چونڈہ محاذ غنڈہ گردی کا محاز

تحریر : زبیر احمد صدیقی

شہداء اسلام کی بستی چونڈہ محاز جوکہ پوری دنیاکی توجہ کا مرکز ہے علمی لحاظ سے ایک عظیم تاریخی شہر ہے جسمیں برصغیر کے دور سے مسلمانوں کا مشترکہ مرکز جامع مسجد انجمن تبلیغ السلام رہا گورنمنٹ ڈی سی ہائی سکول، گورنمنٹ اسلامیہ ھائی سکول تاریخی اور عظیم تعلیمی ادارے جہاں سے علم و تربیت حاصل کر کے سینکڑوں سٹوڈنٹس ا علی عہدوں پر فائز ہوئت اور ہیں۔ علم ،سیاست، کاروبار، بیوروکریسی، فوج، پولیس وکالت، اور دیگر شعبوں میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں عظیم نام پیدا ہوئے۔ چونڈہ کی وجہ شہرت 1965 کی جنگ میں تاریخی مثال رقم کی جسکو رہتی دنیا تک سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ تحصیل پسرور کا سب سے بڑا قصبہ تھا جوکہ آج شہر کی شکل اختیار کرگیا ہے جسکے طول و عرض سے کم و بیش 100 یا اس سے زائد دیہاتوں کے لوگ اپنی بنیادی ضروریات زندگی اشیاء خوردنوش، طبعی سہولیات، کاروباری معاملات،ذرائع ابلاغ و دیگر بنیادی سہولیات کے علاؤہ ایک محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش پچس سے تیس ہزار بچے و بچیاں مختلف مدارس سکولز و کالجز میں معیاری تعلیم کے حصول لئے چونڈہ کا رخ کرتے ہیں۔ کم از کم ایسے 10 ادارے ہیں جہاں کم و بیش 2 سے 3 ہزار یا اس سے زیادہ بچے زیر تعلیم ہیں۔ چونڈہ کے تعلیمی اداروں کا اس وقت سب سے بڑامسئلہ ان بچوں کی تربیت کا ہے ان تعلیمی اداروں میں تربیت کا مکمل فقدان ہے۔ ادارے ہزاروں کے حساب سے سٹوڈنٹس سے فیسز بھی لیں رہے ہیں لیکن اس کے برعکس اچھا تعلیم یافتہ کامیاب تربیت یافتہ انسان بننے کی بجائے بدمعاش غنڈے کیوں پیدا ہورہے ہیں ؟ جو بچے اپنے ہاتھ مین گھر سے قلم لئے نکلتے ہیں وہ گھر سے باہر انہیں ہاتھوں میں آتشیں اسلحہ ،خنجر، چاقو، کلہاڑی، پستول، ڈنڈے، سوٹے، لوہے کے آہنی راڈ لیے دھند ناتے ہوئے دہشت و خوف حراس کی علامت بنے پھرتے ہیں۔ تحصیل پسرور اور چونڈہ میں آئے روز غنڈہ گردی، فائرنگ ، اسلحہ کی نمائش، تشدد، تھڑے مارنے اور رستے روک کے لڑائی جھگڑے اورمار پیٹ کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ جہاں گزشتہ یفتہ میں دوران لڑائی کے پانچ بڑے واقعات رونما ہوئے جس میں مکمل طور پے تعلیمی اداروں کے(یونیفارم میں) سند یافتہ بدمعاش سر فہرست تھے۔ پانچ میں چار واقعات کی ویڈیوز وائرل ہوئی جن میں بلکل واضع طور پے اسلحہ کی نمائش، تشدد، لڑائی، گالم گلوچ، جان سے مارنے کی دھمکیاں کلہاڑیوں اور ڈنڈے سوٹوں کا بے دریغ استعمال دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ویڈیوز میں کم و بیش 5 سے 7 لڑکے شدید زخمی ہوئے۔ اور ان واقعات کی بابت تھانہ پھلورہ میں مقدمات کا اندراج ہو چکا ہے جبکہ بچوں کی لڑائی میں مار پیٹ اور تشدد کے واقع کے بعد بچوں سے ایکس ایل آئی کار چھیننے کا واقع پیش آیا جو بعد میں معززین کی مداخلت سے صلح کی صورت میں ختم ہوا۔
