ٹوبہ ٹیک سنگھ کی پہچان، حاجی عبدالحمید سرہندی مرحوم خدمت، دیانت اور نیک نامی کی روشن مثال
تحریر محمد زاہد مجید انور
*ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سماجی، تجارتی اور فلاحی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دلوں سے محو نہیں ہوتیں انہی درخشاں ناموں میں ایک نام معروف کاروباری، ہر دلعزیز سماجی شخصیت حاجی عبدالحمید سرہندی مرحوم کا بھی ہے، جنہیں ہم سے بچھڑے آج دو سال بیت چکے ہیں مرحوم 14 جنوری 2024ء کی صبح اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، مگر ان کی یادیں، خدمات اور نیک نامی آج بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ کے گلی کوچوں میں زندہ ہیں۔حاجی عبدالحمید سرہندی مرحوم نہ صرف ایک کامیاب تاجر تھے بلکہ وہ ایک ایسے انسان بھی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی دیانت، محنت، اخلاق اور خدمتِ خلق کے جذبے کے ساتھ گزاری۔ وہ سابق چیئرمین میونسپل کمیٹی ٹوبہ ٹیک سنگھ میاں شہزاد احمد اور مرکزی انجمن تاجران کے سرپرست اعلیٰ میاں عمران احمد (چیف ایگزیکٹو الرحمت رائس ملز) کے والد محترم تھے، جنہوں نے اپنے بچوں کو بھی خدمتِ عوام اور سماجی ذمہ داری کا سبق دیا۔مرکزی انجمن تاجران ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مضبوطی، اتحاد اور فلاحی سرگرمیوں میں مرحوم کا کردار ناقابلِ فراموش رہا تاجروں کے مسائل ہوں یا شہر کی فلاح و بہبود، حاجی عبدالحمید سرہندی مرحوم ہمیشہ صفِ اوّل میں نظر آتے تھے۔ وہ خاموشی سے مدد کرنے پر یقین رکھتے تھے، کسی کی ضرورت جان کر خود آگے بڑھتے اور کبھی تشہیر کے خواہاں نہیں رہے۔ان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ وہ ہر طبقے میں یکساں مقبول تھے۔ امیر ہو یا غریب، تاجر ہو یا مزدور، ہر شخص ان کے اخلاق، خوش مزاجی اور خلوص کا معترف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی شہر بھر کی اہم سماجی، سیاسی اور تجارتی شخصیات ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی اور ان کی کمی کو شدت سے محسوس کرتی ہیں۔دو سال گزر جانے کے باوجود حاجی عبدالحمید سرہندی مرحوم کا ذکر آتے ہی آنکھیں نم اور دل اداس ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنے عمل سے شہر کی پہچان بن جاتے ہیں ٹوبہ ٹیک سنگھ ہمیشہ انہیں ایک محنتی تاجر، مخلص سماجی رہنما اور نیک دل انسان کے طور پر یاد رکھے گا دعا ہے کہ اللہ کریم حاجی عبدالحمید سرہندی مرحوم سمیت تمام امتِ مسلمہ کے مرحومین کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔آمین*









