مظہرِ فکر، قلم، کردار اور سچ کی صحافت
تحریر: سلمان احمد قریشی
صحافت محض خبر رسانی کا نام نہیں، یہ سماج کے ضمیر سے مکالمہ ہےاور جب یہ مکالمہ سچائی، فکری گہرائی اور جراتِ اظہار کے ساتھ ہو تو وہ صرف صحافت نہیں رہتی بلکہ وہ حق کا مظہر، شعور کا مظہر اور سوال اٹھانے والی زندہ روایت کا بھی مظہر بن جاتی ہے۔انہی اوصاف کے حامل معروف کالم نگار اور سینئر صحافی مظہر برلاس کی اوکاڑہ آمد محض ایک سماجی تقریب نہیں تھی بلکہ فکری سطح پر صحافت کے تسلسل اور اس کے سماجی کردار کی یاددہانی تھی۔ سابق ایم این اے عارف چوہدری کی دعوت پر اوکاڑہ پہنچنے والے مظہر برلاس کا پرتپاک استقبال اس بات کا ثبوت تھا کہ سچی صحافت آج بھی قدر و منزلت رکھتی ہے۔عارف چوہدری کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیا گیا ظہرانہ، اوکاڑہ کے مقامی صحافیوں کی بھرپور شرکت اور خراجِ تحسین پیش کرنا یہ سب دراصل مظہر برلاس کی اس صحافتی زندگی کا اعتراف تھا جو دہائیوں پر محیط ہے اور جس میں نہ مفاد کی مصلحت غالب آئی، نہ طاقت کا خوف اپنا اثر دکھا سکا۔اوکاڑہ کے صحافیوں نے جس گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا وہ ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک نظریے کا استقبال تھا۔
گورنمنٹ کالج اوکاڑہ میں باریئنز المنائی ایسوسی ایشن کے صدرپروفیسرعبدالروف اور کالج کے پرنسپل پروفیسر علی حیدر ڈوگر کی جانب سے مظہر برلاس کا خیرمقدم ایک خوش آئند امر تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں تجربہ، علم اور نئی نسل آمنے سامنے تھے۔ مظہر برلاس کا کالج کے طلبہ سے خطاب محض ایک تقریر نہیں بلکہ صحافت کی عملی درسگاہ تھاجہاں الفاظ نہیں، تجربات بول رہے تھے۔انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ حیات جاودانی مشکلات کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں۔مشکلات کامیابی میں رکاوٹ نہیں آگے بڑھنے کے لیے ایک نیا راستہ ہوتی ہیں۔ کالم نگاری کے بارے انکا کہنا تھا کہ کالم نگاری صرف رائے دینا نہیں، بلکہ ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ ہر جملہ ایک سوال ہوتا ہے اور ہر سوال طاقتور کو جواب دہ بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ مظہر برلاس کے لہجے میں نہ خطابت کا شور تھا نہ مصنوعی دانشوری بلکہ وہ ٹھہراؤ تھا جو صرف ایسا شخص ہی لا سکتا ہے جس نے صحافت کو جیا ہو۔
قارئین کرام ! مظہر برلاس کا اوکاڑہ آنا محض ایک نامور شخصیت کی آمد نہیں تھی بلکہ ایک روایت کی آمد تھی۔یہ صرف ایک صحافی کا سفر نہیں تھا، یہ قلم کے وقار کا سفر تھا۔جب معروف کالم نگار اور سینئر صحافی جناب مظہر برلاس اوکاڑہ پہنچے تو یہ احساس شدت سے ابھرا کہ آج بھی کچھ نام ایسے ہیں جو خبر سے آگے بڑھ کر ضمیر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایسے نام جو وقتی سرخیوں کے نہیں بلکہ مستقل حوالوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ مظہر برلاس انہی حوالوں میں سے ایک مظہر ہیں۔انکی آمد محض ایک صحافتی یا سماجی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ اس اعتراف کی صورت تھی جو معاشرہ اپنے سچے قلمکاروں کو وقتاً فوقتاً دیتا ہے۔ اوکاڑہ کے صحافیوں نے ایک شخصیت کو نہیں بلکہ ایک نظریے کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔وہ نظریہ کہ صحافت طاقت کے سامنے جھکنے کا نہیں، سوال اٹھانے کا نام ہے۔آج بھی صحافت کا شعور زندہ ہے۔ وہ آنکھیں بھی موجود ہیں جو سچ کو پہچانتی ہیں اور وہ دل موجود ہیں جو حق گوئی کی قدر کرتے ہیں۔
