کردار کشی کی نئی عدالت ۔۔۔۔سوشل میڈیا کا بے رحم زمانہ
فکرِ اعجاز
۔….
تحریر: ڈاکٹر اعجاز علی چشتی
۔……
کردار کشی کی نئی عدالت ۔۔۔۔سوشل میڈیا کا بے رحم زمانہ
۔۔۔۔۔۔
آج کا دور عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ یہاں کسی انسان کی برسوں کی محنت، عزت اور وقار کو چند لمحوں میں مٹی میں ملانا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔ ایک تصویر، ایک ویڈیو یا ایک پوسٹ — اور سوشل میڈیا کی عدالت فوراً لگ جاتی ہے۔ فیصلے بھی ہو جاتے ہیں اور سزائیں بھی سنائی جاتی ہیں، مگر افسوس کہ اس عدالت میں اکثر سچائی کو سننے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔
حالیہ دنوں جھنگ کے ڈی ای او لٹریسی عمران بلوچ کی ایک پرانی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تنقید، تبصروں اور الزامات کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ بہت سے لوگوں نے بغیر تحقیق کے اپنی رائے دینا شروع کر دی، جیسے فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہو۔ مگر شاید بہت کم لوگوں نے یہ سوچا کہ تصویر کے پیچھے حقیقت کیا ہے اور اسے پھیلانے کا مقصد کیا تھا۔
اگر کسی انسان کی نجی زندگی کی تصویر کو چوری کیا جائے، اسے سیاق و سباق سے ہٹا کر پھیلایا جائے اور پھر اس کی بنیاد پر اس کے کردار کو نشانہ بنایا جائے تو یہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی قدروں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
سوشل میڈیا یقیناً ایک بڑی طاقت ہے، مگر جب یہ طاقت ذمہ داری کے بغیر استعمال ہوتی ہے تو یہ انصاف کے بجائے تماشہ بن جاتی ہے۔ آج کچھ لوگ اسے اصلاح اور آگاہی کے بجائے کردار کشی، بلیک میلنگ اور ذاتی دشمنیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کی پردہ پوشی کرو، کسی کی عزت کی حفاظت کرو اور کسی کی کمزوری کو بازار کی زینت نہ بناؤ۔ مگر بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں کسی کی عزت اچھالنا آسان اور کسی کی عزت بچانا مشکل ہو گیا ہے۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ فکرِ اعجاز کے عنوان سے لکھی جانے والی تحریروں کا مقصد نہ کسی فرد کی تعریف کرنا ہوتا ہے اور نہ کسی کی تذلیل۔ یہ تحریریں ایک دلی درد اور فکری احساس کے ساتھ لکھی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد صرف معاشرے کے سامنے ایک آئینہ رکھنا ہوتا ہے تاکہ ہم اپنی اجتماعی سوچ اور رویوں کا جائزہ لے سکیں۔
مگر اس سارے واقعے کے بیچ ایک سوال ہم سب کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔
آئیں ذرا سوچیں…
اگر آج یہ طوفان کسی اور کے دروازے پر آیا ہے تو کل یہ ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتا ہے۔
آج کسی اور کی تصویر موضوعِ بحث ہے، کل شاید ہماری ہو۔
آج کسی اور کی عزت آزمائش میں ہے، کل شاید ہماری ہو۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو الزام اور تماشے کی منڈی بنانے کے بجائے انصاف، تحقیق اور ذمہ داری کا ذریعہ بنائیں۔ کیونکہ معاشرے کی اصل خوبصورتی دوسروں کی کمزوریوں کو اچھالنے میں نہیں بلکہ ایک دوسرے کی عزت بچانے میں ہے۔
آئیں… اس کی فکر کریں۔









