کمالیہ سے رجانہ تک ون وے روڈ: سینکڑوں جانیں بچانے کی اپیل
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*کمالیہ کے معروف سیاستدان اور رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں عوامی مسائل پر نہایت جرات مندانہ اور مدلل انداز میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایک دیرینہ اور سنگین مسئلہ ایوان کے سامنے رکھا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز سپیکر قومی اسمبلی کو مبارکباد دیتے ہوئے کیا اور کہا کہ آپ ایوان کو نہایت خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں، جس پر آپ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ریاض فتیانہ نے توجہ دلائی کہ موٹروے ایم تھری، موٹروے ایم فور اور نیشنل ہائی وے این فائیو تینوں وفاقی حکومت کی اہم شاہراہیں ہیں، تاہم ان تینوں کو آپس میں ملانے والی مرکزی سڑک، جسے ٹوبہ ٹیک سنگھ، کمالیہ، چیچہ وطنی روڈ کہا جاتا ہے، انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔ اس سڑک پر آئے روز ٹریفک حادثات معمول بن چکے ہیں اور اب تک سینکڑوں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جو حکومتی توجہ کی متقاضی ہیں۔انہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اس سڑک کے تین بڑے حصے ہیں۔ پہلے حصے، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے کمالیہ تک، پر رکن قومی اسمبلی جنید انوار کی کوششوں سے کام شروع ہو چکا ہے۔ دوسرے حصے، کمالیہ سے چیچہ وطنی تک، پر مقامی ایم پی اے اشو ریاض کی بھرپور جدوجہد کے باعث اس منصوبے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کر لیا گیا ہے۔ تاہم تیسرا اور نہایت اہم حصہ، کمالیہ سے رجانہ تک، تاحال نظر انداز چلا آ رہا ہے۔ریاض فتیانہ نے واضح کیا کہ یہ حصہ محض 14 سے 15 کلومیٹر پر مشتمل ہے، اگر وفاقی حکومت نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے ذریعے اسے فور لین ایکسپریس ہائی وے یا کم از کم ون وے روڈ میں تبدیل کر دے تو دن رات ہونے والے حادثات سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے اور سینکڑوں قیمتی جانیں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے تین اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال اور وہاڑی کے عوام براہِ راست مستفید ہوں گے، سفری سہولت میں بہتری آئے گی، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور علاقائی ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔قومی اسمبلی میں ریاض فتیانہ کی اس مدلل اور عوام دوست تقریر پر عوامی حلقوں کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے شہریوں، سماجی تنظیموں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کی جرات مندانہ آواز کو سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وفاقی حکومت عوام کے اس اہم مسئلے پر فوری اور عملی اقدامات کرے گی۔آخر میں رکن قومی اسمبلی ریاض فتیانہ نے سپیکر قومی اسمبلی کی وساطت سے وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ نیشنل ہائی وے کے ذریعے کمالیہ سے رجانہ تک اس اہم حصے کو فوری طور پر فور لین یا ون وے روڈ میں تبدیل کیا جائے تاکہ عوام کو محفوظ سفر کی سہولت میسر آ سکے اور قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے یہ کالم محض ایک تجویز نہیں بلکہ عوام کی آواز اور ایک اجتماعی مطالبہ ہے۔ اب یہ حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آواز کو سنجیدگی سے سنے اور عملی شکل دے*