جہاں حکومت پنجاب اور سی ایم پنجاب میڈیم مریم نواز صاحبہ امن و امان کی صورتحال قائم کرنے کے دعوئے کرتے نظر آتی ہیں جہاں سی سی ڈی نے متعدد نامی گرامی بدمعاشوں، منشیات فروش، ڈکتیوں، بھتہ خوروں کرائے کے قاتلوں, خوف کی علامت بنے ہوئے سینکڑوں کرداروں کو نشان عبرت بنا دیا ہے وہیں تحصیل پسرور چونڈہ میں آئے روز ایسے واقعات یہی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ طلباء اور انکے پیچھے چھپے نام نہادکردار یا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پہنچ سے دور ہیں یا پھر سیالکوٹ کی یہ تحصیل پسرور چونڈہ شہر شاید پنجاب کی حدود سے باہر ہیں۔ آئے روز لڑائی جھگڑے کے واقعات میں نام نہاد خودساختہ طلباء تنظیمیں ہیں۔ آوارہ جتھوں کی شکل میں سر عام بدمعاشی اور غنڈی گردی کرکے شہر کا ماحول برباد کر رہی ہیں ۔ لڑائی کے متعدد واقعات میں گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں کے علاؤہ کچھ پرائیوٹ اداروں کے طلباء کے نام بھی سر فہرست ہیں۔ ابھی حال ہی میں بہت سی لڑائیاں تحصیل پسرور نواز شریف پارک چونڈہ وجیدوالی روڈ، سیٹھی ھاؤس تا یادگار چوک لاری اڈہ سے سول ہسپتال کی حدود یا پھر اسٹیشن چوک میں ہوتی ہیں۔ ان لڑائیوں میں طلباء کے علاؤہ کچھ پرائیویٹ سٹیک ہولڈرز کا نام بھی سر فہرست جن کی شہ پے ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان تمام تر معاملات میں 14 سال سے22 سال تک کے نوجوانوں کو ورغلا کر دھکیلا جاتا ہے، کسی کو دوستی کے نام پے، کسی کو تنظیم کے نام پے، کسی کو عزت کے نام پے، کسی کو اسلحہ کے شوق کی تکمیل پے اور کوئی اپنی بدمعاشی یا دہشت کے شوق سے ۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور والدین سے گزارش ہیکہ اسے معاملات پے سختی سے کنٹرول کیا جائے۔ اسکی کڑی نگرانی کی جائے،جس حد تک معاملات خطرناک ہو چکے ہیں خدا نہ کرے کے کوئی بڑا سانحہ رونما ہو۔ پھر اداروں کے مالکان، والدین کے پاس سوائے پچھتاوے کے کوئی آپشن نہ ہوگا۔
خدار را اپنے بچوں پے کڑی نظر رکھیں۔ انکی کمپنی پے پورا دھیان دیں۔ انکی سرگرمیوں کا غور سے جائزہ لیں۔ اور ان پے سختی رکھیں تا کہ کسی بڑے حادثے سے آپکا بچہ محفوظ رہ سکے۔ ان بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت آپکا فرض عین ہے۔ آپ اداروں کے اندر انکے تربیت پے مکمل توجہ دیں والدین روٹین میں انکے سکولز اور کالجز وزٹ کر کے انکی حاضری ، تعلیمی پراگریس و دیگر معاملات پے معلومات حاصل کریں۔ اور انکو معاشرے میں اچھا اور تعلیم یافتہ اور قانون پسند قابل شہری بنائیں۔
آخر میں سرکاری انتظامیہ سے گزارش ہیکہ ان لڑائیوں کے اصل کرداروں کا تعین کر کے انکو نشان عبرت بنایا جائے۔ اکثر کرداروں ہے متعدد اغواء، تشدد، لڑائی جھگڑے،مار پیٹ، فائرنگ، خوف وہراس، اقدام قتل، رستہ بلاک، اسلحہ، ہوائی فائرنگ، کے متعدد مقدمات درج ہیں۔لہذا خفیہ ایجنسیوں سے رپورٹ حاصل کر کے انکے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے جائے۔ تاکہ تحصیل پسرور ،چونڈہ کا ماحول پر سکون ہو۔
اور سکولز اور کالجز میں کم عمر نوجوانوں کی اصلاح کے لئے تربیتی سر گرمیوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ انکو ایسے معاملات میں نقصانات اور قانون کے گرفت اور سزاؤں کے بارے آگاہی دی جائے تاکہ یہ ایسے معاملات میں کسی کا سہولت کار یا خود مجرم بننے سے۔ بروقت گریز کریں۔ اور اپنی تعلیم پے مکمل توجہ دیں۔