں شورکوٹ میں متعدد ایسے اقدامات کیے گئے جو طویل عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔ چاہے وہ تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں ہوں، یا عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے ہر کام میں شفافیت، عزم اور پیشہ ورانہ مہارت جھلکتی تھی۔ وہ اپنے ماتحت عملے کے لیے بھی ایک مشفق رہنما اور رہنمائی کرنے والی افسر تھیں۔میڈم شازیہ رحمان کے جانے سے جہاں انتظامیہ ایک قابل افسر سے محروم ہو گئی ہے، وہیں عوام کے دلوں میں ایک محبت بھری یاد چھوڑ گئی ہیں۔ ان کی ہنستی مسکراتی شخصیت، نرم گفتاری، اور فرض شناسی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ان کے تبادلے کی خبر سن کر بہت سے چہروں پر اداسی چھا گئی مگر یہی تو کسی اچھے افسر کی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے جانے کے بعد بھی یاد رکھا جائے۔میڈم شازیہ رحمان صاحبہ کے لیے دعا ہے کہ جہاں بھی تعینات ہوں، اسی طرح کامیابی، عزت، وقار اور عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ان جیسے افسران ہی دراصل اس نظام کی خوبصورتی ہیں جو اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں کہ “اختیار اگر نیک نیت ہاتھوں میں ہو تو عوام کے لیے رحمت بن جاتا ہے۔”*








