اسلام آباد وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات ،بجلی اور گیس پر عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ہو گا،پیٹرولیم اور پاور ڈویژن کے وزراء اور اعلی افسران اجلاس میں شریک ہوں گے۔وزیراعظم کو آج وزیراعظم کو ریلیف دینے کے طریقہ کار پر بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ لائف لائن صارفین کو زیادہ ریلیف ملنے کا امکان ہے جبکہ گھریلو، تجارتی اور صنعتوں کے لیے مختلف تجاویز تیار کی گئی ہیں۔بتایا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کی تجاویز وزیراعظم کے سامنے رکھی جائیں گی جبکہ تمام تر تجاویز کو آج کے اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔ذرائع کا مزید کہنا کہ معاشی ٹیم بھی وزیراعظم کو ممکنہ اقتصادی ریلف پر بریفنگ دے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 799 تک ہوگئی ہے۔ ہفتے کی رات 12بجے تک کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 630 تھی لیکن اب سندھ پنجاب اور گلگت میں مریضوں کی تعداد بڑھنے سے یہ تعداد 799 تک ہو گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز سندھ میں نئے مریض41، پنجاب میں 27 اور گلگت بلتستان میں 16 کی تصدیق ہوئی تھی۔ آج سندھ میں کورونا مریضوں کی کل تعداد352، پنجاب225، بلوچستان 104، خیبرپختونخواہ31، گلگت بلتستان71، اسلام 15 ، کشمیر میں ایک مریض کورونا سے متاثرہ ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث 6 اموات ہو چکی ہیں جب کہ پامچ افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ملک میں تاحال لاک ڈاؤن کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم لاک ڈائون نہیں کرسکتے، عوام خود کو قرنطینہ کرلیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ملک کو لاک ڈائو ن کرنے کی بحث چل رہی ہے، اس کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا مطلب ملک میں کرفیو لگانا ہے۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں ایسا کرسکتا ہوں مگر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ 25 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوں گے کہ یہ دو ہفتوں تک اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں۔