گورنمنٹ کالج اوکاڑہ میں مظہر برلاس کی موجودگی ایک نہایت خوش آئند اور بامعنی عمل تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ماضی کا تجربہ، حال کا سوال اور مستقبل کی امیدایک ہی چھت تلے جمع تھے۔ تعلیمی اداروں میں ایسے صحافیوں کی موجودگی نئی نسل کے لیے محض حوصلہ افزائی نہیں بلکہ سمت کا تعین بھی ہوتی ہے۔
مظہر برلاس کا کالج کے طلبہ سے خطاب رسمی الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا۔ یہ صحافت کے اس سفر کی کہانی تھی جو سہولتوں سے نہیں، مشکلات سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ کالم نگاری کوئی جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ فکری ذمہ داری ہے۔ ہر لکھا ہوا لفظ ایک امانت ہے اور ہر شائع ہونے والا جملہ سماج پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایک کالم نگار کا اصل امتحان وہ وقت ہوتا ہے جب سچ بولنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔ مظہر برلاس کی گفتگو میں یہی تجربہ بول رہا تھاوہ تجربہ جو برسوں کی صحافتی جدوجہد، ادارہ جاتی دباؤ، اور سماجی تنقید کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ ان کے لہجے میں نہ تلخی تھی،نہ خودنمائی بلکہ وہ ٹھہراؤ تھا جو صرف سچ کے ساتھ طویل وابستگی سے پیدا ہوتا ہے۔
باریئنز المنائی ایسوسی ایشن اورکالج انتظامیہ کی جانب سے مظہر برلاس کو شیلڈ پیش کی گئی جو دراصل اس بات کی علامت تھی کہ علم کے مراکز آج بھی ان لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو قلم کو فروخت نہیں ہونے دیتے۔ یہ لمحہ طالب علموں کے لیے بھی سبق تھا کہ اصل کامیابی ایوارڈز سے زیادہ کردار کی مضبوطی میں ہوتی ہے۔
اس پورے پروگرام کے دوران لمحہ بہ لمحہ سماجی شخصیت مظہر ساہی کی معاونت اور تنظیمی کردار بھی قابلِ تحسین رہا۔ایسے افراد جو صرف اسٹیج پر نظرہی نہیں آتے بلکہ کسی بھی تقریب کی کامیابی میں ان کی محنت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور مہمان نوازی کے تمام تقاضے جس سلیقے سے نبھائے گئے وہ ایک سنجیدہ اور مہذب انتظام کی عکاسی کرتے تھے۔
اگر مظہر برلاس کی کالم نگاری کا تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو ایک بات نمایاں ہو کر سامنے آتی ہےوہ قاری کو حکم نہیں دیتے بلکہ مکالمہ کرتے ہیں۔
وہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان نہیں بنتے، عوامی شعور کے نمائندہ رہتے ہیں۔ان کے کالم میں سوال ہوتا ہے، دلیل ہوتی ہے، اور سب سے بڑھ کر اخلاقی جرات ہوتی ہے۔مظہر برلاس کا کمال یہ ہے کہ وہ پیچیدہ سیاسی معاملات کو بھی بغیر سطحی بنائےعام قاری کے لیے قابلِ فہم بنا دیتے ہیں۔ ان کی تحریر میں زبان کی شائستگی، جملے کی ساخت اور حوالوں کی صحت ایک ساتھ چلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کالم وقتی شور کا حصہ نہیں بنتا بلکہ ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے۔آج کے دور میں جہاں صحافت اکثر ریٹنگ، مفاد اور وابستگی کے دباؤ میں سانس لیتی نظر آتی ہے، وہاں مظہر برلاس جیسے قلمکار اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصولی صحافت اب بھی ممکن ہے۔بشرطیکہ نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو۔
اوکاڑہ میں مظہر برلاس کی موجودگی ایک واضح پیغام تھی
کہ صحافت ابھی زندہ ہے،سچ ابھی بے آواز نہیں ہوا اورنئی نسل کے لیے اب بھی ایسے چراغ موجود ہیں جن سے روشنی لی جا سکتی ہے۔آخر میں یہی لکھنا مناسب سمجھتے ہیں کہ مظہر برلاس محض ایک فرد نہیں، ایک مظہر ہیں،سچ کا مظہر،سوچ کا مظہر،
اور اس صحافت کا مظہر جو وقت کے سامنے نہیں، تاریخ کے سامنے جواب دہ ہوتی ہے۔









