میر خلیل الرحمٰن: تحریک پاکستان اور اردو صحافت کا روشن ستارہ 25 جنوری 1992 کو دنیائے صحافت کا ایک روشن ستارہ ہم سے بچھڑ گیا، لیکن ان کی روشنی آج بھی صحافت کے ہر میدان میں مشعل راہ ہے۔
تحریر محمد زاہد مجید انور
*تحریک پاکستان کے دوران اور بعد میں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والے صحافی اور ادارہ ساز میر خلیل الرحمٰن نے اُردو صحافت کو ایک نیا اسلوب عطا کیا۔ ان کی سچائی، سادگی اور درست و متوازن نقطہ نظر نے صحافت کو نہ صرف مستند بنایا بلکہ قارئین کے دلوں میں ایک مقام بھی پیدا کیا۔آزاد صحافت کا علمبردارقیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہونے والے میر خلیل الرحمٰن نے نامساعد حالات کے باوجود روزنامہ ’’جنگ‘‘ کی اشاعت شروع کی۔ ان کا مقصد واضح تھا: قارئین کو حقائق پر مبنی خبریں پہنچانا، بغیر کسی دباؤ یا خوف کے۔ انہوں نے غیر جانبداری اور حق و صداقت کا پرچم بلند کیا، اور آج بھی ان کے اصول صحافتی دنیا میں مشعل راہ ہیں۔ ’’جنگ‘‘: ایک ادارہ، ایک خاندان میر خلیل الرحمٰن نے ادارہ ’’جنگ‘‘ کو ایک خاندان کی طرح چلایا۔ چاہے اخبار کے کارکن ہوں یا اخبار فروش، ہر فرد ان کے نزدیک ایک اہم رکن تھا۔ ان کی قیادت میں ’’جنگ‘‘ نے برصغیر میں صحافت کو نئی رعنائی، طاقت اور اسلوب دیا۔ ان کا تخلیقی ذہن پرنٹنگ انڈسٹری میں انقلاب لانے والا تھا، اور انہوں نے صحافتی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے ہر بحران کا مقابلہ کیا۔ایک یادگار شخصیت میر خلیل الرحمٰن کی شخصیت بحرانوں کو سہنے والی، پرعزم اور پراثر تھی انہوں نے نہ صرف صحافت میں معیار قائم کیا بلکہ تحریک پاکستان کے دوران عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کے لگائے ہوئے پودے آج ایک تناور درخت بن چکے ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں جہاں بھی اردو بولی اور پڑھی جاتی ہے، وہاں کے قارئین کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں مشعل راہ برائے صحافت میر خلیل الرحمٰن نے جس صحافتی معیار اور اصول کو قائم کیا، وہ آج بھی ہر صحافی، طالب علم اور قارئین کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی خدمات نے اردو صحافت کو ایک نئی پہچان دی اور برصغیر میں صحافت کو متاثر کن اور معتبر بنایا۔یاد رکھیں، جہاں بھی سچائی، غیرجانبداری اور اصولوں کی پاسداری ہوگی، میر خلیل الرحمٰن کی روشنی آج بھی جگمگا رہی ہے۔*









